اس طرح ستایا ہے پریشان کیا ہے
اس طرح ستایا ہے پریشان کیا ہے گویا کہ محبت نہیں احسان کیا ہے تجھ کو ہی نہیں مجھ کو بھی حیران کیا ہے اس دل نے بڑا ہم کو پریشان کیا ہے سوچا تھا کہ تم دوسروں جیسے نہیں ہو گے تم نے بھی وہی کام مری جان کیا ہے ہر روز سجاتے ہیں تری یاد کے غنچے آنکھوں کو ترے ہجر میں گلدان کیا ہے مشکل تھا ...