شاعری

رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی

رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی آنسو بہائے چار طبیعت سنبھل گئی میں نے ترس ترس کے گزاری ہے ساری عمر میری نہ ہوگی جان جو حسرت نکل گئی بے چین ہوں میں جب سے نہیں دل لگی کہیں وہ درد کیا گیا کہ مرے دل کی کل گئی کہتا ہے چارہ گر کہ نہ پائے گا اندمال اچھا ہوا کہ زخم کی صورت بدل گئی اے ...

مزید پڑھیے

جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھا

جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھا اس دیکھنے والے کا کلیجہ نہیں دیکھا اف اف وہ اچٹتی سی نگاہ غلط انداز اس طرح سے دیکھا ہے کہ گویا نہیں دیکھا جس گل کو یہ سب ڈھونڈتی پھرتی ہیں ہوائیں تو نے تو اسے نرگس شہلا نہیں دیکھا دم آنکھوں میں اٹکا ہے خدا کے لیے آؤ پھر یہ نہ گلہ ہو مرا ...

مزید پڑھیے

ان کے فراق نے مجھے اچھا صلہ دیا

ان کے فراق نے مجھے اچھا صلہ دیا جو دکھ نہیں رہا تھا وہ سب کچھ دکھا دیا پہلے لگی نسیم سحر مژدۂ وصال اس جھونکے نے پھر آنکھوں سے دریا بہا دیا اک خواب مشکلات میں ہوتا ہے ساتھ ساتھ اک خواب نے حیات کا ہر غم بھلا دیا میں سوچتا رہا کہ کروں کیسے لب کشائی اشکوں نے ترجمانی کی دکھڑا سنا ...

مزید پڑھیے

دل کے گھاؤ بھی کام آئیں مجھے

دل کے گھاؤ بھی کام آئیں مجھے دیکھ کر لوگ مسکرائیں مجھے وہ ہی دنیا وہی پرانا پن یا خدا کچھ نیا دکھائیں مجھے لوٹ آؤں گا سب بھلا دوں گا سرسری سا اگر بلائیں مجھے با وضو بزم یار میں جاؤں آیت وصل گر سنائیں مجھے بڑی مشکل سے آ کے بیٹھا ہوں درد اٹھتے ہیں مت اٹھائیں مجھے آنکھ رونے کا ...

مزید پڑھیے

تیرے بے ربط بیانات سے خوف آتا ہے

تیرے بے ربط بیانات سے خوف آتا ہے مجھ کو اب شہر کے حالات سے خوف آتا ہے اول اول میں سمجھتا تھا مسیحا تجھ کو منصفا اب تری ہر بات سے خوف آتا ہے ہم جنوں خیز مزاجوں کو نہیں تاب شعور واعظ شہر کے خطبات سے خوف آتا ہے ہاں مجھے گوشہ نشینی سے بہت الفت تھی اب مگر شورش جذبات سے خوف آتا ...

مزید پڑھیے

وقت سے آگے نکلنا چاہیے

وقت سے آگے نکلنا چاہیے ہم کو اب پانی پہ چلنا چاہیے اس سے آگے زندگی آسان ہے گرنے والوں کو سنبھلنا چاہیے آنکھ دشت آرزو ہو جائے تو خواب کو دریا میں پلنا چاہیے عام ہو کچھ تو یہ کرب آگہی زخم سے چشمہ ابلنا چاہیے وہ سنبھل کر دیکھتا ہے آئنہ آئنے کو بھی سنبھلنا چاہیے دھوپ میں ہو برف ...

مزید پڑھیے

رتجگوں کی سلطنت تسخیر کر

رتجگوں کی سلطنت تسخیر کر کچھ دئے کا نام بھی تحریر کر ہے حصار ذات کے باہر شکست تو مرے اندر مجھے تعمیر کر فرقتوں کا زہر مجھ کو پچ گیا گردش دوراں مری توقیر کر یا بدن کی قید سے آزاد کر یا کسی غم سے مجھے زنجیر کر خواب آنکھوں میں اگر رکھے ہیں تو پھر ہتھیلی پر بھی کچھ تحریر کر کچھ ...

مزید پڑھیے

حالات مرے دل کو لگانے نہیں دیتے

حالات مرے دل کو لگانے نہیں دیتے آنکھوں میں ترے خواب سجانے نہیں دیتے ظلمت کے پجاری تو بہت تنگ نظر ہیں جشن شب تاریک منانے نہیں دیتے آنکھوں پہ تو بالکل ہی کوئی بس نہیں چلتا ہم خود کو تری بزم میں جانے نہیں دیتے جنت کی دعائیں مجھے دیتے ہیں سبھی لوگ اس عہد میں جینے کے بہانے نہیں ...

مزید پڑھیے

نہیں کچھ مسئلہ ہم کو گھروں کا

نہیں کچھ مسئلہ ہم کو گھروں کا بہت دشوار ہے بسنا دلوں کا اسے کہنا مجھے ایجاد کر لے مداوا ہوں میں اس کے سب دکھوں کا تمہارے جال لے کر اڑ رہا ہوں کرشمہ ہے مرے ٹوٹے پروں کا تمہارے بعد بھی تنہا نہیں ہوں لگا ہے ایک میلہ رتجگوں کا تمہاری آنکھ کا موتی ہے نادر ہمارا دل بھی تاجر ہے نگوں ...

مزید پڑھیے

خامشی میں ہی لا جواب نہ تھا

خامشی میں ہی لا جواب نہ تھا مسکراہٹ کا بھی حساب نہ تھا میں اسے حرف حرف پڑھتا گیا وہ اگرچہ کھلی کتاب نہ تھا ایک مدت سے سو رہے ہیں لوگ پھر بھی آنکھوں میں کوئی خواب نہ تھا جھیل میں رات بھر تھا کیا رقصاں تیرا پیکر تو زیر آب نہ تھا مرنے والوں کی تھی جزا کی وعید جینے والوں کا احتساب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4459 سے 4657