شاعری

یہ فرش و عرش کیا ہے اللہ جانتا ہے

یہ فرش و عرش کیا ہے اللہ جانتا ہے پردوں میں کیا چھپا ہے اللہ جانتا ہے جو بھی برا بھلا ہے اللہ جانتا ہے بندوں کے دل میں کیا ہے اللہ جانتا ہے لاکھ اپنے دل کا سکہ دنیا سے تو چھپائے کھوٹا ہے یا کھرا ہے اللہ جانتا ہے جا کر جہاں سے واپس آتا نہیں ہے کوئی وہ بام کون سا ہے اللہ جانتا ...

مزید پڑھیے

چلنے کا ہنر کب آتا ہے جب تک کوئی ٹھوکر کھاؤ نہیں

چلنے کا ہنر کب آتا ہے جب تک کوئی ٹھوکر کھاؤ نہیں حالات بدلتے رہتے ہیں حالات سے تم گھبراؤ نہیں سپنوں کے رین بسیرے میں صدیوں سے بڑا سناٹا ہے آنکھوں میں نیند سلگتی ہے اب خواب کوئی دکھلاؤ نہیں یہ بازی پیار کی بازی ہے یہاں سب کچھ داؤں پہ لگتا ہے جیتو تو کبھی اتراؤ نہیں ہارو تو کبھی ...

مزید پڑھیے

آپ سے دل لگانا ضروری نہیں

آپ سے دل لگانا ضروری نہیں جان کر چوٹ کھانا ضروری نہیں پیار سے دیکھ لو یوں ہی مر جائیں گے ہر ستم آزمانا ضروری نہیں تو خدا کے لئے میرا دل توڑ دے روز کا یہ بہانا ضروری نہیں عشق کو ایک لمحہ بہت ہے یہاں روز ملنا ملانا ضروری نہیں

مزید پڑھیے

مسجد و مندر کا یوں جھگڑا مٹانا چاہیے

مسجد و مندر کا یوں جھگڑا مٹانا چاہیے اس زمیں پر پیار کا اک گھر بنانا چاہیے مذہبوں میں کیا لکھا ہے یہ بتانا چاہیے اس کو گیتا اور اسے قرآں پڑھانا چاہیے وہ دیوالی ہو کے بیساکھی ہو کرسمس ہو کے عید ملک کی ہر قوم کو مل کر منانا چاہیے دوستو اس سے بڑی کوئی عبادت ہی نہیں آدمی کو آدمی کے ...

مزید پڑھیے

تاروں کی اترتی ہے ڈولی اور چاندنی دلہن ہوتی ہے

تاروں کی اترتی ہے ڈولی اور چاندنی دلہن ہوتی ہے جس رات میں دو دل ملتے ہیں وہ رات سہاگن ہوتی ہے جب دل سے دل مل جاتے ہیں تو کیا کیا گل کھل جاتے ہیں کچھ غیر گلے لگ جاتے ہیں کچھ اپنوں سے ان بن ہوتی ہے جلتے ہیں جہاں والے لو جلیں ہم راہ وفا میں ساتھ چلیں دنیا کو چھوڑو دنیا تو دل والوں کی ...

مزید پڑھیے

جو سکوں نہ راس آیا تو میں غم میں ڈھل رہا ہوں

جو سکوں نہ راس آیا تو میں غم میں ڈھل رہا ہوں غم زندگی سے کہہ دو کہ میں رخ بدل رہا ہوں میں بنا ہوں اشک غم خود تمہیں کیوں میں کھل رہا ہوں یہ نکالو میرا قصہ کہ میں خود نکل رہا ہوں تری بزم خود غرض نے کئی رنگ بدلے لیکن میں حریف شمع بن کر اسی طرح جل رہا ہوں یوں ہی ٹالتے رہے تم مری ...

مزید پڑھیے

حال دل سنانے میں عمر بیت جاتی ہے

حال دل سنانے میں عمر بیت جاتی ہے دل میں گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے یوں تو روز کہتے ہیں ان کو بھول جائیں گے ہاں مگر بھلانے میں عمر بیت جاتی ہے یوں تو مسکرانے کو روز مسکراتے ہیں کھل کے مسکرانے میں عمر بیت جاتی ہے زندگی ہمیشہ جب تیرگی کی زد میں ہو شمع اک جلانے میں عمر بیت جاتی ...

مزید پڑھیے

یوں بھٹکنا در بہ در اچھا نہیں لگتا مجھے

یوں بھٹکنا در بہ در اچھا نہیں لگتا مجھے بن تمہارے یہ سفر اچھا نہیں لگتا مجھے پیار کے اس کھیل میں انجام سب کا ایک ہے ٹوٹنا دل کا مگر اچھا نہیں لگتا مجھے آسرا اللہ کا کافی ہے انساں کے لئے ہاتھ پھیلا کر بشر اچھا نہیں لگتا مجھے میں برا ہوں یہ بھلا اپنی انا میں مست ہوں کیوں ادھر ...

مزید پڑھیے

بند ہونٹوں سے بھی اظہار تمنا کرتے

بند ہونٹوں سے بھی اظہار تمنا کرتے آئنہ بن کے ترے حسن کو دیکھا کرتے اپنا سایہ بھی یہاں غیر نظر آتا ہے اجنبی شہر میں ہم کس پہ بھروسہ کرتے اس کی محفل میں تو اک بھیڑ تھی دیوانوں کی پہلے دل اہل نظر اہل وفا کیا کرتے عشق ہر حال میں پابند وفا ہوتا ہے ہم تو بدنام تھے کیوں آپ کو رسوا ...

مزید پڑھیے

دنیا تجھے چاہے کچھ بھی کہے ہم جان تمنا کہتے ہیں

دنیا تجھے چاہے کچھ بھی کہے ہم جان تمنا کہتے ہیں ہم تیری نظر میں غیر سہی پھر بھی تجھے اپنا کہتے ہیں پھولوں میں مثل گلاب ہے تو تاروں میں حسیں مہتاب ہے تو تو سب سے اچھا لگتا ہے تجھے سب سے اچھا کہتے ہیں تو دلبر ہے دل دار ہے تو تو جان و دل سے پیارا ہے فطرت نے جس کو سنوارا ہے تجھے حسن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4334 سے 4657