شاعری

میزان واقعات میں تولا نہیں گیا

میزان واقعات میں تولا نہیں گیا اتنا وہ نا سپاس تھا لکھا نہیں گیا خوشبو کی آرزو میں سزا قید کی ہوئی صحرا اٹھا کے لائے تو پوچھا نہیں گیا یوں بھی میں اپنے بارے میں کچھ لکھ نہیں سکا لفظوں کا شور ایسا تھا سوچا نہیں گیا دونوں کو فرط شوق نے لب بستہ کر دیا وہ چپ رہا تو ہم سے بھی بولا ...

مزید پڑھیے

ایک عالم پہ بار ہیں ہم لوگ

ایک عالم پہ بار ہیں ہم لوگ عادتاً سوگوار ہیں ہم لوگ گردش پا جنوں بڑھاتی ہے سنگ رہ کی پکار ہیں ہم لوگ پچھلی سب رنجشوں کو بھول بھی جا اب ترے غم گسار ہیں ہم لوگ جانتے ہیں ہنر محبت کا اہل دل میں شمار ہیں ہم لوگ اب ہمیں لوگ ہنس کے ملتے ہیں اب بہت سازگار ہیں ہم لوگ ہم نے مفہوم کو ...

مزید پڑھیے

زرد چہروں پہ شادمانی دے

زرد چہروں پہ شادمانی دے حرف بے نام کو کہانی دے ریزہ ریزہ بکھرتا جاتا ہوں مجھ کو میری کوئی نشانی دے خوف ڈس جائے گا مکینوں کو لفظ تریاک کو معانی دے اے شراب طہور کے مالک پیاسے لوگوں کو سادہ پانی دے ساری بستی کو مت جلا مولا بجلیوں کو مری نشانی دے جن کو ہجرت نے مار ڈالا ہے ان کو ...

مزید پڑھیے

تمہاری تشنہ نگاہی کا احترام کریں

تمہاری تشنہ نگاہی کا احترام کریں فرات دشت تمنا تمہارے نام کریں یہ ہجر ان کو ملا ہے انہی کی خواہش پر اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں تمہاری بزم میں کچھ بھی سمجھ نہیں آتا کسے اشارہ کریں اور کسے سلام کریں بہت ضروری ہے یہ دھوپ ٹالنے کے لئے شجر لگا کے ترے فلسفے کو عام ...

مزید پڑھیے

زخم کو مات کیوں نہیں کرتے

زخم کو مات کیوں نہیں کرتے درد خیرات کیوں نہیں کرتے راستے سائیں سائیں کرتے ہیں راستے بات کیوں نہیں کرتے پیار کرتے ہو پاگلوں کی طرح حسب اوقات کیوں نہیں کرتے الٹی سیدھی وضاحتیں کیا ہیں سوچ کر بات کیوں نہیں کرتے اب ملاقات کرنا آساں ہے اب ملاقات کیوں نہیں کرتے میں تمہیں جیتنے ...

مزید پڑھیے

محبت کو ریا کی قید سے آزاد کرنا ہے

محبت کو ریا کی قید سے آزاد کرنا ہے ہمیں پھر آرزؤں کا نگر آباد کرنا ہے شکست فاش دینی ہے من و تو کے رویوں کو مراسم کی بحالی کا ہنر ایجاد کرنا ہے یہ کیا جبر تعلق ہے کہ پھر تیرے حوالے سے کسی کو بھول جانا ہے کسی کو یاد رکھنا ہے گزشتہ عہد میں بھی جرم تھا یہ کار حق گوئی ہماری نسل کو بھی ...

مزید پڑھیے

وقت رکھتا ہے جو سنبھال کے لوگ

وقت رکھتا ہے جو سنبھال کے لوگ ڈھونڈ کر لا وہی کمال کے لوگ تو نے دیکھا جنوں کے میلے میں کتنے شیدائی تھے دھمال کے لوگ کاش مر جائے تو عروج میں ہی منتظر ہیں ترے زوال کے لوگ مر گئے آپ گھپ اندھیرے میں چاند تیری طرف اچھال کے لوگ یاد کی خشک جھیل میں اکثر بیٹھے رہتے ہیں پاؤں ڈال کے ...

مزید پڑھیے

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں او وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں آرزوؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ...

مزید پڑھیے

تم اور فریب کھاؤ بیان رقیب سے

تم اور فریب کھاؤ بیان رقیب سے تم سے تو کم گلہ ہے زیادہ نصیب سے گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے برباد دل کا آخری سرمایہ تھی امید وہ بھی تو تم نے چھین لیا مجھ غریب سے دھندلا چلی نگاہ دم واپسیں ہے اب آ پاس آ کے دیکھ لوں تجھ کو قریب سے

مزید پڑھیے

چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی

چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی خوش بو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی اللہ رکھے اس کا سلامت غرور حسن آنکھوں کو جس نے دی ہے سزا انتظار کی گلشن میں دیکھ کر مرے مست شباب کو شرمائی جاری ہے جوانی بہار کی اے میرے دل کے چین مرے دل کی روشنی آ اور صبح کر دے شب انتظار کی جرأت تو دیکھئے گا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4460 سے 4657