شاعری

سرد نہ کر مذاق عشق بیخودئ نماز میں

سرد نہ کر مذاق عشق بیخودئ نماز میں آنکھ کو دوربیں بنا جلوہ گہہ مجاز میں راز نظام کائنات ان کی نگاہ ناز میں اصلیت خدا نہاں میری خودی کی راز میں پھر تجھے ڈھونڈھ لے گی خود ظرف شناس برق طور شوق کلیم شرط ہے عشق کے سوز و ساز میں یا تو خودی کو بھول جا یا پھر اسی کو بھول جا حس مغائرت نہ ...

مزید پڑھیے

بیمار غم کا کوئی مداوا نہ کیجیے

بیمار غم کا کوئی مداوا نہ کیجیے یعنی ستم گری بھی گوارا نہ کیجیے رسوائی ہے تو یہ بھی گوارا نہ کیجیے یعنی پس خیال بھی آیا نہ کیجیے ظرف نگاہ چاہیے دیدار کے لئے رخ کو پس نقاب چھپایا نہ کیجیے دل شوق سے جلائیے انکار ہے کسے لیکن جلا جلا کے بجھایا نہ کیجیے پردہ نگاہ کا ہے تو کیسی ...

مزید پڑھیے

پہلے درد دل پہ کہتے تھے کہ یہ کیا ہو گیا

پہلے درد دل پہ کہتے تھے کہ یہ کیا ہو گیا اب یہ کاوش ہے کہ کیوں بیمار اچھا ہو گیا دل بھی پہلو میں کبھی اک چیز تھا یادش بخیر اب خدا جانے کہاں جاتا رہا کیا ہو گیا آ گئے لو وہ عیادت کے لئے خود آ گئے ہو گیا بیمار درد ہجر اچھا ہو گیا ایک موتی سا چمکتا ہے سر مژگان ناز اوج پر کیا میری قسمت ...

مزید پڑھیے

آرزو رکھنا محبت میں بڑا مذموم ہے

آرزو رکھنا محبت میں بڑا مذموم ہے سن کہ ترک آرزو ہی عشق کا مفہوم ہے ان نگاہوں کے تصادم سے جو چنگاری اٹھے عشق اس کا نام ہے یہ عشق کا مفہوم ہے اب تو یہ ارمان ہے ارمان ہی پیدا نہ ہوں گو سمجھتا ہوں کہ یہ امید بھی موہوم ہے وہ کھڑے ہیں وہ تصور اب تجھے میں کیا کہوں آنکھ محو دید کر دید سے ...

مزید پڑھیے

ہاتھ ملتا ہے پشیمان جفا میرے بعد

ہاتھ ملتا ہے پشیمان جفا میرے بعد خیر یوں بڑھ گئی توقیر وفا میرے بعد خود سے محجوب ہے خود ان کی حیا میرے بعد حسن مغموم ہے معذور ادا میرے بعد رنگ لائے گی مری آہ رسا میرے بعد تم مجھے یاد کرو گے بخدا میرے بعد ہو گئے زرد کف دست نگاریں افسوس خیر سر سبز تو ہے نخل حنا میرے بعد سوگواری ...

مزید پڑھیے

میرا خیال ان کی تمنا کہیں جسے

میرا خیال ان کی تمنا کہیں جسے ان کا گمان رنجش بے جا کہیں جسے میں آرزوئے موت کس امید پر کروں وہ جانتا ہے رشک مسیحا کہیں جسے سچ پوچھئے تو نام اسی کا ہے زندگی ہم اصطلاح عشق میں مرنا کہیں جسے افتادگی میں دل بھی شریک الم نہیں دنیا میں آہ کون ہے اپنا کہیں جسے سر پھوڑنا جنوں میں دلیل ...

مزید پڑھیے

یہ عمر ہجر اگر صرف انتظار نہ ہو

یہ عمر ہجر اگر صرف انتظار نہ ہو تو واقعی مجھے ہستی پہ اعتبار نہ ہو مجھے نہیں ہے اگر ان پہ اختیار نہ ہو انہیں بھی یہ دل بیتاب سازگار نہ ہو وہاں وہ خوش کہ مجھے ان سے کچھ گلہ ہی نہیں یہاں یہ پاس کہیں راز آشکار نہ ہو رہا سہا بھی دل زار کا قرار گیا وہ بار بار یہ کہتے ہیں بے قرار نہ ...

مزید پڑھیے

خاموش اندھیری راتوں میں جب ساری دنیا سوتی ہے

خاموش اندھیری راتوں میں جب ساری دنیا سوتی ہے اک ہجر کا مارا روتا ہے اور شبنم آنسو دھوتی ہے پہلے تو محبت رفتہ رفتہ ہوش و خرد کو کھوتی ہے پھر یاد کسی کی آ آ کر کانٹے سے دل میں چبھوتی ہے کچھ سوچتا ہوں کچھ کہتا ہوں کچھ کہتے ہیں کچھ سنتا ہوں جب ان کے سامنے ہوتا ہوں میری یہ حالت ہوتی ...

مزید پڑھیے

مری تقدیر شکوہ سنج دور آسماں کیوں ہو

مری تقدیر شکوہ سنج دور آسماں کیوں ہو ملے جب درد میں لذت تلاش مہرباں کیوں ہو شریک لذت آزاد کوئی ہم زباں کیوں ہو تمہیں بتلاؤ معنی خیز میری داستاں کیوں ہو وہی دل ہے وہی خواہش وہی تم ہو وہی میں ہوں مری دنیا میں آخر انقلاب آسماں کیوں ہو وہ میرے بعد روتے ہیں اب ان سے کوئی کیا ...

مزید پڑھیے

پھر بڑھا جوش جنوں صورت سیلاب مجھے

پھر بڑھا جوش جنوں صورت سیلاب مجھے پھر کہیں غرق نہ کر دے کوئی گرداب مجھے میں وہ ہوں آپ جو ہو اپنی تباہی کا سبب کر گئی کثرت گریہ مری غرقاب مجھے چشم میں اشک خلش دل میں جگر میں ٹیسیں اف یہ کیا چیز کیا کرتی ہے بیتاب مجھے میری امید میں ہے یاس کی صورت مضمر میری ہستی ہے فنا مثل خط آب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 429 سے 4657