اپنی قسمت کا ستارا سر مژگاں دیکھا
اپنی قسمت کا ستارا سر مژگاں دیکھا آج ہم نے اثر جذبۂ پنہاں دیکھا اب کسے ڈھونڈ رہی ہے نگہ ناز بتا حاصل جور مرے زود پشیماں دیکھا جو ستاتا ہے وہی دل میں جگہ پاتا ہے یہ محبت میں نئی طرز کا ارماں دیکھا اب یہ شکوہ ہے وہ پہلی سی گھٹائیں ہی نہیں ہم نہ کہتے تھے نہ کر زلف پریشاں ...