شاعری

کس طرح اس کو بلاؤں خانۂ برباد میں

کس طرح اس کو بلاؤں خانۂ برباد میں دل تأثر چاہتا ہے بے صدا فریاد میں تیرگیٔ خوش گماں ہے جی جہاں لگنے لگے شمع وحشت اک جلاؤں اس جہان شاد میں جانتی ہوں یہ حکایت فصل بربادی کی ہے پر متاع دل یہی ہے سینۂ ناشاد میں وہ مثال خواب رنگیں اب کہاں موجود ہے سو رہی ہوں میں ابھی تک خواب گاہ یاد ...

مزید پڑھیے

پہلی پہلی وہ ملاقات وہ برسات کی رات

پہلی پہلی وہ ملاقات وہ برسات کی رات یاد ہے یاد ہے وہ شرم و حجابات کی رات وہ لگاوٹ سے ہمہ شکوے شکایات کی رات وہ ترے سایۂ گیسو میں حکایات کی رات ڈول پر چاند ہرے کھیت فضائیں خاموش کیسی معصوم ہوا کرتی ہے دیہات کی رات حشر کا روز کبھی ختم تو ہوگا زاہد آئے گی آئے گی ظالم یہ خرابات کی ...

مزید پڑھیے

بستیاں تو آسماں لے جائیں گے

بستیاں تو آسماں لے جائیں گے یہ سمندر کس کنارے جائیں گے فاصلوں میں زندگی کھو جائے گی گنبدوں میں خواب دیکھے جائیں گے تم کسی منظر میں سن لینا ہمیں ہم کبھی گونجوں میں ڈھلتے جائیں گے دور تک یہ راستے خاموش ہیں دور تک ہم خود کو سنتے جائیں گے اک دفعہ کی نیند کیسا جرم ہے عمر بھر ہم تم ...

مزید پڑھیے

شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیں

شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیں پھر لوگ میرے اندر سنسان ہو گئے ہیں ان دوریوں کی مشکل آنکھوں میں بجھ گئی ہے ہم آنسوؤں میں بہہ کر آسان ہو گئے ہیں ایسی خموشیاں ہیں سب راستے جدا ہیں الفاظ میں جزیرے ویران ہو گئے ہیں تم برف میں نہ جانے کب سے جمے ہوئے ہو ہم جانے کس ہوا کا طوفان ہو ...

مزید پڑھیے

جچتی نہیں کچھ شاہی و املاک نظر میں

جچتی نہیں کچھ شاہی و املاک نظر میں ہیں مہر و مہ و انجم و افلاک نظر میں اک سوز فسوں گر ہے تری آنکھ میں پنہاں ہے دل کے لئے شوق کا فتراک نظر میں کیا خوب کہ کشکول فقیری سے ہے آیا اک گنج گراں مایہ تہ خاک نظر میں اک خواب سحر ساز کا نایاب خزانہ دریافت کیا ہے تری بے باک نظر میں کچھ اور ...

مزید پڑھیے

سورج سارا شہر ڈراتا رہتا ہے

سورج سارا شہر ڈراتا رہتا ہے پتھریلی سڑکوں پہ دریا پیاسا ہے نیند ہماری بھیڑ میں ہنستی رہتی ہے جنگل اپنی خاموشی میں الجھا ہے دھرتی اور آکاش کی دنیا میں جیون دو طوفانوں میں قیدی کشتی سا ہے ہوا پرندوں کو لے کر کس دیس گئی میدانوں میں پیڑوں کا سناٹا ہے راتوں کی سرگوشی بنتی ہوں ...

مزید پڑھیے

لمحۂ امکان کو پہلو بدلتے دیکھنا

لمحۂ امکان کو پہلو بدلتے دیکھنا آتش بے رنگ میں خود کو پگھلتے دیکھنا عشق میں یہ فیصلہ ہے اس دل سودائی کا خود کو گرتے دیکھنا اس کو سنبھلتے دیکھنا اضطراب درد میں حد سے گزر جانا نہیں حسن شام آرزو کا روپ ڈھلتے دیکھنا عمر بے انداز کو کافی سہارا ہو گیا خواب خوش انداز اس کے ساتھ چلتے ...

مزید پڑھیے

محبت آگ بن جاتی ہے سینہ میں نہاں ہو کر

محبت آگ بن جاتی ہے سینہ میں نہاں ہو کر تمنائیں جلا دیتی ہیں دل چنگاریاں ہو کر ادھر بھی تم ادھر بھی تم یہاں بھی تم وہاں بھی تم یہ تم نے کیا قیامت کی نگاہوں سے نہاں ہو کر سمجھتے ہیں جسے منزل فریب راہ منزل ہے مگر چپ ہوں یہ مجبوری شریک کارواں ہو کر انہیں بھی داستان ہجر چپکے سے سنا ...

مزید پڑھیے

مٹ نہیں سکتا قیامت تک نشان آرزو

مٹ نہیں سکتا قیامت تک نشان آرزو حسن جسم آرزو ہے عشق جان آرزو وہ سنیں سینہ سے لگ کر داستان آرزو دل کی ہر آواز ہوتی ہے زبان آرزو بے خودی کی منزلوں میں صرف حیرت ہو گیا دل کہ لے دے کر بچا تھا اک نشان آرزو بے قراری بے خودی بے چارگی دیوانگی ہیں یہ عنوانات زیب داستان آرزو ہو چکی روز ...

مزید پڑھیے

تقدیر کے آگے کبھی تدبیر کسی کی

تقدیر کے آگے کبھی تدبیر کسی کی چلتی ہو تو سمجھے کوئی تقصیر کسی کی اب ایک تمنا ہو تو پوری کوئی کر دے یوں کون بدل سکتا ہے تقدیر کسی کی دل میں اتر آئی ہے نگاہوں سے سمٹ کر کس درجہ حیا کوش ہے تصویر کسی کی وہ آئیں نہ آئیں مجھے نیند آ نہیں سکتی سنتا ہی نہیں نالۂ شبگیر کسی کی برسات کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 428 سے 4657