شاعری

ترے خیال کو زنجیر کرتا رہتا ہوں

ترے خیال کو زنجیر کرتا رہتا ہوں میں اپنے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہوں تمام رنگ ادھورے لگے ترے آگے سو تجھ کو لفظ میں تصویر کرتا رہتا ہوں جو بات دل سے زباں تک سفر نہیں کرتی اسی کو شعر میں تحریر کرتا رہتا ہوں دکھوں کو اپنے چھپاتا ہوں میں دفینوں سا مگر خوشی کو ہمہ گیر کرتا رہتا ...

مزید پڑھیے

یہ بات وقت سے پہلے کہاں سمجھتے ہیں

یہ بات وقت سے پہلے کہاں سمجھتے ہیں ہم اک سرائے کو اپنا مکاں سمجھتے ہیں یقیں کسی کو نہیں اپنی بے ثباتی کا سب اپنے آپ کو شاہ زماں سمجھتے ہیں بس اک اڑان بھری ہے ابھی خلاؤں تک اسی کو اہل زمیں آسماں سمجھتے ہیں ہمیں بھی کھینچتی ہے اس کی ہر کشش لیکن یہ خاکداں ہے اسے خاکداں سمجھتے ...

مزید پڑھیے

سیاہ رات کے بدن پہ داغ بن کے رہ گئے

سیاہ رات کے بدن پہ داغ بن کے رہ گئے ہم آفتاب تھے مگر چراغ بن کے رہ گئے کسی کو عشق میں بھی اب جنوں سے واسطہ نہیں یہ کیا ہوا کہ سارے دل دماغ بن کے رہ گئے وہ شاخ شاخ نیلے پیلے لال رنگ کیا ہوئے تمام دشت کے پرند زاغ بن کے رہ گئے جنہیں یہ زعم تھا زمیں سے تشنگی مٹائیں گے عجب ہوا وہی تہی ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی شے کہاں نایاب ہے ہمارے لئے

کوئی بھی شے کہاں نایاب ہے ہمارے لئے کھلا ہوا تو در خواب ہے ہمارے لئے ہمیں ہی روشنی اس کی نظر نہیں آتی چراغ تو پس محراب ہے ہمارے لئے پلک جھپکتے ہی سب کچھ نیا سا لگتا ہے یہ زندگی بھی کوئی خواب ہے ہمارے لئے اترتے جاتے ہیں پہنائیوں میں دریا کی کہ جلتی شمع تہہ آب ہے ہمارے لئے ہمیں ...

مزید پڑھیے

کبھی میں ذکر کروں دن کی شادمانی کا

کبھی میں ذکر کروں دن کی شادمانی کا فسانہ ختم تو ہو شب کی سرگرانی کا سمٹ کے آ گیا قدموں میں کس طرح صحرا سنا تھا شور بہت اس کی بے کرانی کا عجب نہیں کہ نئے راستے نکل آئیں کسی نے راستہ روکا ہے بہتے پانی کا تمام اہل زباں باطلوں کے حق میں ہیں مجھے ملال نہیں اپنی بے زبانی کا جو بات ...

مزید پڑھیے

آتا ہے نظر اور ہی منظر ہے کوئی اور

آتا ہے نظر اور ہی منظر ہے کوئی اور کیا محو تماشا مرے اندر ہے کوئی اور تبدیل ہوئی کیسے ہر اک گھر کی وراثت در پر ہے کوئی نام پس در ہے کوئی اور نظارہ کہاں ایسا کسی دشت میں دیکھا پاؤں تو کسی کے ہیں مگر سر ہے کوئی اور الجھی ہے مگر تشنہ لبی تشنہ لبی سے یہ بات الگ ہے کہ سمندر ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

تاریکی میں زندہ رہنا ہم کو نہیں منظور

تاریکی میں زندہ رہنا ہم کو نہیں منظور جگنو سا تابندہ رہنا ہم کو نہیں منظور اک پل کو ہی چمکیں لیکن بجلی سی لہرائیں راکھ تلے پایندہ رہنا ہم کو نہیں منظور نغمہ چھیڑیں ساز بجائیں اپنے دل کا ہم موسم کا سا زندہ رہنا ہم کو نہیں منظور ہم آزاد پرندے ساری دنیا اپنی ہے خطے کا باشندہ رہنا ...

مزید پڑھیے

نئے سرے سے کوئی سفر آغاز نہیں کرتا

نئے سرے سے کوئی سفر آغاز نہیں کرتا جانے کیوں اب دل میرا پرواز نہیں کرتا کتنی بری عادت ہے میں خاموش ہی رہتا ہوں جب تک مجھ سے کوئی سخن آغاز نہیں کرتا کیسے زندہ رہتا ہوں میں زہر کو پی کر اب دیوار و در کو بھی تو ہم راز نہیں کرتا تازہ ہوا کے جھونکے اکثر آتے رہتے ہیں آخر کیوں میں اپنے ...

مزید پڑھیے

ہر گھر میں کوئی تہہ خانہ ہوتا ہے

ہر گھر میں کوئی تہہ خانہ ہوتا ہے تہہ خانے میں اک افسانہ ہوتا ہے کسی پرانی الماری کے خانوں میں یادوں کا انمول خزانہ ہوتا ہے رات گئے اکثر دل کے ویرانوں میں اک سائے کا آنا جانا ہوتا ہے بڑھتی جاتی ہے بے چینی ناخن کی جیسے جیسے زخم پرانا ہوتا ہے دل روتا ہے چہرا ہنستا رہتا ہے کیسا ...

مزید پڑھیے

ہمیں اپنی مسافت بے مزہ کرنا نہیں ہے

ہمیں اپنی مسافت بے مزہ کرنا نہیں ہے سفر کرنا ہے منزل کا پتہ کرنا نہیں ہے بلا سے ہم کسی ساحل پہ پہنچیں یا نہ پہنچیں کسی بھی ناخدا کو اب خدا کرنا نہیں ہے ہواؤں سے ہی قائم ہے ہماری ضو فشانی ہواؤں سے چراغوں کو جدا کرنا نہیں ہے بدلتے وقت کے تیور پرکھنا چاہتے ہیں کہا کس نے بزرگوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4282 سے 4657