کس طرح اس کو بلاؤں خانۂ برباد میں
کس طرح اس کو بلاؤں خانۂ برباد میں دل تأثر چاہتا ہے بے صدا فریاد میں تیرگیٔ خوش گماں ہے جی جہاں لگنے لگے شمع وحشت اک جلاؤں اس جہان شاد میں جانتی ہوں یہ حکایت فصل بربادی کی ہے پر متاع دل یہی ہے سینۂ ناشاد میں وہ مثال خواب رنگیں اب کہاں موجود ہے سو رہی ہوں میں ابھی تک خواب گاہ یاد ...