شاعری

بند دریچوں کے کمرے سے پروا یوں ٹکرائی ہے

بند دریچوں کے کمرے سے پروا یوں ٹکرائی ہے جیسے دل کے آنگن میں دکھیا نے تان لگائی ہے پیڑوں کی خاموشی سے بھی دل میرا گھبراتا ہے صحرا کی ویرانی دیکھ کے آنکھ مری بھر آئی ہے دل کے صحرا میں یادوں کے جھکڑ ایسے چلتے ہیں جیسے نین جھروکا بھی اس پریتم کی انگنائی ہے اپنے دل میں یادوں نے ...

مزید پڑھیے

جی میں آتا ہے کہ چل کر جنگلوں میں جا رہیں

جی میں آتا ہے کہ چل کر جنگلوں میں جا رہیں نت نئے موسم کے بھی ہم راہ وابستہ رہیں آتی جاتی رت کو دیکھیں اپنے چشم و گوش سے موسموں کے وار سہہ کر بھی یوں ہی زندہ رہیں پھول پھل پودے پرندے ہم دم و دم ساز ہوں ان میں بستے ہی بھلے لیکن نہ یوں تنہا رہیں شہر کے دیوار و در ہر اک سے ہیں نا ...

مزید پڑھیے

ستاروں کا جہاں ہے اور میں ہوں

ستاروں کا جہاں ہے اور میں ہوں خیال آسماں ہے اور میں ہوں نہ جانے کس طرف لے جائے کشتی شکستہ بادباں ہے اور میں ہوں مرا افسانہ سن کر کیا کرو گے غموں کی داستاں ہے اور میں ہوں رہائش مسئلہ بن کر کھڑی ہے شکستہ سا مکاں ہے اور میں ہوں قفس کی تیلیاں کہتی ہیں مجھ سے بہار گلستاں ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

اشکوں کے گہر یوں سر مژگاں بھی نہ تولیں

اشکوں کے گہر یوں سر مژگاں بھی نہ تولیں ان آنکھوں سے کہہ دو کہ ابھی راز نہ کھولیں تسکین دل و جاں کی تو نکلے کوئی صورت اس نیزۂ مژگاں کی انی دل چبھو لیں آنکھوں سے کریں کیا تنک آبی کی شکایت دل ہی کے لہو سے کبھی پلکوں کو بھگو لیں چاہت تو ہر اک بات سے ظاہر ہے اب ان کی ہر چند زباں سے نہ ...

مزید پڑھیے

موج خوں سر سے گزرتی ہے گزر جانے دو

موج خوں سر سے گزرتی ہے گزر جانے دو کہیں یہ گردش ایام ٹھہر جانے دو اٹھنے والی ہے کوئی دم میں ستاروں کی بساط اور کچھ دیر کا نشہ ہے اتر جانے دو راہ میں روک کے احوال نہ پوچھو ہم سے ابھی باقی ہے بہت اپنا سفر جانے دو ابھی ہنگام نہیں راہ میں دم لینے کا ابھی یہ قافلۂ اہل نظر جانے دو لب ...

مزید پڑھیے

تو طے ہوا نا کہ جب بھی لکھنا رتوں کے سارے عذاب لکھنا

تو طے ہوا نا کہ جب بھی لکھنا رتوں کے سارے عذاب لکھنا اجاڑ موسم میں تپتے صحرا کو آب لکھنا حباب لکھنا قرار جاں ہے تمہارا وعدہ کہ گھر پہنچ کر میں بھیج دوں گی میں منتظر ہوں تمہارے خط کا شکایتوں کا جواب لکھنا مجھے یقیں ہے نصیب میرا نہ ساتھ دے گا کہ تجربہ ہے سکون کو اضطراب کہنا ...

مزید پڑھیے

مٹ گئے ہائے مکیں اور مکان دہلی

مٹ گئے ہائے مکیں اور مکان دہلی نہ رہا نام کو بھی نام و نشان دہلی سہمے سہمے نہ رہیں کیونکہ مقیمان فلک کہ فلک ہے ہدف تیر فغان دہلی ہم تو انسان ہیں جی کیونکہ رہے بن روئے کہ فرشتے بھی ہوئے مرثیہ خوان دہلی جیسے فارس میں خلاصہ ہے زبان شیراز ویسی ہی ہند میں ہے پاک زبان دہلی دور سے ...

مزید پڑھیے

مصیبت سر سے ٹلتی جا رہی ہے

مصیبت سر سے ٹلتی جا رہی ہے ہماری عمر ڈھلتی جا رہی ہے کہاں ہے زندگی اب زندگی میں فقط اک نبض چلتی جا رہی ہے مسلسل بھاپ بن کر اڑ رہا ہوں مسلسل آگ جلتی جا رہی ہے عجب ہے سانحہ جینے کی خواہش مرے دل سے نکلتی جا رہی ہے خفا کیوں ہیں مرے حالات مجھ سے ہوا کیوں رخ بدلتی جا رہی ہے یہ سانسیں ...

مزید پڑھیے

نہ دیواریں ہیں اور نہ در پرانا

نہ دیواریں ہیں اور نہ در پرانا ابھی تک پھر بھی ہے یہ گھر پرانا ڈرا دیتا جگا دیتا ہے مجھ کو درون ذہن بیٹھا ڈر پرانا مراحل آخری تعلیم کے ہیں مری ماں نے نکالا زر پرانا تماشا پھر وہی امسال ہوگا وہی دستار ہوگی سر پرانا سجا ماتم کنار دشت مژگاں سنا قصہ وہ چشم تر پرانا اگر ہے دسترس ...

مزید پڑھیے

جو تری بندگی سے ملتا ہے

جو تری بندگی سے ملتا ہے لطف وہ کم کسی سے ملتا ہے ہے یہ کافی ترا مرا شجرہ ایک ہی آدمی سے ملتا ہے لاکھ برہم ہو وہ مگر یارو پھر بھی شائستگی سے ملتا ہے دن کو لگتا ہے دھوپ اس کا مزاج رات کو چاندنی سے ملتا ہے اب تو مجھ کو وہ میری رگ رگ میں دوڑتی سنسنی سے ملتا ہے ہوں مہ و مہر یا نجوم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 446 سے 4657