رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی
رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی آنسو بہائے چار طبیعت سنبھل گئی میں نے ترس ترس کے گزاری ہے ساری عمر میری نہ ہوگی جان جو حسرت نکل گئی بے چین ہوں میں جب سے نہیں دل لگی کہیں وہ درد کیا گیا کہ مرے دل کی کل گئی کہتا ہے چارہ گر کہ نہ پائے گا اندمال اچھا ہوا کہ زخم کی صورت بدل گئی اے ...