شاعری

جس کے دل میں کوئی ارمان نہیں ہوتا ہے

جس کے دل میں کوئی ارمان نہیں ہوتا ہے میری نظروں میں وہ انسان نہیں ہوتا ہے خودکشی جرم سمجھتے ہیں زمانے والے جان دینا کوئی آسان نہیں ہوتا ہے ہر گھڑی دل میں رہا کرتا ہے یادوں کا ہجوم یہ وہ گھر ہے کبھی ویران نہیں ہوتا ہے بھولی بسری ہوئی یادیں بھی رلا دیتی ہیں بے سبب کوئی پریشان ...

مزید پڑھیے

شوق اظہار ہے کرنا بھی نہیں چاہتے ہیں

شوق اظہار ہے کرنا بھی نہیں چاہتے ہیں اپنے وعدے سے مکرنا بھی نہیں چاہتے ہیں کوئی تو ہے مجھے جینے کی دعا دیتا ہے ہم ترے عشق میں مرنا بھی نہیں چاہتے ہیں تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے دل میں ترے کوچے سے گزرنا بھی نہیں چاہتے ہیں دل یہ کہتا ہے سمٹ جائیں تری بانہوں میں بوئے گل بن کے ...

مزید پڑھیے

کیا حسیں رات ہے اس رات سے ڈرتے کیوں ہو

کیا حسیں رات ہے اس رات سے ڈرتے کیوں ہو آ گئے ہو تو ملاقات سے ڈرتے کیوں ہو نام آتا ہے مرا جب بھی کسی محفل میں یہ بتاؤ کہ سوالات سے ڈرتے کیوں ہو دل لبھانے کے بھی انداز ہوا کرتے ہیں مست آنکھوں کے اشارات سے ڈرتے کیوں ہو کئی برسات کے موسم ہیں مری آنکھوں میں آتی جاتی ہوئی برسات سے ...

مزید پڑھیے

کب کہا میں نے کہ تم چاہنے والوں میں رہو

کب کہا میں نے کہ تم چاہنے والوں میں رہو تم غزل ہو تو غزل بن کے خیالوں میں رہو حسن ایسا ہے تمہارا کہ نہیں جس کا جواب اس لئے جان وفا تم تو سوالوں میں رہو چھپ گیا چاند اندھیرا ہے بھری محفل میں تم مرے دل میں اتر جاؤ اجالوں میں رہو اپنی خوشبو کو فضاؤں میں بکھر جانے دو پھول بن جاؤ ...

مزید پڑھیے

شاخ بلند بام سے اک دن اتر کے دیکھ

شاخ بلند بام سے اک دن اتر کے دیکھ انبار برگ و بار خزاں میں بکھر کے دیکھ مٹی کے سادگی میں الگ سا جمال ہے رنگوں کی نکہتوں کی قبا تار کرکے دیکھ امکاں کی وسعتوں کے افق زار کھل گئے پر تولنے لگے ہیں پرندے سحر کے دیکھ ظلمت کی کشتیوں کو بھنور ہے یہ روشنی در کھل رہے ہیں دانش و علم و خبر ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے

آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے ہے تمنا کا وہی جو زندگی کا حال ہے یوں دھواں دینے لگا ہے جسم اور جاں کا الاؤ جیسے رگ رگ میں رواں اک آتش سیال ہے پھیلتے جاتے ہیں دام نارسی کے دائرے تیرے میرے درمیاں کن حادثوں کا جال ہے گھر گئی ہے دو زمانوں کی کشاکش میں حیات اک طرف زنجیر ...

مزید پڑھیے

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے منزل اقرار اپنی آخری منزل ہے اب ہم کہ آئے ہیں گزر کر جادۂ انکار سے ترجماں تھا عکس اپنے چہرۂ گم گشتہ کا اک صدا آتی رہی آئینۂ اسرار سے ماند پڑتے جا رہے تھے خواب تصویروں کے رنگ رات اترتی جا رہی تھی درد کی دیوار ...

مزید پڑھیے

کل عالم وجود کہ اک دشت نور تھا

کل عالم وجود کہ اک دشت نور تھا سارا حجاب تیرہ دلی کا قصور تھا سمجھے تھے جہد عشق میں ہم سرخ رو ہوئے دیکھا مگر تو شیشۂ دل چور چور تھا پہنچے نہ یوں ہی منزل اظہار ذات تک تحت شعور اک سفر لا شعور تھا تھا جو قریب اس کو بصیرت نہ تھی نصیب جو دیکھتا تھا مجھ کو بہت مجھ سے دور تھا مبہم تھے ...

مزید پڑھیے

گھٹن عذاب بدن کی نہ میری جان میں لا

گھٹن عذاب بدن کی نہ میری جان میں لا بدل کے گھر مرا مجھ کو مرے مکان میں لا مری اکائی کو اظہار کا وسیلہ دے مری نظر کو مرے دل کو امتحان میں لا سخی ہے وہ تو سخاوت کی لاج رکھ لے گا سوال عرض طلب کا نہ درمیان میں لا دل وجود کو جو چیر کر گزر جائے اک ایسا تیر تو اپنی کڑی کمان میں لا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

جن پہ اجل طاری تھی ان کو زندہ کرتا ہے

جن پہ اجل طاری تھی ان کو زندہ کرتا ہے سورج جل کر کتنے دلوں کو ٹھنڈا کرتا ہے کتنے شہر اجڑ جاتے ہیں کتنے جل جاتے ہیں اور چپ چاپ زمانہ سب کچھ دیکھا کرتا ہے مجبوروں کی بات الگ ہے ان پر کیا الزام جس کو نہیں کوئی مجبوری وہ کیا کرتا ہے ہمت والے پل میں بدل دیتے ہیں دنیا کو سوچنے والا دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4335 سے 4657