خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہے
خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہے دل کے آئینہ میں تصویر بدل جاتی ہے اب صلیبوں پہ کہاں گل شدہ شمعوں کی قطار آن کی آن میں تحریر بدل جاتی ہے سر تو بدلے ہیں نہ بدلیں گے مگر وقت کے ساتھ ظلم کے ہاتھ میں شمشیر بدل جاتی ہے روز بنتا ہے کوئی آگ کے تیروں کا ہدف ریت پر خون کی زنجیر بدل جاتی ...