شاعری

کوئی اچھی سی غزل کانوں میں میرے گھول دے

کوئی اچھی سی غزل کانوں میں میرے گھول دے قید تنہائی میں ہوں میں مجھ کو آ کر کھول دے یہ تناؤ جسم کا بڑھنے نہیں دے گا تجھے چست پیراہن میں تو اپنے ذرا سا جھول دے ایک لڑکی جل رہی ہے چلچلاتی دھوپ میں کوئی بادل آ کے اس پر اپنی چھتری کھول دے راہ تکتے جسم کی مجلس میں صدیاں ہو گئیں جھانک ...

مزید پڑھیے

جو دل میں ہے وہی باہر دکھائی دیتا ہے

جو دل میں ہے وہی باہر دکھائی دیتا ہے اب آر پار یہ پتھر دکھائی دیتا ہے جو اپنے آپ سے لڑنے کو بڑھتا ہے آگے لہو میں اپنے وہی تر دکھائی دیتا ہے تمام خلق کو پتھر بنا گیا کوئی مجھے یہ خواب اب اکثر دکھائی دیتا ہے زمین ساتھ مرا چھوڑتی ہے جب تو فلک جھکا ہو مرے سر پر دکھائی دیتا ہے

مزید پڑھیے

جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا

جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا یار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھا اس نے کب برخاست اے دل محفل معراج کی کس سے پوچھوں رات کم تھی یا سوا تھی میں نہ تھا میں تڑپ کر مر گیا دیکھا نہ اس نے جھانک کر اس ستم گر کو عزیز اپنی حیا تھی میں نہ تھا وعدہ لے لیتا کہ کھلوانہ نہ مجھ ...

مزید پڑھیے

لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے

لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے گل داغ تمنا لوٹ لائے جس کا جی چاہے چراغ یاس و حسرت ہم ہیں محفل میں حسینوں کی جلائے جس کا جی چاہے بجھائے جس کا جی چاہے کسی معشوق کی کوئی خطا میں نے نہیں کی ہے ستانے کو زبردستی ستائے جس کا جی چاہے بحل شوق شہادت میں کیا ہے ہم نے خون اپنا ہمارے ...

مزید پڑھیے

عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے

عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے نا گفتنی ہے حال مرا کچھ نہ پوچھئے کیا درد عشق کا ہے مزا کچھ نہ پوچھئے کہتا ہے دل کسی سے دوا کچھ نہ پوچھئے محشر کے دغدغے کا میں احوال کیا کہوں ہنگامہ جو ہوا سو ہوا کچھ نہ پوچھئے جب پوچھئے تو پوچھئے کیا گزری عشق میں ہم سے تو اور اس کے سوا کچھ ...

مزید پڑھیے

جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوا

جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوا زمانے بھر کا یرش مجھ پہ چار سو سے ہوا کہا اشاروں سے میں نے کہ تم پہ مرتا ہوں جو نطق بند مرا ان کی گفتگو سے ہوا کسی کو بھی نہ ہوس تھی حلال ہونے کی رواج شوق شہادت مرے گلو سے ہوا جدھر نگاہ کی جلوہ ترا نظر آیا کمال کشف مجھے تیری آرزو سے ہوا کھلا نہ ...

مزید پڑھیے

ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیا

ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیا رہ عشق سے پھر نہ ہٹائے قدم رہے محو ترے تجھے پیار کیا ترے شوق میں دل کی تباہی ہوئی ترے ذوق کی اس پہ گواہی ہوئی کوئی دم بھی نہ لینے دیا مجھے دم مجھے دشمن صبر و قرار کیا گئی جاں قفس میں برائے چمن چلی لے کے جہاں سے ہوائے چمن کبھی ...

مزید پڑھیے

جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا

جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا آنکھوں میں پھر رہا ہے مرقع نجات کا مالک ہی کے سخن میں تلون جو پائیے کہئے یقین لائیے پھر کس کی بات کا دفتر ہماری عمر کا دیکھو گے جب کبھی فوراً اسے کرو گے مرقع نجات کا الفت میں مر مٹے ہیں تو پوچھے ہی جائیں گے اک روز لطف اٹھائیں گے اس واردات کا سرخی ...

مزید پڑھیے

سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے

سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے یہی کرشمے ہوا کیے ہیں یہی کرشمے ہوا کریں گے ہمیں جو بے جرم پیستے ہو یہ جانتے ہو کہ کیا کریں گے خدا نے چاہا تو سرمہ ہو کر تمہاری آنکھوں میں جا کریں گے نہ رہنے دیں گے کبھی وہ باہم تپاک دیکھیں گے ان میں جس دم بدن سے خارج کریں گے جاں ...

مزید پڑھیے

ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیں

ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیں بے خبر ہیں وہ زمانے کی خبر کچھ بھی نہیں دھوم ہی دھوم تھی مدفن کی مگر کچھ بھی نہیں خاک اس گھر میں بسر ہوگی یہ گھر کچھ بھی نہیں ہائے افسوس ہوئی کون سی صحبت برخاست شب کو معراج میں تھے وقت سحر کچھ بھی نہیں کہہ رہی ہے یہ مرے دل سے محبت اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4462 سے 4657