شاعری

کھلی آنکھوں میں در آنے سے پہلے

کھلی آنکھوں میں در آنے سے پہلے نظر آؤ نظر آنے سے پہلے نہیں تھا مجھ کو زعم پارسائی کوئی الزام سر آنے سے پہلے ہمیں در پیش تھی نقل مکانی ترا حکم سفر آنے سے پہلے گلے ملتی ہے مجھ سے بے گھری بھی گلی میں روز گھر آنے سے پہلے ہوا کرتے ہیں رستے بھی رکاوٹ گزر جا رہ گزر آنے سے پہلے نظر ...

مزید پڑھیے

کسی نشاں سے علامت سے یا سند سے نہ ہو

کسی نشاں سے علامت سے یا سند سے نہ ہو اگر میں ہوں تو یہ ہونا بھی خال و خد سے نہ ہو میں ایک ایسے زمانے میں بسنا چاہتا ہوں زمانہ جس کا تعلق ازل ابد سے نہ ہو مرے عدو وہ حقیقت بھی کیا حقیقت ہے ثبوت جس کا میسر اسی کے رد سے نہ ہو اسی لیے تو میں رکھتا ہوں خوشبوؤں سا مزاج میں چاہتا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

ممکن ہے شے وہی ہو مگر ہو بہ ہو نہ ہو

ممکن ہے شے وہی ہو مگر ہو بہ ہو نہ ہو ریگ رواں بھی دیکھ کہیں آب جو نہ ہو قائم اسی تضاد کے دم سے ہے کائنات میں آرزو ہوں جس کی مری آرزو نہ ہو منظر بدل بدل کے بھی دیکھا ہے بارہا جو زخم اب ہے آنکھ پہ شاید رفو نہ ہو سہتا رہا ہوں ایک تسلسل سے اس لئے یہ ٹوٹ پھوٹ ہی مری وجہ نمو نہ ہو میں ...

مزید پڑھیے

تو اپنے مرتبے کی شان رکھ دے

تو اپنے مرتبے کی شان رکھ دے ضمیر اپنا اٹھا لے جان رکھ دے کہانی پھونک دے عنوان رکھ دے مرے قاتل تری پہچان رکھ دے اٹھا مت میرا لاشہ اپنے سر پر تباہی کا ہے یہ سامان رکھ دے مشقت کھینچ لے فاقے کی سو جا رذالت جس میں ہو وہ نان رکھ دے کسی کم ظرف سے لقمہ نہ لینا اگرچہ اپنا دسترخوان رکھ ...

مزید پڑھیے

بھنور کشتی ڈبوتا ہے سمندر کچھ نہیں کہتا

بھنور کشتی ڈبوتا ہے سمندر کچھ نہیں کہتا وہ ہونے دیتا ہے سب کچھ مقدر کچھ نہیں کہتا لبوں کو مصلحت سے بند ہی رکھتا ہے یہ ظالم ادھر جلتے ہیں گھر اور میرا رہبر کچھ نہیں کہتا گداگر چار پیسے پا کے اونچا بولتا ہے اب زر و دینار رکھ کر بھی تونگر کچھ نہیں کہتا ثمر تک ہاتھ نہ پہنچے تو بونا ...

مزید پڑھیے

آندھیوں کو پتہ چلا کیسے

آندھیوں کو پتہ چلا کیسے گھر کا چھپر ترے اڑا کیسے کس نے ان بجلیوں کو دعوت دی آشیاں تیرا ہی جلا کیسے جب ہوا خود ترے مخالف تھی پھر دیا تیرا بجھ گیا کیسے بھیڑیا میمنے کو لے آ چکا سگ یہ سب دیکھتا رہا کیسے رک گیا تھا نظام ہستی جب حادثہ پھر بھلا ہوا کیسے کس کا الزام تیرے سر ہے ...

مزید پڑھیے

سراپا مہربانی ہو گیا کیا

سراپا مہربانی ہو گیا کیا فرشتہ آسمانی ہو گیا کیا بہایا جا رہا ہے روز اس کو ہمارا خون پانی ہو گیا کیا مرا لاشہ اٹھا کے سر پہ اپنے ترا پتہ بھی پانی ہو گیا کیا مرا بھائی لئے پھرتا ہے خنجر اسیر بد گمانی ہو گیا کیا مہرباں ہو گئی کچھ زر کی دیوی تو پھر وہ خاندانی ہو گیا کیا نسیمؔ ...

مزید پڑھیے

پیش آنے لگے ہیں نفرت سے

پیش آنے لگے ہیں نفرت سے بھر گیا ان کا دل محبت سے فائدہ یہ ہے تیری قربت سے خوب کٹتا ہے وقت راحت سے کام بنتے نہیں ہیں نفرت سے کام چلتے ہیں سب محبت سے ان کی خاطر مجھے جہاں والے دیکھتے ہیں بڑی حقارت سے زندگی میری اک مصیبت تھی مل گئے آپ مجھ کو قسمت سے ساری دنیا حریف ہے میری اک ذرا ...

مزید پڑھیے

بغیر اپنے کسی مطلب کے الفت کون کرتا ہے

بغیر اپنے کسی مطلب کے الفت کون کرتا ہے یہ دنیا ہے یہاں بے لوث چاہت کون کرتا ہے گوارا لطف فرمانی کی زحمت کون کرتا ہے محبت کرنے والے سے محبت کون کرتا ہے کبھی آئینہ لے کر حسن سے اپنی ذرا پوچھو نظر کو دل کو پابند محبت کون کرتا ہے محبت میں بھی کرتا ہوں محبت تم بھی کرتی ہو مگر دونوں ...

مزید پڑھیے

نوجوانی میں عجب دل کی لگی ہوتی ہے

نوجوانی میں عجب دل کی لگی ہوتی ہے غم کے سہنے میں بھی انساں کو خوشی ہوتی ہے پیار جب پیار کی منزل پہ پہنچ جاتا ہے ہنستے چہروں کے بھی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے پاس رہتے ہیں تو دل محو طرب رہتا ہے دور ہوتے ہیں تو محسوس کمی ہوتی ہے جب بھی ہوتا ہے گماں ان سے کہیں ملنے کا دل کے ارمانوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4447 سے 4657