شاعری

خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہے

خواب تو خواب ہے تعبیر بدل جاتی ہے دل کے آئینہ میں تصویر بدل جاتی ہے اب صلیبوں پہ کہاں گل شدہ شمعوں کی قطار آن کی آن میں تحریر بدل جاتی ہے سر تو بدلے ہیں نہ بدلیں گے مگر وقت کے ساتھ ظلم کے ہاتھ میں شمشیر بدل جاتی ہے روز بنتا ہے کوئی آگ کے تیروں کا ہدف ریت پر خون کی زنجیر بدل جاتی ...

مزید پڑھیے

ہو رہے ہیں نامہ و پیغام ہنستے بولتے

ہو رہے ہیں نامہ و پیغام ہنستے بولتے کٹ رہی ہے ہر سحر ہر شام ہنستے بولتے مل رہے ہیں نت نئے انعام ہنستے بولتے کھا رہے ہیں آپ کے دشنام ہنستے بولتے آپ رسوا ہوں ہمارے سامنے ممکن نہیں اپنے سر لے لیں گے ہر الزام ہنستے بولتے دل لگی ہی دل لگی میں کام اپنا بن گیا آ گیا پہلو میں وہ گلفام ...

مزید پڑھیے

وہ مشت خاک جو پروانۂ دلگیر بنتی ہے

وہ مشت خاک جو پروانۂ دلگیر بنتی ہے جگر کی آگ بجھ جاتی ہے جب اکسیر بنتی ہے حیات جاودانی ہاتھ آتی ہے فنا ہو کر مری خاکستر دل رشک صد اکسیر بنتی ہے نہ جینا راس آتا ہے نہ مرنا راس آتا ہے نہ یہ تدبیر بنتی ہے نہ وہ تدبیر بنتی ہے کچھ اپنی خانہ‌ بربادی سے اندیشہ نہیں مجھ کو مری دو ...

مزید پڑھیے

رسم و راہ عوام کیا جانے

رسم و راہ عوام کیا جانے عاشقی ننگ و نام کیا جانے در گزر میں جو لطف پنہاں ہے خوگر انتقام کیا جانے نہ ہو جس دل میں سوز شمع عمل جز سخن جز کلام کیا جانے موج دریا کی ہو روش جس میں وہ سکون و قیام کیا جانے تلخیاں رنج بے نوائی کی خاطر شاد کام کیا جانے پوچھئے میکشوں سے لطف شراب شیشہ کیا ...

مزید پڑھیے

ملا ہے دل ہمیں دلبر کی آرزو کے لئے

ملا ہے دل ہمیں دلبر کی آرزو کے لئے زباں ملی ہے محبت کی گفتگو کے لئے تجھے حرم میں کلیسا میں دیر میں ڈھونڈھا کہاں کہاں نہ اٹھے پاؤں جستجو کے لئے تم آ گئے تو نہ ہم تم سے کہہ سکے کچھ بھی مگر زبان بنی آنکھ گفتگو کے لئے پسند آپ کو اپنے لئے جو ہو نہ سلوک نہ بھول کر بھی گوارا کریں عدو کے ...

مزید پڑھیے

بصد شکوہ بصد آن بان نکلے گی

بصد شکوہ بصد آن بان نکلے گی ہمارے ساتھ زمانے کی جان نکلے گی یہ زندگی کے قرینے سے آشکارا ہے کہ اپنی موت بھی عظمت نشان نکلے گی مجھے یقین ہے اپنی وفا پہ کچھ اتنا تری جفا بھی مری ہم زبان نکلے گی زبان کھل گئی میری کہیں جو محشر میں ہر ایک حرف سے اک داستان نکلے گی جو زندگی کی بلا تھی ...

مزید پڑھیے

شباب آگیں شراب ارغواں معلوم ہوتی ہے

شباب آگیں شراب ارغواں معلوم ہوتی ہے یہ شام میکدہ کتنی جواں معلوم ہوتی ہے یہاں محسوس ہوتی ہے یہاں معلوم ہوتی ہے خلش خار محبت کی کہاں معلوم ہوتی ہے یہ کب محتاج تشریح و بیاں معلوم ہوتی ہے محبت آپ اپنی ترجماں معلوم ہوتی ہے رواں معلوم ہوتی ہے دواں معلوم ہوتی ہے محبت موج بحر بیکراں ...

مزید پڑھیے

تمام کیف ترنم بغیر ساز ہوں میں

تمام کیف ترنم بغیر ساز ہوں میں جو بے نیاز حقیقت ہے وہ مجاز ہوں میں مرے نیاز کی عظمت کسی کو کیا معلوم مزاج‌ ناز ہے مجھ سے دماغ ناز ہوں میں تجھے گمان کہ پردہ بہ پردہ تیرا وجود مجھے یقین کہ راز درون راز ہوں میں بدل گیا ہے تخیل ہی عشق کا ورنہ نیاز مند ہے تو اور بے نیاز ہوں میں مری ...

مزید پڑھیے

جہاں میں مست الست انتخاب کیا کرتے

جہاں میں مست الست انتخاب کیا کرتے سبو و شیشہ و جام شراب کیا کرتے ہر ایک ذرہ ہے آئینہ دار حسن صنم نگاہ غور سے ہم انتخاب کیا کرتے ہے انقلاب کی تفسیر دفتر ہستی ہم اس صحیفے سے پھر اکتساب کیا کرتے فروغ حسن سے خیرہ نگاہ عشق ہوئی تجلیوں کو وہ زیر نقاب کیا کرتے یہ ہے وہ نعمت نایاب جو ...

مزید پڑھیے

موت بھی ہے یہی حیات بھی ہے

موت بھی ہے یہی حیات بھی ہے زندگی دن کے ساتھ رات بھی ہے کیوں نہ پھر دل کا احترام کریں ہے یہ کعبہ تو سومنات بھی ہے میں گنہ گار ہی سہی لیکن اس میں شاید کسی کا ہات بھی ہے ان کی اک اک ادا پہ مرتے ہیں بے رخی بھی ہے التفات بھی ہے ہجر کی رات تیرا کیا کہنا ہاں نظر میں سہاگ رات بھی ہے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 441 سے 4657