شاعری

اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا

اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا تو اس سے بڑھ کے مرے ساتھ کوئی کیا کرے گا سنا ہے آج وہ مرہم پہ چوٹ رکھے گا مجھی سے مجھ کو بھلانے کا مشورہ کرے گا ترس رہی ہیں یہ آنکھیں اس ایک منظر کو جہاں سے لوٹ کے آنے کا دکھ ہوا کرے گا اگر یہ پھول ہے میری بلا سے مرجھائے اگر یہ زخم ہے مالک اسے ...

مزید پڑھیے

کسی کے ہجر کو ایسے منا رہے تھے ہم

کسی کے ہجر کو ایسے منا رہے تھے ہم گھڑی میں وقت کو الٹا گھما رہے تھے ہم نہیں تھا یاد سبق اپنی زندگی کا ہمیں سو امتحان کا پرچہ بنا رہے تھے ہم کنارے بیٹھ کے آنسو بہا کے آئے تھے ندی کی پیاس کو پانی پلا رہے تھے ہم کیا یہ جرم کہ اپنے ہی دل کی سنتے تھے یہی کہیں کہ خود اپنی سزا رہے تھے ...

مزید پڑھیے

مرے ہاتھوں میں ابھرا ہے یہ نقشہ کس طرح کا ہے

مرے ہاتھوں میں ابھرا ہے یہ نقشہ کس طرح کا ہے مری آنکھوں میں ٹھہرا ہے یہ دریا کس طرح کا ہے یہ میرا جسم ہے آزاد لیکن روح قیدی ہے خدایا کوئی بتلائے یہ پنجرا کس طرح کا ہے مری آہوں کو میرے قہقہوں نے ڈھانک رکھا ہے مری اس لاش کے اوپر یہ ملبہ کس طرح کا ہے ہے جن میں بوجھ دنیا بھر کا مذہب ...

مزید پڑھیے

تم سے آتا نہیں جدا ہونا

تم سے آتا نہیں جدا ہونا تم مری آخری سزا ہونا جس کو تم روز دکھ ہی جاتے ہو اس کی قسمت ہے آئنہ ہونا اس کے ہونے کی یہ گواہی ہے ان درختوں کا یوں ہرا ہونا کتنا مشکل ہے بچپنا اب تو کتنا آسان تھا بڑا ہونا میں تو حل ہوں کسی کی مشکل کا مجھ کو آیا نہ مسئلہ ہونا

مزید پڑھیے

یوں بھی راس آئی نہیں اس کی وفا تم رکھ لو

یوں بھی راس آئی نہیں اس کی وفا تم رکھ لو مجھ کو بیمار ہی رہنے دو دوا تم رکھ لو بند کمروں کی گھٹن میرے لیے رہنے دو یہ جو آتی ہے دریچوں سے ہوا تم رکھ لو میری راہوں میں بچھا دو تم اندھیرے سارے اور یہ لو مرے حصے کا دیا تم رکھ لو اوڑھ کر بیٹھ گئی ہوں میں دکھوں کی چادر یہ خوشی اور یہ ...

مزید پڑھیے

محبتوں کا جو سر پر وبال رکھا ہے

محبتوں کا جو سر پر وبال رکھا ہے فتور عشق ہے اور ہم نے پال رکھا ہے یہ انتخاب جو ہم نے کیا ہے جینے کا فراق چن لیا ہے اور وصال رکھا ہے کسی بھی روز ملو اور اداسیاں لے لو ہم ایسے لوگ ہیں سب پر ملال رکھا ہے خزاں کے پھول سنجوئے کتاب میں رکھے فصیل غم سے یوں رشتہ بحال رکھا ہے وہ آخرش مجھے ...

مزید پڑھیے

ہم اس جہان میں آئے تو ساتھ لائے دن

ہم اس جہان میں آئے تو ساتھ لائے دن کسی کے موت کے جینے کے سب منائے دن خوشی کا دن تو بڑی منتوں سے بنتا ہے اداسیوں کے مگر ہیں بنے بنائے دن ہوئے ہیں آنکھ سے اوجھل کبھی جو اپنے تھے ہماری گود میں پلتے ہیں کچھ پرائے دن یہ شور و غل یہ ٹھہاکے تا قہقہوں کا ہجوم بڑے جتن کئے پھر ہم نے چپ ...

مزید پڑھیے

وہ اب دل سے تمہارے جا رہا ہے

وہ اب دل سے تمہارے جا رہا ہے تمہیں اس کا خیال اب آ رہا ہے میں اس کے ساتھ کو ترسا کروں گی جو میرے ساتھ بھی تنہا رہا ہے تو اب یہ دکھ بھی دنیا بانٹ لے گی مجھے اس بات کا غم کھا رہا ہے اسے تم سے محبت ہو گئی ہے تمہارے سامنے شرما رہا ہے بہت سے لوگ مجھ میں رو رہے ہیں بس اک وہ ہے کہ ہنستا جا ...

مزید پڑھیے

اک نئی داستاں سنانے دو

اک نئی داستاں سنانے دو آج کی نیند پھر گنوانے دو بیڑیاں توڑ کر سماجوں کی عشق میں قید ہیں دوانے دو میرے ماضی کے ریگزاروں میں خط ملے ہیں مجھے پرانے دو آج روئیں گے ہم بھی جی بھر کے غم تو بس ایک ہے بہانے دو اس کو آزاد کر چکی ہوں میں پھر بھی کہتا ہے مجھ کو جانے دو ایک چہرے سے میں ...

مزید پڑھیے

خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے

خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے ہمیں ہم سے بچانے کون آتا سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے مری تنہائی کا عالم تو دیکھو زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے تجھے جانے کی جلدی تھی سو خود سے ترے حصے کا شکوہ کر لیا ہے نہیں مانگیں گے تجھ کو اب دعا میں خدا سے ہم نے جھگڑا کر لیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4330 سے 4657