شاعری

ہنوز عشق میں شعلہ سا جل بجھا کیا ہے

ہنوز عشق میں شعلہ سا جل بجھا کیا ہے نہ جانے آج بھی وحشت میں سر پھرا کیا ہے فقیر آئے تھے محفل میں تیری سننے کو وہ بات تجھ میں سنانے کا حوصلہ کیا ہے وفا ہے مجھ سے خفا اور تو خفا مجھ سے ذرا یہ دیکھ جفا نے تیری کیا کیا ہے یہ میرا صبر بھی جو کام میرے آ نہ سکا تو اے خدا یہ مرا تجھ پہ آسرا ...

مزید پڑھیے

بکھرے ہوئے خیال سند ڈھونڈتے رہے

بکھرے ہوئے خیال سند ڈھونڈتے رہے راتوں میں ہم چراغ کی حد ڈھونڈتے رہے دریا کے پار اتری تو منظر عجیب تھا وہ جزر ہو چکے تھے جو مد ڈھونڈتے رہے نیکی کہاں چھپی ہے کہاں پاکباز ہیں کرنے کو ان کا خاتمہ بد ڈھونڈتے رہے عزت کا جن کو پاس نہ حرمت کی کوئی قدر شہرت کے واسطے مرا قد ڈھونڈتے ...

مزید پڑھیے

حق کی تلاش میں ہی بھٹکتی رہی سدا

حق کی تلاش میں ہی بھٹکتی رہی سدا کھوئی رہی ہے عشق میں منزل مری سدا سیکھا سبق جو میں نے تو ازبر نہیں کیا پاتی رہی سزا میں اسی بات کی سدا تلخی گئے دنوں کی مرے ساتھ ہی رہی وہ الٹی پڑ گئی جو دعا میں نے کی سدا کچھ اور دھنس گئی اسے کھینچا اگر کبھی کشتی پہن کے ریت ہی سوئی رہی سدا میں ...

مزید پڑھیے

یوں گردش دوراں میں کچھ احباب ملے ہیں

یوں گردش دوراں میں کچھ احباب ملے ہیں جیسے شب تاریک میں مہتاب ملے ہیں یادوں کے کئی نقش ہیں بکھرے ہوئے دل میں ان یادوں کے انبار سے کچھ خواب ملے ہیں پہنے ہوئے رہتی ہوں تری یادوں کے گہنے ان گہنوں میں کچھ گوہر نایاب ملے ہیں اس دل کا تری روح سے رشتہ ہے کوئی تو مجھ کو تری آنکھوں میں جو ...

مزید پڑھیے

سوچتی ہوں مجھ سے بھی ایسا بیاں ہو جائے گا

سوچتی ہوں مجھ سے بھی ایسا بیاں ہو جائے گا جو کہ میرے درد کا بھی ترجماں ہو جائے گا خواب ہو کر رہ گئی ہیں کیسی کیسی صورتیں مجھ کو لگتا ہے کہ سب وہم و گماں ہو جائے گا میں نے سوچا بھی نہ تھا اتنا بدل جائے گا وہ اس قدر تبدیل رنگ آسماں ہو جائے گا اس کو فرصت ہی کہاں تھی اپنی باتوں سے ...

مزید پڑھیے

نکل آئی ہوں آگے میں گناہوں اور ثوابوں سے

نکل آئی ہوں آگے میں گناہوں اور ثوابوں سے بہت خوش ہوں کہ میری جان چھوٹی ان عذابوں سے اٹھا کر رکھ دیے ہیں خیر و شر کے سب بہی کھاتے بہت مشکل میں تھی سود و زیاں کے ان حسابوں سے بہت لپٹے رہے یہ جسم و جاں سے بیل کی مانند حجاب آنے لگا ہے اب تو مجھ کو ان حجابوں سے ٹھہرنے ہی نہیں دیتے تھے ...

مزید پڑھیے

ردائے سنگ اوڑھ کر نہ سو گیا ہو کانچ بھی

ردائے سنگ اوڑھ کر نہ سو گیا ہو کانچ بھی حریم زخم لازمی ہے خیر و شر کی جانچ بھی گئے برس کی راکھ جس کو دان کی تھی آ گیا اسی ندی سے غسل کر کے دو ہزار پانچ بھی محاورے کی رو سے جانچئے تو وہ سراب ہے میں سانچ بھی نہیں نہیں ہے اس بدن کی آنچ بھی بھرم ذرا سا مستیوں کا رکھ کہ ہم ہیں گھات ...

مزید پڑھیے

تری چال دھن تری سانس سر مرے دل کو آ کے سنبھال بھی

تری چال دھن تری سانس سر مرے دل کو آ کے سنبھال بھی جو یہ جل ترنگ ذرا بجا تو یہ ڈال دے گا دھمال بھی نہ اچھال جھیل میں کنکری کہ یہ خوفناک سا کھیل ہے اسی کھیل میں نہ اتر پڑے تری آنکھ پر یہ وبال بھی کئی لوگ مورچہ بند خوف کی ریت میں ہیں کرم کرم ترے ہاتھ میں یہ جو سنگ ہے کسی سمت اس کو ...

مزید پڑھیے

جسم کے اندر سسکتا کون ہے

جسم کے اندر سسکتا کون ہے ایسے ویرانے میں بستا کون ہے یہ ٹھٹھرتی رات برفیلا سماں گیلی آنکھوں میں اترتا کون ہے خوف مٹنے کا نہیں ہے دوستو یہ بتا دینا کہ مٹتا کون ہے رام سا بن باس کچھ مشکل نہیں صرف اک مشکل ہے سیتا کون ہے شہر سارا جل گیا اب سوچیے شہر کے نقشے بدلتا کون ہے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

بات کچھ یوں ہے کہ یہ خوف کا منظر تو نہیں

بات کچھ یوں ہے کہ یہ خوف کا منظر تو نہیں لاش دریا میں غنیمت ہے کہ بے گھر تو نہیں دور صحرائے بدن سے نکل آیا ہوں مگر ڈھونڈھتا ہوں میں جسے وہ مرے اندر تو نہیں خواہشیں روز نئی روز نئی روز نئی یہ مرا ذہن بھی اخبار کا دفتر تو نہیں دور تک لے گئی کیوں جنبش انگشت مجھے میں اشارے ہی سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 436 سے 4657