یہ بن سنور کے مری سادگی میں لوٹ آئے
یہ بن سنور کے مری سادگی میں لوٹ آئے مرے خیال مری شاعری میں لوٹ آئے اسے کہو کہ مری ذات اب بھی باقی ہے دیا بجھا دے مری روشنی میں لوٹ آئے وہ جس طرح سے پرندے شجر پہ لوٹتے ہیں ہم اپنے آپ سے نکلے تجھی میں لوٹ آئے جو میں ہنسوں تو مرا اشک بن کے وہ چھلکے کسی طرح سے وہ میری ہنسی میں لوٹ ...