شاعری

ابھی زمین کو ہفت آسماں بنانا ہے

ابھی زمین کو ہفت آسماں بنانا ہے اسی جہاں کو مجھے دو جہاں بنانا ہے بھٹک رہا ہے اکیلا جو کوہ و صحرا میں اس ایک آدمی کو کارواں بنانا ہے یہ شاخ گل جو گھری ہے ہزار کانٹوں میں مجھے اسی سے نیا گلستاں بنانا ہے میں جانتا ہوں مجھے کیا بنانا ہے لیکن وہاں بنانے سے پہلے یہاں بنانا ہے چراغ ...

مزید پڑھیے

کئی آوازوں کی آواز ہوں میں

کئی آوازوں کی آواز ہوں میں غزل کے واسطے اعزاز ہوں میں کئی حرفوں سے مل کر بن رہا ہوں بجائے لفظ کے الفاظ ہوں میں مری آواز میں صورت ہے میری کہ اپنے ساز کی آواز ہوں میں بہت فطری تھا تیرا حرف انکار ترا غم خوار ہوں دم ساز ہوں میں کہیں تو حرف آخر ہوں میں اکبرؔ کسی کا نقطۂ آغاز ہوں ...

مزید پڑھیے

رہ گماں سے عجب کارواں گزرتے ہیں

رہ گماں سے عجب کارواں گزرتے ہیں مری زمیں سے کئی آسماں گزرتے ہیں جو رات ہوتی ہے کیسی مہکتی ہیں گلیاں جو دن نکلتا ہے کیا کیا بتاں گزرتے ہیں کبھی جو وقت زمانے کو دیتا ہے گردش مرے مکاں سے بھی کچھ لا مکاں گزرتے ہیں کبھی جو دیکھتے ہیں مسکرا کے آپ ادھر دل و نگاہ میں کیا کیا گماں گزرتے ...

مزید پڑھیے

کافر تھا میں خدا کا نہ منکر دعا کا تھا

کافر تھا میں خدا کا نہ منکر دعا کا تھا لیکن یہاں سوال شکست انا کا تھا کچھ عشق و عاشقی پہ نہیں میرا اعتقاد میں جس کو چاہتا تھا حسیں انتہا کا تھا جل کر گرا ہوں سوکھے شجر سے اڑا نہیں میں نے وہی کیا جو تقاضا وفا کا تھا تاریک رات موسم برسات جان زار گرداب پیچھے سامنے طوفاں ہوا کا ...

مزید پڑھیے

وہ جب نظریں ملا کر بولتے ہیں

وہ جب نظریں ملا کر بولتے ہیں تو بت اللہ اکبر بولتے ہیں کبھی خاموش جو ہونے لگا ہوں تو وہ خوابوں میں آ کر بولتے ہیں انہیں دیکھوں تو کیسے کیسے جذبے مری آنکھوں کے اندر بولتے ہیں ہوائیں ناچتی ہیں میرے سر پر مرے خوں میں سمندر بولتے ہیں میں صدیوں کے تفاخر کی زباں ہوں زمانے میرے اندر ...

مزید پڑھیے

تمہاری آنکھوں میں گر نمی ہے تو زندگی ہے

تمہاری آنکھوں میں گر نمی ہے تو زندگی ہے جو زندگی میں کوئی کمی ہے تو زندگی ہے سکوت طاری جو ہو گیا تو تمام شد ہے کوئی خموشی جو بولتی ہے تو زندگی ہے کوئی خیال اور خواب نہ ہو تو اک خلا ہے کہ سوچ پاگل بھٹک رہی ہے تو زندگی ہے وہ چوٹ جو کہ کسی کو گھائل کیے ہوئے ہے تمہارے دل پر اگر لگی ہے ...

مزید پڑھیے

بہت سے زخم جن کو مستقل مہمان رکھا ہے

بہت سے زخم جن کو مستقل مہمان رکھا ہے بدن کی قید میں کچھ درد کا سامان رکھا ہے کبھی لگتا ہے کہ میں آسماں کو چھو کے آئی ہوں کبھی لگتا ہے رستے میں کوئی طوفان رکھا ہے ہر اک لمحہ گماں کی دسترس میں کیا بتائیں ہم کہاں امید رکھی ہے کہاں ایمان رکھا ہے تمہاری آنکھ میں ٹھہرا ہوا پانی بتاتا ...

مزید پڑھیے

جدا ہوتے نہیں ایسے بھی کچھ آزار ہوتے ہیں

جدا ہوتے نہیں ایسے بھی کچھ آزار ہوتے ہیں سفر کے آخری رستے بڑے دشوار ہوتے ہیں جو چہرے پر لکھی تحریر پڑھ لیتے ہیں پل بھر میں کچھ ایسے لوگ ہیں مثل ستارہ بار ہوتے ہیں یہاں جو بھی ہے سب باطل نظر کا ایک دھوکا ہے تو پھر کس بات پر ہم یوں ہی دعویدار ہوتے ہیں چٹانوں پر ہرے پتے کہیں نغمہ ...

مزید پڑھیے

سوچنا شرط ہے تدبیر بدل جائے گی

سوچنا شرط ہے تدبیر بدل جائے گی کچھ عمل ہوگا تو تقدیر بدل جائے گی آج جو دیکھا سنا آج ہی لکھنا ہوگا ورنہ کل تک تو یہ تحریر بدل جائے گی ساتھ دیکھا ہے تجھے ہاتھ میں ڈالے ہوئے ہاتھ کیا میرے خواب کی تعبیر بدل جائے گی وقت کو روکنا ممکن ہی نہیں ہے میرے دوست کل یہی پاؤں کی زنجیر بدل جائے ...

مزید پڑھیے

جس دل میں نہاں ان کی تصویر نہیں ہوتی

جس دل میں نہاں ان کی تصویر نہیں ہوتی اس دل کی حقیقت میں توقیر نہیں ہوتی آنکھوں کو تمنا ہے خاک در جاناں کی خاک در ہر کوچہ اکسیر نہیں ہوتی رونا تو ہے بس اس کی محرومیٔ قسمت کا یہ دولت غم جس کی تقدیر نہیں ہوتی کیوں جمع کروں تنکے ہے برق زدہ گلشن شعلوں میں نشیمن کی تعمیر نہیں ہوتی اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4341 سے 4657