شاعری

یادوں کا اک دیپک دل میں بیٹھ کے روز جلاتا ہوں

یادوں کا اک دیپک دل میں بیٹھ کے روز جلاتا ہوں دیکھ کے تیری تصویروں کو روتا ہنستا گاتا ہوں مومن ایسا ہوں کہ پہلے جام پہ جام لگاتا ہوں جا کے پھر سجدے میں رب کو اپنا حال سناتا ہوں ہجر نے تیرے حالت میری ایسی کر دی ہے کے اب دو دن سویا رہتا ہوں اور دو دن کام پہ جاتا ہوں دریا سورج چاند ...

مزید پڑھیے

ہم بزرگوں سے ڈرنے والے ہیں

ہم بزرگوں سے ڈرنے والے ہیں واقعۃً بچھڑنے والے ہیں رات ہوتے ہی نیند آتی ہے یعنی سب خواب مرنے والے ہیں وہ بھی خود کو سدھار بیٹھی ہے اور ہم بھی سدھرنے والے ہیں کوئی امکان تو نہیں پھر بھی اس گلی سے گزرنے والے ہیں میری دہلیز سے اڑے جگنو تیری چوکھٹ پہ مرنے والے ہیں عشق نقصان ...

مزید پڑھیے

جوں ہی تیور ہوا کے بیٹھ گئے

جوں ہی تیور ہوا کے بیٹھ گئے ہم دیوں کو بجھا کے بیٹھ گئے اس نے رسماً کہا ٹھہر جاؤ اور ہم مسکرا کے بیٹھ گئے باغ میں منتظر تھے ہم اس کے کچھ پرندے بھی آ کے بیٹھ گئے شعر پڑھنے شکیب و ثروت کے ہم بھی پٹری پہ جا کے بیٹھ گئے منتظر تھے نگار خانے کے آئنوں کو سجا کے بیٹھ گئے تیرا وعدہ تھا ...

مزید پڑھیے

صبح سے تھوڑا ادھر اور گئی رات کے بعد

صبح سے تھوڑا ادھر اور گئی رات کے بعد لوٹ آیا ہوں درختوں سے ملاقات کے بعد عشق میں رنگ نہیں نسل نہیں شجرہ نہیں اس کا آغاز ہے ان سب کے مضافات کے بعد ابر برسے تو کھل اٹھتی ہے زمیں کی خوشبو خوشیاں ملتی ہیں ہمیشہ کئی صدمات کے بعد لطف ہے مانگنے میں اس لئے ہم مانگتے ہیں ہم کو مطلب نہیں ...

مزید پڑھیے

میں کھو گیا ہوں کہاں آشیاں بناتے ہوئے

میں کھو گیا ہوں کہاں آشیاں بناتے ہوئے زمین بھول گیا آسماں بناتے ہوئے ستارہ وار چمکتا ہر ایک ذرہ مرا بکھر نہ جائے کہیں کہکشاں بناتے ہوئے تمہارے نام پہ میں جل بجھا تو علم ہوا کہ سود بنتا ہے کیسے زیاں بناتے ہوئے محاذ پر ہی رہا ہوں لہو کے بجھنے تک قلم ہوئے مرے بازو کماں بناتے ...

مزید پڑھیے

صدیوں کے اندھیرے میں اتارا کرے کوئی

صدیوں کے اندھیرے میں اتارا کرے کوئی سورج کو کسی روز ہمارا کرے کوئی اک خوف سا بس گھومتا رہتا ہے سروں میں دنیا کا مرے گھر سے نظارہ کرے کوئی رنگوں کا تصور بھی اڑا آنکھ سے اب تو اس شہر میں اب کیسے گزارا کرے کوئی یوں درد نے امید کے لڑ سے مجھے باندھا دریاؤں کو جس طرح کنارا کرے ...

مزید پڑھیے

کون سی دیواروں سے میں ٹکرایا نہ

کون سی دیواروں سے میں ٹکرایا نہ وقت سے آگے لیکن میں جا پایا نہ سارے عقیدے حبس کے معبد ہیں جن میں کبھی ہوا کا جھونکا تک بھی آیا نہ اس کی یاد میں ساری عمر گنوا بیٹھا میرا کبھی خیال بھی جس کو آیا نہ اس نے جب سناٹے کی دیوار چنی تم نے بھی تو اس دم شور مچایا نہ جانے اس کے لہجے میں کیا ...

مزید پڑھیے

چارہ گروں نے باندھ دیا مجھ کو بخت سے

چارہ گروں نے باندھ دیا مجھ کو بخت سے چھاؤں ملی نہ مجھ کو دعا کے درخت سے بیٹھا تھا میں حصار فلک میں زمین پر دشمن نے فتح کھینچ لی میری شکست سے میں بھی تو تھا فریفتہ خود اپنے آپ پر شکوہ کروں میں کیا دل نرگس پرست سے گریہ کی سلطنت مجھے دے گی شکست کیا چھینی ہے میں نے زندگی پانی کے تخت ...

مزید پڑھیے

وقت کے ہر اک نقش کا معنی اتنا بدلا بدلا ہوگا

وقت کے ہر اک نقش کا معنی اتنا بدلا بدلا ہوگا میرے وہم و گمان میں کب تھا عشق کا منظر ایسا ہوگا آج مجھے اپنی آنکھوں سے اس کے قرب کی خوشبو آئی میری نظر سے اس نے شاید اپنے آپ کو دیکھا ہوگا لمس کے اس کورے تالاب میں چاند کا پہلا عکس تمہی ہو کیسے نور جہانی سر میں کس کس سے وہ کہتا ...

مزید پڑھیے

میں کیا ہوں مجھے تم نے جو آزار پہ کھینچا

میں کیا ہوں مجھے تم نے جو آزار پہ کھینچا دنیا نے مسیحاؤں کو بھی دار پہ کھینچا زندوں کا تو مسکن بھی یہاں قبر نما ہے مردوں کو مگر درجۂ اوتار پہ کھینچا وہ جاتا رہا اور میں کچھ بول نہ پایا چڑیوں نے مگر شور سا دیوار پہ کھینچا کچھ بھی نہ بچا شہر میں جز رونے کی رت کے ہر شعلۂ آواز کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4388 سے 4657