کوئی اچھی سی غزل کانوں میں میرے گھول دے
کوئی اچھی سی غزل کانوں میں میرے گھول دے قید تنہائی میں ہوں میں مجھ کو آ کر کھول دے یہ تناؤ جسم کا بڑھنے نہیں دے گا تجھے چست پیراہن میں تو اپنے ذرا سا جھول دے ایک لڑکی جل رہی ہے چلچلاتی دھوپ میں کوئی بادل آ کے اس پر اپنی چھتری کھول دے راہ تکتے جسم کی مجلس میں صدیاں ہو گئیں جھانک ...