شاعری

کسی کی داستاں در داستاں سے کچھ نہیں ہوتا

کسی کی داستاں در داستاں سے کچھ نہیں ہوتا اثر جب تک نہ ہو حسن بیاں سے کچھ نہیں ہوتا یقیں کی منزلوں میں این و آں سے کچھ نہیں ہوتا گماں کتنا ہی بڑھ جائے گماں سے کچھ نہیں ہوتا طلب صادق نہیں تو نارسائی کی شکایت کیا نہ جب تک دل کی شرکت ہو زباں سے کچھ نہیں ہوتا پگھل جاتا ہے پتھر بھی ...

مزید پڑھیے

میں کئے جاؤں گا تقصیر کہاں تک آخر

میں کئے جاؤں گا تقصیر کہاں تک آخر تو نہ دے گا مجھے تعزیر کہاں تک آخر میرے ہر حرف کی تفسیر کہاں تک آخر جذبۂ شوق کی تشہیر کہاں تک آخر یہ کسی طور بھی پابند نہیں ہو سکتی پائے تخییل میں زنجیر کہاں تک آخر نقل پھر نقل ہے کیا اصل سے نسبت اس کو دل کو بہلائے گی تصویر کہاں تک آخر دیر تو ...

مزید پڑھیے

جہاں والوں سے روداد جہاں کچھ اور کہتی ہے

جہاں والوں سے روداد جہاں کچھ اور کہتی ہے پئے اہل نظر یہ داستاں کچھ اور کہتی ہے نئے ماحول میں عمر رواں کچھ اور کہتی ہے بہ انداز دگر یہ داستاں کچھ اور کہتی ہے کسی کے سامنے پہلے زباں کچھ اور کہتی تھی بدل کر اب یہ انداز بیاں کچھ اور کہتی ہے تری چشم سخن گو کا کوئی انداز تو دیکھے نہاں ...

مزید پڑھیے

محبت جلوۂ رخسار بھی ہے

محبت جلوۂ رخسار بھی ہے محبت کاکل خم دار بھی ہے تجلی مانع دیدار بھی ہے نظر کی راہ میں دیوار بھی ہے وہ سادہ ہی نہیں پرکار بھی ہے بکار خویش جو ہشیار بھی ہے بشر دانا بھی ہے ہشیار بھی ہے مگر مست مئے پندار بھی ہے محبت مانع اظہار بھی ہے محبت مائل گفتار بھی ہے مری تسخیر دل میں کار ...

مزید پڑھیے

شاعری عبارت ہے داغؔ کے گھرانے سے

شاعری عبارت ہے داغؔ کے گھرانے سے لٹ رہی ہے یہ دولت اس بھرے خزانے سے غم نہیں ذرا مجھ کو غرق بحر ہونے کا کتنی کشتیاں ابھریں میرے ڈوب جانے سے صبح مسکراتی ہے شام مسکراتی ہے تیرے مسکرانے سے میرے مسکرانے سے یاد عہد رفتہ سے زندگی عبارت ہے صبح نو کو نسبت ہے شام کے فسانے سے اب انہیں ...

مزید پڑھیے

طوق گردن سے نہ زنجیر سے جی ڈرتا ہے

طوق گردن سے نہ زنجیر سے جی ڈرتا ہے ہاں تری زلف گرہ گیر سے جی ڈرتا ہے دل تو قائل ہے ترے لطف و کرم کا لیکن اپنی پھوٹی ہوئی تقدیر سے جی ڈرتا ہے آپ کی چپ سے الجھتی ہے طبیعت اکثر آپ کی شوخیٔ تقریر سے جی ڈرتا ہے کہیں یہ بھی نہ ہو منشائے مشیت کے خلاف اب تو ہر سعی سے تدبیر سے جی ڈرتا ...

مزید پڑھیے

جام جمشید کا عالم ہے مرے سینے میں

جام جمشید کا عالم ہے مرے سینے میں بات پیدا ہی نہیں یہ کسی آئینے میں آنکھ میں شکل تری نور ترا سینے میں عکس آئینے کا پڑتا رہا آئینے میں حیرتی صورت آئینہ بنا بیٹھا ہوں کوئی صورت نظر آتی نہیں آئینے میں کیجئے مجھ پہ ذرا اور بھی حیرت طاری دیکھیے آپ مجھے بیٹھ کے آئینے میں جانتا ہے ...

مزید پڑھیے

چاہا بہت مگر کسی عنواں نہ کر سکے

چاہا بہت مگر کسی عنواں نہ کر سکے ایماں کو کفر کفر کو ایماں نہ کر سکے افسوس کوئی کار نمایاں نہ کر سکے قطرہ کو موج موج کو طوفاں نہ کر سکے ممکن نہیں کہ ہمت مرداں نہ کر سکے وہ کام کون سا ہے جو انساں نہ کر سکے ناموس عاشقی کا جنوں میں بھی تھا لحاظ ہم چاک فصل گل میں گریباں نہ کر سکے تم ...

مزید پڑھیے

اے کاشف اسرار بتا ہے کہ نہیں ہے

اے کاشف اسرار بتا ہے کہ نہیں ہے کہتے ہیں جسے لوگ خدا ہے کہ نہیں ہے دنیا میں بھلائی کا صلہ ہے کہ نہیں ہے انجام برائی کا برا ہے کہ نہیں ہے محسوس تو ہوتا ہے دکھائی نہیں دیتا اس سوچ میں ڈوبا ہوں خدا ہے کہ نہیں ہے کیوں ہم کو ڈراتا ہے کوئی روز جزا سے خود اپنی جگہ زیست سزا ہے کہ نہیں ...

مزید پڑھیے

اسی کو ہاں اسی کو عشق کا نذرانہ کہتے ہیں

اسی کو ہاں اسی کو عشق کا نذرانہ کہتے ہیں سرشک غم کو یعنی گوہر یک دانہ کہتے ہیں ہنسی آتی ہے مستوں کو جنوں نا آشناؤں پر کرے جو ہوش کی باتیں اسے دیوانہ کہتے ہیں کسی کو غم کسی کا ہے کسی کو غم کسی کا ہے بعنوان دگر سب ایک ہی افسانہ کہتے ہیں اٹھا دے گی انہیں دنیا کسی دن اپنے ہاتھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 442 سے 4657