شاعری

اپنی قسمت کا ستارا سر مژگاں دیکھا

اپنی قسمت کا ستارا سر مژگاں دیکھا آج ہم نے اثر جذبۂ پنہاں دیکھا اب کسے ڈھونڈ رہی ہے نگہ ناز بتا حاصل جور مرے زود پشیماں دیکھا جو ستاتا ہے وہی دل میں جگہ پاتا ہے یہ محبت میں نئی طرز کا ارماں دیکھا اب یہ شکوہ ہے وہ پہلی سی گھٹائیں ہی نہیں ہم نہ کہتے تھے نہ کر زلف پریشاں ...

مزید پڑھیے

ہر چند بھلاتا ہوں بھلایا نہیں جاتا

ہر چند بھلاتا ہوں بھلایا نہیں جاتا اک نقش تخیل ہے مٹایا نہیں جاتا میں نے جو کہا درد بڑھایا نہیں جاتا کہنے لگے نادان جتایا نہیں جاتا امید کی کشتی کو سہارا تو لگا دو مانا کہ تمہیں ساتھ بٹھایا نہیں جاتا وہ داغ محبت کا نشاں پوچھ رہے ہیں حالانکہ سمجھتے ہیں دکھایا نہیں جاتا اب ان ...

مزید پڑھیے

جس قدر قلب کی تسکین کے ساماں ہوں گے

جس قدر قلب کی تسکین کے ساماں ہوں گے کرب افزائے سکون غم ہجراں ہوں گے عرصۂ حشر میں جو عشق کا عنواں ہوں گے میری ہی خاک کے اجزائے پریشاں ہوں گے اشک معصوم جو خمیازۂ عصیاں ہوں گے وہ بھی منجملۂ سرمایۂ ایماں ہوں گے میرے ارماں تو نہ منت کش جاناں ہوں گے دل سے نکلیں گے تو وہ غیر کے ارماں ...

مزید پڑھیے

جی بھی کچھ ایسا جلایا ہے کہ جی جانتا ہے

جی بھی کچھ ایسا جلایا ہے کہ جی جانتا ہے آپ نے اتنا رلایا ہے کہ جی جانتا ہے یاد بن کر تری معصوم وفا نے ظالم دل پہ وہ نقش بٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے شوق گستاخ نے اکثر تمہیں برہم کر کے ہائے وہ لطف اٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے جب کبھی یاد دلایا ہے تخیل نے تمہیں اس طرح یاد دلایا ہے کہ جی ...

مزید پڑھیے

لب خموش مجھے آہ آہ کرنے دے

لب خموش مجھے آہ آہ کرنے دے گناہ عشق سہی یہ گناہ کرنے دے تو کامیاب نگاہوں کو شرمسار نہ کر اسی طرح ستم بے پناہ کرنے دے ابھی سے درس حقیقت ذرا ٹھہر واعظ خرد کو اور خراب نگاہ کرنے دے نہ رات دن کی خبر ہے نہ آج کل کا پتہ کسی قرار شکن سے نباہ کرنے دے نئی کماں ہے نئی مشق ہے نہ روک ...

مزید پڑھیے

اک یادگار چاہیے کوئی نشاں رہے

اک یادگار چاہیے کوئی نشاں رہے تربت مری رہے نہ رہے آسماں رہے کیوں دود آہ نیم شبی رائیگاں رہے اک اور آسماں نہ تا آسماں رہے کوسوں نشان منزل الفت نکل گئے ہم محو نغمۂ جرس کارواں رہے دل انتہا پسند ہے شوق جفا نہیں وہ مہرباں رہے تو بہت مہرباں رہے جور و جفائے‌ دور فلک ہیں بقدر عشق اب ...

مزید پڑھیے

دل آزاری محبت میں کہاں معلوم ہوتی ہے

دل آزاری محبت میں کہاں معلوم ہوتی ہے عجب تسکیں پس‌ سوز‌ نہاں معلوم ہوتی ہے نگاہ ناز اکثر داستاں معلوم ہوتی ہے کسی کی آنکھ ہم وصف زباں معلوم ہوتی ہے خدایا خیر کیا تازہ تباہی آنے والی ہے خموشی سے قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے چھپی جاتی ہے منزل ہی غبار راہ منزل میں مری قسمت شریک ...

مزید پڑھیے

تجدید عہد کر کسی سیمیں بدن کے ساتھ

تجدید عہد کر کسی سیمیں بدن کے ساتھ یعنی لٹا شباب شراب کہن کے ساتھ وابستۂ بہار ہو خود مثل رنگ و بو یوں زندگی گزار کسی گل بدن کے ساتھ ہاں اے مغنیہ کوئی مدھم سا راگ چھیڑ یعنی ملا رباب دل پر محن کے ساتھ ساقی پلا شراب زکوٰۃ شباب دے ہاں پھر کوئی مذاق دل پر محن کے ساتھ دل چاہتا ہے پھر ...

مزید پڑھیے

یوں بھی ترا احسان ہے آنے کے لیے آ

یوں بھی ترا احسان ہے آنے کے لیے آ اے دوست کسی روز نہ جانے کے لیے آ ہر چند نہیں شوق کو یارائے تماشا خود کو نہ سہی مجھ کو دکھانے کے لیے آ یہ عمر، یہ برسات، یہ بھیگی ہوئی راتیں ان راتوں کو افسانہ بنانے کے لیے آ جیسے تجھے آتے ہیں نہ آنے کے بہانے ایسے ہی بہانے سے نہ جانے کے لیے آ مانا ...

مزید پڑھیے

لفظ تو ملتے نہیں اظہار محسوسات کو

لفظ تو ملتے نہیں اظہار محسوسات کو اب وہ سمجھیں یا نہ سمجھیں میرے دل کی بات کو در حقیقت طور پر موسیٰ کو سوجھی ہی نہیں ورنہ آنکھیں جذب کر لیتیں تجلیات کو میری آگے سے ہٹا لو یا تو یہ مبہم کتاب یا پلٹنے دو مجھے اوراق موجودات کو ہائے مت پوچھو مریض غم کی کیفیات کرب نیند کیا غفلت سی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 430 سے 4657