شاعری

اس طرح ستایا ہے پریشان کیا ہے

اس طرح ستایا ہے پریشان کیا ہے گویا کہ محبت نہیں احسان کیا ہے تجھ کو ہی نہیں مجھ کو بھی حیران کیا ہے اس دل نے بڑا ہم کو پریشان کیا ہے سوچا تھا کہ تم دوسروں جیسے نہیں ہو گے تم نے بھی وہی کام مری جان کیا ہے ہر روز سجاتے ہیں تری یاد کے غنچے آنکھوں کو ترے ہجر میں گلدان کیا ہے مشکل تھا ...

مزید پڑھیے

غم کا موسم بیت گیا سو رونا کیا

غم کا موسم بیت گیا سو رونا کیا کل کے غم کو آج کے دن میں بونا کیا ٹھیک ہے ہم اک دوسرے کے محبوب نہیں لیکن میرے دوست تو اب بھی ہونا کیا اور بہت سے کام پڑے ہیں کرنے کے اشکوں کے ست رنگے ہار پرونا کیا جس کو میری حالت کا احساس نہیں اس کو دل کا حال سنا کر رونا کیا بے شک ساری رات کٹی ہے ...

مزید پڑھیے

دریچے میں ستارا جاگتا ہے

دریچے میں ستارا جاگتا ہے مرا کمرہ بھی سارا جاگتا ہے سمندر اور مانجھی سو گئے ہیں سمندر کا کنارا جاگتا ہے شکاری گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں سراسیمہ چکارا جاگتا ہے عجب بے چینیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ شب بھر شہر سارا جاگتا ہے تمہیں مل جائے تو اس کو بتانا کوئی قسمت کا مارا جاگتا ہے تھکے ...

مزید پڑھیے

دیواروں میں در ہوتا تو اچھا تھا

دیواروں میں در ہوتا تو اچھا تھا اپنا کوئی گھر ہوتا تو اچھا تھا اس کا رنگیں آنچل اوڑھ کے سو جاتے اور ایسا اکثر ہوتا تو اچھا تھا رنگ آ جاتے مٹھی میں جگنو بن کر خوشبو کا پیکر ہوتا تو اچھا تھا بادل پربت جھرنے پیڑ پرندے چپ وہ بھی ساتھ اگر ہوتا تو اچھا تھا کیوں آوارہ پھرتے سونی ...

مزید پڑھیے

ڈوب گیا ہے ایک ستارہ آنکھوں میں

ڈوب گیا ہے ایک ستارہ آنکھوں میں ٹھہر گیا ہے نقش تمہارا آنکھوں میں پتھرائی ہیں آنکھیں غم کی شدت سے رکا ہوا ہے موسم سارا آنکھوں میں وہ لوگوں کے ساتھ ہنسی میں شامل تھی پھیل گیا لیکن مسکارا آنکھوں میں میں نے اس کی آنکھوں میں چہرہ دیکھا اس نے اپنا روپ سنوارا آنکھوں میں بہت دنوں ...

مزید پڑھیے

جب اپنوں سے دور پرائے دیس میں رہنا پڑتا ہے

جب اپنوں سے دور پرائے دیس میں رہنا پڑتا ہے سان گمان نہ ہوں جس کا وہ دکھ بھی سہنا پڑتا ہے خود کو مارنا پڑتا ہے اس آٹے دال کے چکر میں دو کوڑی کے آدمی کو بھی صاحب کہنا پڑتا ہے بنجر ہوتی جاتی ہو جب پل پل یادوں کی وادی دریا بن کر اپنی ہی آنکھوں سے بہنا پڑتا ہے محرومی کی چادر اوڑھے ...

مزید پڑھیے

سرشک غم کی روانی تھمی ہے مشکل سے

سرشک غم کی روانی تھمی ہے مشکل سے جو بات کہنی تھی ان سے کہی ہے مشکل سے نہ جانے اہل جنوں پر اب اور کیا گزرے ابھی تو فصل بہاراں کٹی ہے مشکل سے شب فراق نہ پوچھو کہ کس طرح گزری سحر ہوئی تو ہے لیکن ہوئی ہے مشکل سے لگا ہوا ہے یہ دھڑکا کہ بجھ نہ جائے کہیں ہوا میں شمع محبت جلی ہے مشکل ...

مزید پڑھیے

ان سے ہر حال میں تم سلسلہ جنباں رکھنا

ان سے ہر حال میں تم سلسلہ جنباں رکھنا کچھ مداوائے غم گردش دوراں رکھنا اپنے قابو میں ذرا گیسوئے پیچاں رکھنا راس آتا نہیں دنیا کو پریشاں رکھنا اس اندھیرے میں بھٹک جائیں نہ یادیں ان کی اپنی مژگاں پہ چراغوں کو فروزاں رکھنا آج کل بکتے ہیں بازار میں انساں کے ضمیر تم ہو انسان تو پھر ...

مزید پڑھیے

شب کو پازیب کی جھنکار سی آ جاتی ہے

شب کو پازیب کی جھنکار سی آ جاتی ہے بیچ میں پھر کوئی دیوار سی آ جاتی ہے ان کا انداز نظر دیکھ کے محفل میں کبھی مجھ میں بھی جرأت اظہار سی آ جاتی ہے اس ادا سے کبھی چلتی ہے نسیم سحری خشک پتوں میں بھی رفتار سی آ جاتی ہے ہم تو اس وقت سمجھتے ہیں کہ آتی ہے بہار دشت سے جب کوئی جھنکار سی آ ...

مزید پڑھیے

وہ ہماری سمت اپنا رخ بدلتا کیوں نہیں

وہ ہماری سمت اپنا رخ بدلتا کیوں نہیں رات تو گزری مگر سورج نکلتا کیوں نہیں ٹھیک اٹھتے ہیں قدم بھی راہ بھی ہموار ہے بوجھ اپنی زندگی کا پھر سنبھلتا کیوں نہیں جس طرح وہ چاہتا ہے ڈھال لیتا ہے ہمیں وہ ہمارے دل کے پیمانے میں ڈھلتا کیوں نہیں کیا محبت میں کبھی ہوتی ہے ایسی کیفیت وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4443 سے 4657