بند دریچوں کے کمرے سے پروا یوں ٹکرائی ہے
بند دریچوں کے کمرے سے پروا یوں ٹکرائی ہے جیسے دل کے آنگن میں دکھیا نے تان لگائی ہے پیڑوں کی خاموشی سے بھی دل میرا گھبراتا ہے صحرا کی ویرانی دیکھ کے آنکھ مری بھر آئی ہے دل کے صحرا میں یادوں کے جھکڑ ایسے چلتے ہیں جیسے نین جھروکا بھی اس پریتم کی انگنائی ہے اپنے دل میں یادوں نے ...