شاعری

یہ بات دشت وفا کی نہیں چمن کی ہے

یہ بات دشت وفا کی نہیں چمن کی ہے چمن کی بات بھی زخموں کے پیرہن کی ہے ہوائے شہر بہت اجنبی سہی لیکن یہ اس میں بوئے وفا تیری انجمن کی ہے میں بت تراش ہوں پتھر سے کام ہے مجھ کو مگر یہ طرز ادا تیرے بانکپن کی ہے لپک تو شعلہ کی فطرت ہے پھر بھی کیا کیجے کہ اس میں پھول سی رنگت تیرے بدن کی ...

مزید پڑھیے

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ کتنے الجھاؤ ہیں زنجیر روایات کے ساتھ کون دیکھے گا یہاں دن کے اجالوں کا ستم یہ ستارے تو چلے جائیں گے سب رات کے ساتھ جانے کس موڑ پہ منزل کا پتہ بھول گئے ہم کہ چلتے ہی رہے گردش حالات کے ساتھ وقت کرتا ہے بھلا کس سے یہاں حسن سلوک وہ بھی اس دور میں ...

مزید پڑھیے

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہو

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہو سنگ اپنے لیے شیشہ کا طلب گار بھی ہو دلبری حسن کا شیوہ ہے مگر کیا کیجے اب یہ لازم تو نہیں حسن وفادار بھی ہو زخم جاں وقت کے کانٹوں سے بھی سل سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ریشم کا کوئی تار بھی ہو فاصلہ رکھیے دلوں میں مگر اتنا بھی نہیں درمیاں جیسے کوئی ...

مزید پڑھیے

دل ہے پلکوں میں سمٹ آتا ہے آنسو کی طرح

دل ہے پلکوں میں سمٹ آتا ہے آنسو کی طرح ریشمی رات کی بھیگی ہوئی خوشبو کی طرح زندگی آج ہے یادوں کے تعاقب میں رواں ریت کے ٹیلوں پہ گرد رم آہو کی طرح آن کی آن میں تاریخ بدل جاتی ہے شکن زلف کی صورت خم ابرو کی طرح تولنے کے لئے پھولوں کی ترازو بھی تو ہو فکر و احساس بھی تل جاتے ہیں خوشبو ...

مزید پڑھیے

کمند حلقۂ گفتار توڑ دی میں نے

کمند حلقۂ گفتار توڑ دی میں نے کہ مہر دست قلم کار توڑ دی میں نے روایتوں کو صلیبوں سے کر دیا آزاد یہی رسن تو سر دار توڑ دی میں نے یہ میرے ہاتھ ہیں اور بے شناخت اب بھی نہیں یہ اور بات ہے تلوار توڑ دی میں نے سفینے ہی کو میں شعلہ دکھا کے نکلا تھا جو اپنے ہاتھ سے پتوار توڑ دی میں ...

مزید پڑھیے

نہ پہنچا ساتھ یارانۂ سفر کی ناتوانی سے

نہ پہنچا ساتھ یارانۂ سفر کی ناتوانی سے میں سر پٹکا کیا اک عمر سگ سخت جانی سے ادا فہمان شوق وصل ہو طور تجلی پر مزہ دیدار کا ملتا ہے بانگ لن ترانی سے مرید مرشد ہمت ہوں میں میری طریقت میں کفن بھی ساتھ لانا ننگ ہے دنیائے فانی سے وہ سرگرم بیان سوزش داغ محبت ہوں حضر کرتا ہے شعلہ بھی ...

مزید پڑھیے

رونقیں آبادیاں کیا کیا چمن کی یاد ہیں (ردیف .. ے)

رونقیں آبادیاں کیا کیا چمن کی یاد ہیں بوئے گل کی طرح ہم گلشن کے خانہ زاد ہیں جلوہ فرمائی کا مژدہ کس نے بھیجا ہے کہ آج دیدہ و دل ہم دگر صرف مبارک باد ہیں کس کی مژگاں نے ہمارے ساتھ کاوش کی شروع خون کے قطرہ رگوں میں نشتر فصاد ہیں یاں رضا محبوب کی منظور خاطر ہے فقط وصل ہو یا ہجر ہو ...

مزید پڑھیے

عجیب شخص ہے پتھر سے پر بناتا ہے

عجیب شخص ہے پتھر سے پر بناتا ہے دیار سنگ میں شیشہ کا گھر بناتا ہے جو زخم پھول کی پتی کا سہہ سکا نہ کبھی اس آبلہ کو وہ اپنی سپر بناتا ہے فضا کا بوجھ سمجھتا ہے چاند سورج کو وہ گردنوں پہ سجانے کو سر بناتا ہے جہاں سے قافلۂ وقت راہ بھولا تھا انہیں سرابوں میں وہ رہگزر بناتا ...

مزید پڑھیے

وہ رقص کہاں اور وہ تب و تاب کہاں ہے

وہ رقص کہاں اور وہ تب و تاب کہاں ہے وہ سجدۂ شوق اور وہ محراب کہاں ہے ہے آبلہ پائی ہی ترا نقش کف پا صحرائے لق و دق ہے یہاں آب کہاں ہے اوراق دل و جاں میں ہیں کچھ داغ ہی باقی وہ عشق و عقیدت کا حسیں باب کہاں ہے اک اشک ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے پلکوں پہ سجایا ہوا وہ خواب کہاں ہے اب ...

مزید پڑھیے

درد کی لے کو بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی

درد کی لے کو بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی اور اس دل کو دکھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی میرے احساس کی یہ باڑھ تو رکنے سے رہی مجھ کو دیوانہ بنا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی کرب تنہائی کا نشتر رگ جاں میں رکھ دو مجھ کو احساس دلا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی حوصلہ جینے کا ہوتا ہے پر اتنا بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 440 سے 4657