شاعری

پر نور جس کے حسن سے مدفن تھا کون تھا

پر نور جس کے حسن سے مدفن تھا کون تھا چہرہ یہ کس شہید کا روشن تھا کون تھا ٹھہرا گیا ہے لا کے جو منزل میں عشق کی کیا جانے رہنما تھا کہ رہزن تھا کون تھا توڑا تھا کس کے دل کو کھلونے کی طرح سے عاشق تمہارا جب کہ لڑکپن تھا کون تھا کس دل سے ہے خدائی میں ایجاد درد عشق روز ازل جو موجد شیون ...

مزید پڑھیے

عالم میں ہرے ہوں گے اشجار جو میں رویا

عالم میں ہرے ہوں گے اشجار جو میں رویا گلچیں نہیں سینچیں گے گل زار جو میں رویا برسے گا جو ابر آ کر کھل جائے گا دم بھر میں آنسو نہیں تھمنے کے اے یار جو میں رویا روؤگے جھروکے میں تم ہچکیاں لے لے کر اے یار کبھی زیر دیوار جو میں رویا زخمی ہوں تو ہونے دو کیوں یار بسوروں میں کیا بات رہی ...

مزید پڑھیے

تیر نظر سے چھد کے دل افگار ہی رہا

تیر نظر سے چھد کے دل افگار ہی رہا ناسور اس میں صورت سوفار ہی رہا دنیا سے ہے نرالی عدالت حسینوں کی فریاد جس نے کی وہ گنہ گار ہی رہا سودائیوں کی بھیڑ کوئی دم نہ کم ہوئی ہر وقت گھر میں یار کے بازار ہی رہا نرگس جو اس مسیح کی نظروں سے گر گئی اچھے نہ پھر ہوئے اسے آزار ہی رہا گل زار میں ...

مزید پڑھیے

تمام بوجھ کہاں خاک داں پہ پڑتا ہے

تمام بوجھ کہاں خاک داں پہ پڑتا ہے کبھی کبھی تو قدم آسماں پہ پڑتا ہے مجھے تو پیڑ کی چھاؤں نے روک رکھا ہے وگرنہ ہاتھ تو ابر رواں پہ پڑتا ہے یہ تیر یوں ہی نہیں دشمنوں تلک جاتے بدن کا سارا کھچاؤ کماں پہ پڑتا ہے تجھے زمین کے بارے میں علم ہے تو بتا اس آسمان کا سایہ کہاں پہ پڑتا ...

مزید پڑھیے

روشنی کے جھلملاتے سلسلے میں کون ہے

روشنی کے جھلملاتے سلسلے میں کون ہے رات کی کروٹ بتائے گی دئے میں کون ہے ٹھوکریں کھاتا ہوں اور پھر خود سے ٹکراتا ہوں میں ایسا بھی اس بار میرے راستے میں کون ہے دیکھنا پڑتی ہے خود ہی عکس کی صورت گری آئنہ کیسے بتائے آئنے میں کون ہے اپنے دامن میں کیا کرتا ہے سب کی پرورش دیکھتا کب ہے ...

مزید پڑھیے

گزرتی ہے جو ہم پر رفتگاں ہم کچھ نہیں کہتے

گزرتی ہے جو ہم پر رفتگاں ہم کچھ نہیں کہتے تمہیں آ کر سنائیں گے یہاں ہم کچھ نہیں کرتے ہماری خامشی کے بھی کئی مفہوم ہوتے ہیں وہاں بھی کچھ تو کہتے ہیں جہاں ہم کچھ نہیں کہتے زمیں کے دکھ سناتے ہیں زمیں کی بات کرتے ہیں کبھی اپنے لیے اے آسماں ہم کچھ نہیں کہتے کبھی دل سے گزرتی ہو کہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی ٹھوکر سے جو اک وار کیا ہے میں نے

اپنی ٹھوکر سے جو اک وار کیا ہے میں نے دیکھ کیا راستہ ہموار کیا ہے میں نے بھربھرے جسم کی مٹی نے بہت خوار کیا اپنے ہونے پہ جب اصرار کیا ہے میں نے میں یوں ہی آیا نہیں باغ عدن کی جانب ایک صحرا تھا جسے پار کیا ہے میں نے اے شب خواب یہ ہنگام تحیر کیا ہے خود کو گر نیند سے بیدار کیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

تب اس نے مری چھاؤں کا احسان لیا ہے

تب اس نے مری چھاؤں کا احسان لیا ہے جب مجھ کو پرندوں نے شجر مان لیا ہے ڈرتا ہوں زمیں اس کا برا مان نہ جائے تھوڑا سا فلک سر پہ اگر تان لیا ہے آوارہ مزاجی کی تسلی نہیں ہوتی میں نے تو ترا سارا جہاں چھان لیا ہے بس حکم ملا اور نکل آئے وہاں سے چلتے ہوئے عجلت میں ہی سامان لیا ہے یہ زیست ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے نقش پا سے ایسا سلسلہ چراغ تھا

یہ کس کے نقش پا سے ایسا سلسلہ چراغ تھا کہ مجھ کو یوں لگا کہ سارا راستہ چراغ تھا ذرا سی دیر میں ہی خد و خال شب بدل گئے نہ شکل کوئی چاند تھی نہ آئنہ چراغ تھا سوال یہ ہے روشنی وہاں پہ روک دی گئی جہاں پہ ہر کسی کے ہاتھ میں نیا چراغ تھا بہت سے ہاتھ صبح کی دعا ہی کرتے رہ گئے میں پر امید ...

مزید پڑھیے

چل مرے ساتھ ذرا ہو کے نجف آتے ہیں

چل مرے ساتھ ذرا ہو کے نجف آتے ہیں یہ وہ بستی ہے جہاں اہل شرف آتے ہیں تیری آواز پہ دوڑے ہوئے آئیں گے ہم جیسے اذان پہ مسجد کی طرف آتے ہیں تو ذرا تال بڑھا کر کوئی مصرع تو اٹھا کس طرح دیکھنا ہم دست بدف آتے ہیں تیری آنکھیں ہیں چھلکتے ہوئے جاموں کی شراب تو بلائے تو بصد شوق و شغف آتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4463 سے 4657