شاعری

وہ کسی اور سمت جاتے رہے

وہ کسی اور سمت جاتے رہے ہم فقط اپنا دل جلاتے رہے اس کی انگڑائی کیا قیامت تھی ہم نئے زاویے بناتے رہے ہر طرف رات کا نظارہ تھا دل بنا کر دیا جلاتے رہے اس کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ ہم پتھروں کو غزل سناتے رہے ہم فقط زاہدان خشک نہیں بات بگڑی ہوئی بناتے رہے اس کی آنکھیں تھیں عام سی ...

مزید پڑھیے

عالم ذات میں جھانکو کوئی کب اچھا ہے

عالم ذات میں جھانکو کوئی کب اچھا ہے دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ سب اچھا ہے رونے لگتا ہوں تو آتے ہیں دلاسے دینے شعر پڑھتا ہوں تو کہتے ہیں عجب اچھا ہے جانتا ہوں تو کسی اور سے مل کر خوش ہے چل ترے پیار میں مرنے کا سبب اچھا ہے جب فقیروں کی بھی کردار کشی کی تو نے کیسے مانے گا کوئی تیرا ...

مزید پڑھیے

ان کی ہر بات ہی اردو میں سند ہے حد ہے

ان کی ہر بات ہی اردو میں سند ہے حد ہے میرا لکھا ہوا ہر لفظ ہی رد ہے حد ہے نذر تشکیک نہ کر پاک نگاہی کو مری تجھ سے ملنا بھی کوئی خواہش بد ہے حد ہے ہر نئے پنچھی کو اڑنے نہیں دیتی دنیا ہر کسی دل میں بھرا کینہ و کد ہے حد ہے مجھ کو دیکھا جو سر بزم تو منہ پھیر لیا اپنے وعدوں سے یہ اعراض ...

مزید پڑھیے

خود کو ہر دن نئی تربت پہ کھڑا پاتے ہیں

خود کو ہر دن نئی تربت پہ کھڑا پاتے ہیں اشک خوں رنگ بھی اب ختم ہوئے چاہتے ہیں بزم ہستی میں قیامت کا سماں لگتا ہے لوگ اٹھتے ہیں اور اٹھتے ہی چلے جاتے ہیں دل کو ہے تاب و تواں اور نہ آنکھوں کو مجال قدم اٹھتے ہیں تو پیچھے کی طرف آتے ہیں بات بنتی نظر آتی نہیں اس عالم میں اب کسی اور ہی ...

مزید پڑھیے

یہ طرز تکلم ہے ترا ہم نفساں سے

یہ طرز تکلم ہے ترا ہم نفساں سے تو دیکھ رہا ہے نظر سود و زیاں سے تحقیر مری اس سے سوا بزم میں کیا ہو میں تجھ سے مخاطب تو فلاں ابن فلاں سے کیا معرکۂ طور بپا ہونے لگا ہے اک شعلہ لپکتا ہے مرے قلب تپاں سے مے خانۂ اجمیر سے وہ رنگ ہے مفقود اب شکوہ مجھے کچھ بھی نہیں پیر مغاں سے فرہاد کی ...

مزید پڑھیے

میں تخیل کی صلیبوں پہ جو مصلوب ہوا

میں تخیل کی صلیبوں پہ جو مصلوب ہوا پھر کہیں جا کے ذرا صاحب اسلوب ہوا جرعۂ اشک پیا مست ہوا رقص کیا ایسا کڑوا نہ مری جاں کوئی مشروب ہوا تیرے ہرجائی پنے کا یہ ہوا رد عمل مجھے محبوب ملا ہے نہ تجھے خوب ہوا بر سر طور بھی تو نے یہ تحیر بانٹا دید کی جوت جگائی وہیں محجوب ہوا لذت وصل ...

مزید پڑھیے

ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھے

ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھے کبھی تھا شوق گل ہم کو کبھی دل ہم بھی رکھتے تھے قضا بھی تیرے ہاتھوں چاہتے تھے تجھ کو کیا کیجے نہیں تو تیغ دم کے ساتھ قاتل ہم بھی رکھتے تھے خطائے عشق پر ہم پر نہ اتنا بھی ستم ڈھاؤ اگر چاہا تو چاہا کیا ہوا دل ہم بھی رکھتے تھے خدا کو علم ہے ...

مزید پڑھیے

فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنا

فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنا رنگ کیا دیکھیے دکھلاتا ہے سودا اپنا عشق میں ہم جو مٹاتے ہیں کسی کو کیا کام جان اپنی ہے دل اپنا ہے کلیجہ اپنا آہ ہم کرتے ہیں اے یار کے محفل والو دونوں ہاتھوں سے جگر تھام لو اپنا اپنا پوچھتے کیا ہو جدائی میں جو گزری گزری تم کو معلوم ہے سب حال ...

مزید پڑھیے

تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں

تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیں اجل رسیدہ ہیں مرنے کو آئے بیٹھے ہیں کرو ہماری بھی خاطر نکل کے پردے سے کہ میہماں ہیں تمہارے بلائے بیٹھے ہیں ہماری بغلوں میں بوئے مراد آتی ہے تمہارے پہلو میں ہم جب سے آئے بیٹھے ہیں دیا جو عطر انہیں عاشقوں کو مٹی کا کہا کہ ہم نہ ملیں گے نہائے ...

مزید پڑھیے

ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں

ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں لیلیٰ کے ناپسند ہو محمل تو کیا کروں ٹھہرے نہ خوں بہا سوئے قاتل تو کیا کروں حق ہو جو خود بخود مرا باطل تو کیا کروں اک رنگ کو جہاں میں نہیں کوئی مانتا ہر رنگ میں رہوں نہ میں شامل تو یا کروں پسواؤں بے گناہ جو دل کو حنا کے ساتھ پرسان حال ہو کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4464 سے 4657