کوئی موسم نہ کبھی کر سکا شاداب ہمیں
کوئی موسم نہ کبھی کر سکا شاداب ہمیں شہر میں جینے کے آئے نہیں آداب ہمیں بہتے دریا میں کوئی عکس ٹھہرتا ہی نہیں یاد آتا ہے بہت گاؤں کا تالاب ہمیں اس طرح پیاس بجھائی ہے کہاں دریا نے ایک قطرے نے کیا جس طرح سیراب ہمیں جھلملی روشنی ہر سمت نظر آتی ہے کھینچتی ہے کوئی قندیل تہہ آب ...