شاعری

اللہ رے یہ رنگ یہ جلوہ شباب کا

اللہ رے یہ رنگ یہ جلوہ شباب کا جیسے کھنچا ہو آنکھ میں نقشہ شراب کا پردہ میں کائنات کے موجود ہر جگہ اس پر یہ اہتمام یہ عالم حجاب کا للچا کے فرط شوق میں آنسو نکل پڑے واعظ نے ہنس کے نام لیا جب شراب کا تاب نظارۂ رخ انور نہیں اسے سورج کی سمت رخ ہے گل آفتاب کا بڑھتی رہی نگاہ بہکتے رہے ...

مزید پڑھیے

کہیں ایسا نہ ہو خدا نہ کرے

کہیں ایسا نہ ہو خدا نہ کرے مجھ کو تجھ سے کوئی جدا نہ کرے میری جنت تری نگاہ کرم مجھ سے پھر جائے یہ خدا نہ کرے بے وفائی بھی ایک نسبت ہے کیا گلہ اس سے گر وفا نہ کرے راندۂ محفل صنم زاہد کیا کرے گر خدا خدا نہ کرے اس کی رحمت پہ گر یقین ہے عیشؔ ہے خطا گر کوئی خطا نہ کرے

مزید پڑھیے

یہ انقلاب ہوا جانے رونما کیسے

یہ انقلاب ہوا جانے رونما کیسے بدل گئے تری محفل میں آشنا کیسے تمہاری بزم میں آخر میں لٹ گیا کیسے یہ سانحہ تو ہوا ہے مگر ہوا کیسے ذرا یہ دیکھ کہ میرے سجود پیہم سے مٹا تو نقش کف پا مگر مٹا کیسے وفا کا غیر کی بھی امتحان ہو جائے ہمارے ہوتے ہوئے اس نے یہ کہا کیسے اٹھانے والے ہمیں بزم ...

مزید پڑھیے

ہر نفس آئینہ موج فنا ہوتا ہے

ہر نفس آئینہ موج فنا ہوتا ہے آہ کرتا ہوں تو درد اور سوا ہوتا ہے کھنچتی جاتی ہے اسی سمت جبین جدہ جس طرف آپ کا نقش کف پا ہوتا ہے پھوٹ جا آبلۂ پا کہ بڑھے تیرا وقار خار صحرا تجھے انگشت نما ہوتا ہے جنبشیں ہونے لگیں پردۂ زنگاری میں نالۂ عاشق دلگیر بلا ہوتا ہے وہ نہ آئیں گے انہیں ضد ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے کی ہے ادا رسم بندگی میں نے

کچھ ایسے کی ہے ادا رسم بندگی میں نے گزار دی ترے وعدے پہ زندگی میں نے اڑا کے دھجیاں دامن کی کرتا کیوں رسوا جنوں میں کی نہ گوارہ درندگی میں نے ذرا بھی شکوۂ جور و جفا نہیں لب پر تری رضا کو جو سمجھا ہے بندگی میں نے عزیز جان سے زیادہ مجھے ہے یہ غم دوست کہ غم میں پائی ہے اک شرح زندگی ...

مزید پڑھیے

یہ گل بھی زینت آغوش دریائے قضا نکلے

یہ گل بھی زینت آغوش دریائے قضا نکلے جنہیں ہم با وفا سمجھے تھے وہ بھی بے وفا نکلے نتیجہ جستجوئے شوق کا کیا جانے کیا نکلے پس پردہ یہ ممکن ہے وہی رنگیں ادا نکلے کرشمہ ہے یہ سارا عشق کا ہی ورنہ کب ممکن لہو کے قطرہ قطرہ سے انا الحق کی صدا نکلے متاع زندگی آرام جاں صبر و قرار دل خدا کی ...

مزید پڑھیے

ہے جمال حسن کا پرتو صنم خانہ کہیں

ہے جمال حسن کا پرتو صنم خانہ کہیں بت کدہ کعبہ کہیں ہے اور مے خانہ کہیں سیدھے رستہ سے بھٹک جائے نہ فرزانہ کہیں آ نہ جائے عقل کی باتوں میں دیوانہ کہیں یہ بھی کوئی زندگی میں زندگی ہے ہم نفس دل کہیں ہے ہم کہیں ہیں اور جانانہ کہیں تابش برق ستم سے یا الٰہی جل نہ جائے عندلیب زار کا ...

مزید پڑھیے

برباد محبت ہو کر بھی جینے کا سہارا ہو نہ سکا

برباد محبت ہو کر بھی جینے کا سہارا ہو نہ سکا اک دل پہ بھروسہ تھا اپنے وہ بھی تو ہمارا ہو نہ سکا جلوؤں کی فراوانی توبہ دم بھر میں ہوئیں خیرہ نظریں وہ سامنے بے پردہ تھے مگر ہم سے ہی نظارہ ہو نہ سکا آنکھوں کی زبانی شکوۂ غم کرنا تھا بہت ان سے لیکن خود حسن پشیماں ہو جاتا یہ ہم سے گوارا ...

مزید پڑھیے

کاغذ پہ حرف حرف نکھر جانا چاہئے

کاغذ پہ حرف حرف نکھر جانا چاہئے بے چہرگی کو رنگ میں بھر جانا چاہئے ممکن ہے آسمان کا رستہ انہیں سے ہو نیلے سمندروں میں اتر جانا چاہئے ہر دم بدن کی قید کا رونا فضول ہے موسم صدائیں دے تو بکھر جانا چاہئے صحرا میں کون بھیک کسے دے گا چھاؤں کی خود اپنی اوٹ میں ہی ٹھہر جانا چاہئے تنہا ...

مزید پڑھیے

وہ شکل وہ شناخت وہ پیکر کی آرزو

وہ شکل وہ شناخت وہ پیکر کی آرزو پتھر کی ہو کے رہ گئی پتھر کی آرزو چھت ہو فلک تو خاک اڑانے کو پاؤں میں صحرا میں کھینچتی ہے ہمیں گھر کی آرزو زخمی کئے ہیں پاؤں کبھی لائی راہ پر کب کون جان پایا ہے ٹھوکر کی آرزو اپنی گرفت میں لئے اڑتا پھرے کہیں پرواز کو ہے کب سے اسی پر کی آرزو رہتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4342 سے 4657