شاعری

بدن سے رشتۂ جاں معتبر نہ تھا میرا

بدن سے رشتۂ جاں معتبر نہ تھا میرا میں جس میں رہتا تھا شاید وہ گھر نہ تھا میرا قریب ہی سے وہ گزرا مگر خبر نہ ہوئی دل اس طرح تو کبھی بے خبر نہ تھا میرا میں مثل سبزۂ بیگانہ جس چمن میں رہا وہاں کے گل نہ تھے میرے ثمر نہ تھا میرا نہ روشنی نہ حرارت ہی دے سکا مجھ کو پرائی آگ میں کوئی شرر ...

مزید پڑھیے

ہاں یہی شہر مرے خوابوں کا گہوارہ تھا

ہاں یہی شہر مرے خوابوں کا گہوارہ تھا انہی گلیوں میں کہیں میرا صنم خانہ تھا اسی دھرتی پہ تھے آباد سمن زار مرے اسی بستی میں مری روح کا سرمایہ تھا تھی یہی آب و ہوا نشوونما کی ضامن اسی مٹی سے مرے فن کا خمیر اٹھا تھا اب نہ دیواروں سے نسبت ہے نہ بام و در سے کیا اسی گھر سے کبھی میرا ...

مزید پڑھیے

فتنے عجب طرح کے سمن زار سے اٹھے

فتنے عجب طرح کے سمن زار سے اٹھے سارے پرند شاخ ثمردار سے اٹھے دیوار نے قبول کیا سیل نور کو سائے تمام تر پس دیوار سے اٹھے جن کی نمو میں تھی نہ معاون ہوا کوئی ایسے بھی گل زمین خس و خار سے اٹھے تسلیم کی سرشت بس ایجاب اور قبول سارے سوال جرأت انکار سے اٹھے شہر تعلقات میں اڑتی ہے جن ...

مزید پڑھیے

زندان صبح و شام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں

زندان صبح و شام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں اک گردش مدام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں بے فرش و بام سلسلۂ کائنات کے اس بے ستوں نظام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں بے سال و سن زمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ہم بے رنگ و نسل نام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں اس دائمی حصار میں ہم کو مفر کہاں ذروں کے ...

مزید پڑھیے

زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روز

زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روز میں سنواروں گا تری زلف پریشاں اک روز گل کھلائے گی نئی موج بہاراں اک روز ٹوٹ ہی جائیں گے قفل در زنداں اک روز کتنے الجھے ہوئے حالات زمانہ ہیں ابھی ہوں گے شانے پہ مرے گیسوئے جاناں اک روز اہل زنداں سے یہ کہہ دو کہ ذرا صبر کریں ہوگا ہر سمت گلستاں ہی ...

مزید پڑھیے

بے وفا ہے وہ کبھی پیار نہیں کر سکتا

بے وفا ہے وہ کبھی پیار نہیں کر سکتا ہاں مگر پیار سے انکار نہیں کر سکتا اپنی ہمت کو جو پتوار نہیں کر سکتا وہ سمندر کو کبھی پار نہیں کر سکتا جو کسی اور کے جلووں کا تمنائی ہو وہ کبھی بھی ترا دیدار نہیں کر سکتا ہونٹ کچھ کہنے کو بیتاب ہیں کب سے لیکن اس کی عادت ہے وہ اظہار نہیں کر ...

مزید پڑھیے

اب حسن و عشق کے بھی قصے بدل گئے ہیں

اب حسن و عشق کے بھی قصے بدل گئے ہیں منزل تھی ایک لیکن رستے بدل گئے ہیں کس پر یقین کیجے یہ دور مطلبی ہے لگتا ہے خون کے بھی رشتے بدل گئے ہیں آنکھیں بتا رہی ہیں ظاہر ہے حال دل کا وہ بے وفا نہیں تھے کتنے بدل گئے ہیں ہم جانتے ہیں پھر بھی پہچاننا ہے مشکل کچھ دوستوں کے اتنے چہرے بدل گئے ...

مزید پڑھیے

ہنس ہنس کر آنسو پی جانا آپ کے بس کی بات نہیں

ہنس ہنس کر آنسو پی جانا آپ کے بس کی بات نہیں اپنے گھر میں آگ لگانا آپ کے بس کی بات نہیں دیوانوں کی آنکھیں بھی آئینے جیسے ہوتی ہیں دیوانوں سے آنکھ ملانا آپ کے بس کی بات نہیں اب تو موت اٹھائے ہم کو تو شاید ہم اٹھ جائیں ہم کو اپنے در سے اٹھانا آپ کے بس کی بات نہیں ہر اک گام پہ اس کی ...

مزید پڑھیے

حد سے گزر نہ جاؤں میں ایسا نہ کیجیے

حد سے گزر نہ جاؤں میں ایسا نہ کیجیے مستی بھری نگاہ سے دیکھا نہ کیجیے پلکوں کو راستوں میں بچھایا نہ کیجیے یوں اپنے انتظار کو رسوا نہ کیجیے پڑھ لیں گے لوگ چہرے سے دل کی کتاب کو اتنا کسی کے بارے میں سوچا نہ کیجیے غیروں پہ اعتبار تو ہے بات دور کی اپنا بھی ہو سکے تو بھروسہ نہ ...

مزید پڑھیے

کوئی چودھویں رات کا چاند بن کر تمہارے تصور میں آیا تو ہوگا

کوئی چودھویں رات کا چاند بن کر تمہارے تصور میں آیا تو ہوگا کسی سے تو کی ہوگی تم نے محبت کسی کو گلے سے لگایا تو ہوگا لبوں سے محبت کا جادو جگا کے بھری بزم میں سب سے نظریں بچا کے نگاہوں کے رستے سے دل میں سما کے کسی نے تمہیں بھی چرایا تو ہوگا تمہارے خیالوں کی انگنائیوں میں مری یاد کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4333 سے 4657