شاعری

مثال موج نسیم بہار گزری ہے

مثال موج نسیم بہار گزری ہے وہ زندگی جو سر کوئے یار گزری ہے وہ اک نگاہ جو پیغام صد نشاط بھی ہے نہ جانے کیوں وہ مرے دل پہ بار گزری ہے وہ تشنگی جو سر میکدہ نکھرنا تھی وہ تشنگی بھی یوں ہی بے بہار گزری ہے ابھی ابھی تو نہ آ اے خیال آمد یار ابھی ابھی تو شب انتظار گزری ہے ہمیں تو ان کی ...

مزید پڑھیے

دل و دماغ جلائے ہیں اس عمل کے لئے

دل و دماغ جلائے ہیں اس عمل کے لئے نئی زمین نکالی نئی غزل کے لئے نفاستوں میں بھی اپنی مثال آپ ہیں ہم گلوں کے بوسے بھی ہم نے سنبھل سنبھل کے لئے سفر میں رہتے ہیں ہر وقت خوشبوؤں کی طرح سکوں ملا نہ کہیں ہم کو ایک پل کے لئے یہ راہ عشق و وفا ہے یہاں کا مسلک ہے قدم قدم رہو تیار تم اجل کے ...

مزید پڑھیے

تم جس کو ڈھونڈتے ہو یہ محفل نہیں ہے وہ

تم جس کو ڈھونڈتے ہو یہ محفل نہیں ہے وہ لوگوں کے اس ہجوم میں شامل نہیں ہے وہ رستوں کے پیچ و خم نے کہیں اور لا دیا جانا ہمیں جہاں تھا یہ منزل نہیں ہے وہ دریا کے رخ کو موڑ کے آئے تو یہ کھلا ساحل کے رنگ اور ہیں ساحل نہیں ہے وہ دنیا میں بھاگ دوڑ کا حاصل یہی تو ہے حاصل ہر ایک چیز ہے حاصل ...

مزید پڑھیے

یاد کرتے ہو مجھے سورج نکل جانے کے بعد

یاد کرتے ہو مجھے سورج نکل جانے کے بعد اک ستارہ نے یہ پوچھا رات ڈھل جانے کے بعد میں زمیں پر ہوں تو پھر کیوں دیکھتا ہوں آسماں یہ خیال آیا مجھے اکثر پھسل جانے کے بعد دوستوں کے ساتھ چلنے میں بھی خطرے ہیں ہزار بھول جاتا ہوں ہمیشہ میں سنبھل جانے کے بعد اب ذرا سا فاصلا رکھ کر جلاتا ...

مزید پڑھیے

یقین ہے نہ گماں ہے ذرا سنبھل کے چلو

یقین ہے نہ گماں ہے ذرا سنبھل کے چلو عجیب رنگ جہاں ہے ذرا سنبھل کے چلو سلگتے خوابوں کی بستی ہے رہ گزار حیات یہاں دھواں ہی دھواں ہے ذرا سنبھل کے چلو روش روش ہے گزر گاہ نکہت برباد کلی کلی نگراں ہے ذرا سنبھل کے چلو جو زخم دے کے گئی ہے ابھی نسیم سحر سکوت گل سے عیاں ہے ذرا سنبھل کے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے

آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے عالم کیا کیا دکھا رہا ہے عالم اک انتظار کا ہے کھلتا نہیں انتظار کیا ہے قطرہ قطرہ جو پی چکا ہے دریا دریا پکارتا ہے کیا کہہ گئی زندگی کی آہٹ جو ہے کسی سوچ میں کھڑا ہے اے موج نسیم صبح گاہی ہر غنچہ کا دل دھڑک رہا ہے تم اور ذرا قریب آ جاؤ خنجر رگ جاں تک ...

مزید پڑھیے

تری جبیں پہ مری صبح کا ستارہ ہے

تری جبیں پہ مری صبح کا ستارہ ہے ترا وجود مری ذات کا اجالا ہے حریف پرتو مہتاب ہے جمال ترا کچھ اور لگتا ہے دل کش جو دور ہوتا ہے مرے یقین کی معصومیت کو مت ٹوکو مری نگاہ میں ہر نقش اک تماشا ہے نظر تو آئے کوئی راہ زندگانی کی تمام عالم امکاں غبار صحرا ہے نہ آرزو سے کھلا ہے نہ جستجو سے ...

مزید پڑھیے

سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا

سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا رنگ و نکہت گل پر اپنا تھا اجارا کیا کھیل ہے محبت میں جان و دل کا سودا کیا دیکھیے دکھاتی ہے اب یہ زندگی کیا کیا جب بھی جی امڈ آیا رو لیے گھڑی بھر کو آنسوؤں کی بارش سے موسموں کا رشتہ کیا کب سر نظارہ تھا ہم کو بزم عالم کا یوں بھی دیکھ کر تم کو اور ...

مزید پڑھیے

کیسے سمجھاؤں نسیم صبح تجھ کو کیا ہوں میں

کیسے سمجھاؤں نسیم صبح تجھ کو کیا ہوں میں پھول کے سائے میں مرجھایا ہوا پتا ہوں میں خاک کا ذرہ بھی کوئی تیرے دامن میں نہ تھا قدر کر اے زندگی ٹوٹا ہوا تارا ہوں میں ہر دھڑکتے دل سے انجانا سا رشتہ ہے مرا آگ دامن میں کسی کے بھی لگے جلتا ہوں میں اپنی تاریکی سمیٹے پوچھتی ہے مجھ سے ...

مزید پڑھیے

نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی

نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی یہ رات پھر مری آنکھوں سے آج ہار گئی لئے ہوئے کوئی افسانۂ بہار گئی صبا چمن سے بہت آج سوگوار گئی ہوئی جو صبح تو اشکوں سے جگمگا اٹھی جو آئی شام تو یادوں سے مشک بار گئی اسی نگاہ نے مارا الم پرستوں کو وہی نگاہ مری زندگی سنوار گئی زمین کوئے ملامت بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4286 سے 4657