شاعری

یہ بن سنور کے مری سادگی میں لوٹ آئے

یہ بن سنور کے مری سادگی میں لوٹ آئے مرے خیال مری شاعری میں لوٹ آئے اسے کہو کہ مری ذات اب بھی باقی ہے دیا بجھا دے مری روشنی میں لوٹ آئے وہ جس طرح سے پرندے شجر پہ لوٹتے ہیں ہم اپنے آپ سے نکلے تجھی میں لوٹ آئے جو میں ہنسوں تو مرا اشک بن کے وہ چھلکے کسی طرح سے وہ میری ہنسی میں لوٹ ...

مزید پڑھیے

کچھ بات رہ گئی تھی بتانے کے باوجود

کچھ بات رہ گئی تھی بتانے کے باوجود ہوں حالت سفر میں گھر آنے کے باوجود دل سے اتر چکا تھا جو آ کر گلے ملا دوری وہی تھی دل سے لگانے کے باوجود ہاتھوں میں اب بھی اس کی ہے خوشبو بسی ہوئی جو رہ گئی تھی ہاتھ چھڑانے کے باوجود پرزے وہ خط کے آج بھی رکھے ہیں میرے پاس جو بچ گئے تھے خط کو جلانے ...

مزید پڑھیے

وہ جو اپنی ذات میں رکھتے ہیں عریانی کا شور

وہ جو اپنی ذات میں رکھتے ہیں عریانی کا شور خلد سے آئے ہیں لے کے روح یزدانی کا شور دشت میں رہتے ہیں پیاسے اور دریچے وا کئے خوش ہوا کرتے ہیں سن کے دور سے پانی کا شور ایک لڑکی چوڑیاں کھنکا رہی تھی اور تبھی اس کھنک سے اٹھ رہا تھا جیسے زندانی کا شور ہر کسی کا ایک لا ظاہر مقرب ہے ...

مزید پڑھیے

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے رنگ اتار دو کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ میں بکھرگیا ہوں سمیٹ لو میں بگڑ گیا ہوں ...

مزید پڑھیے

وہی ہیں اپنی راتوں کی کتھائیں

وہی ہیں اپنی راتوں کی کتھائیں فراق یار خواب آور دوائیں وہی اندر تموج آندھیوں کا وہی باہر ہوا کی سائیں سائیں یہاں ہے کون ایسا آنے والا کہ ہم کمرہ سلیقے سے سجائیں کوئی ان رت جگوں کی حد بھی ہوگی دریچوں میں دیے کب تک جلائیں کہاں تک ساتھ چل سکتا ہے کوئی کہاں تک ساتھ دیں گی یہ ...

مزید پڑھیے

یہ حسیں لوگ ہیں تو ان کی مروت پہ نہ جا

یہ حسیں لوگ ہیں تو ان کی مروت پہ نہ جا خود ہی اٹھ بیٹھ کسی اذن و اجازت پہ نہ جا صورت شمع ترے سامنے روشن ہیں جو پھول ان کی کرنوں میں نہا ذوق سماعت پہ نہ جا دل سی چیک بک ہے ترے پاس تجھے کیا دھڑکا جی کو بھا جائے تو پھر چیز کی قیمت پہ نہ جا اتنا کم ظرف نہ بن اس کے بھی سینے میں ہے دل اس ...

مزید پڑھیے

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں مگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیں اگر ملو تو کھلے دل کے ساتھ ہم سے ملو کہ رسمی رسمی سی یہ چاہتیں بھی ٹھیک نہیں تعلقات میں گہرائیاں تو اچھی ہیں کسی سے اتنی مگر قربتیں بھی ٹھیک نہیں دل و دماغ سے گھایل ہیں تیرے ہجر نصیب شکستہ در بھی ہیں ان ...

مزید پڑھیے

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میں کہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں جو دل پر داغ ہیں پچھلی رتوں کے انہیں اب آنسوؤں سے دھو رہا ہوں سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن بھری محفل میں تنہا ہو رہا ہوں مجھے ان نسبتوں سے کون سمجھا میں رشتے ...

مزید پڑھیے

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے تم زخم جدائی دینا دل بھی بجھ جائے گا ڈھلتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا

گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا تم کسی چشم خریدار میں مت آ جانا خاک اڑانا انہیں گلیوں میں بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار میں مت آ جانا یوں ہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو تم کسی دام طلب گار میں مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجدھار میں مت آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4331 سے 4657