شاعری

کوئی موسم نہ کبھی کر سکا شاداب ہمیں

کوئی موسم نہ کبھی کر سکا شاداب ہمیں شہر میں جینے کے آئے نہیں آداب ہمیں بہتے دریا میں کوئی عکس ٹھہرتا ہی نہیں یاد آتا ہے بہت گاؤں کا تالاب ہمیں اس طرح پیاس بجھائی ہے کہاں دریا نے ایک قطرے نے کیا جس طرح سیراب ہمیں جھلملی روشنی ہر سمت نظر آتی ہے کھینچتی ہے کوئی قندیل تہہ آب ...

مزید پڑھیے

ہراساں ہوں سیاہی میں کمی ہوتی نہیں ہے

ہراساں ہوں سیاہی میں کمی ہوتی نہیں ہے چراغاں کر رہا ہوں روشنی ہوتی نہیں ہے بہت چاہا کہ آنکھیں بند کر کے میں بھی جی لوں مگر مجھ سے بسر یوں زندگی ہوتی نہیں ہے لہو کا ایک اک قطرہ پلاتا جا رہا ہوں اگرچہ خاک میں پیدا نمی ہوتی نہیں ہے دریچوں کو کھلا رکھتا ہوں میں ہر وقت لیکن ہوا میں ...

مزید پڑھیے

وہ رنگ تمنا ہے کہ صد رنگ ہوا ہوں

وہ رنگ تمنا ہے کہ صد رنگ ہوا ہوں دیکھو تو نظر ہوں جو نہ دیکھو تو صدا ہوں یا اتنا سبک تھا کہ ہوا لے اڑی مجھ کو یا اتنا گراں ہوں کہ سر راہ پڑا ہوں چہرے پہ اجالا تھا گریباں میں سحر تھی وہ شخص عجب تھا جسے رستے میں ملا ہوں کب دھوپ چلی شام ڈھلی کس کو خبر ہے اک عمر سے میں اپنے ہی سائے میں ...

مزید پڑھیے

کچھ نقش ہویدا ہیں خیالوں کی ڈگر سے

کچھ نقش ہویدا ہیں خیالوں کی ڈگر سے شاید کبھی گزرا ہوں میں اس راہگزر سے گلیاں بھی ہیں سنسان دریچے بھی ہیں خاموش قدموں کی یہ آواز در آئی ہے کدھر سے طاقوں میں چراغوں کا دھواں جم سا گیا ہے اب ہم بھی نکلتے نہیں اجڑے ہوئے گھر سے کیوں کاغذی پھولوں سے سجاتا نہیں گھر کو اس دور کو شکوہ ...

مزید پڑھیے

میں حرف دیکھوں کہ روشنی کا نصاب دیکھوں

میں حرف دیکھوں کہ روشنی کا نصاب دیکھوں مگر یہ عالم کہ ٹہنیوں پر گلاب دیکھوں پرانے خوابوں سے ریزہ ریزہ بدن ہوا ہے یہ چاہتا ہوں کہ اب نیا کوئی خواب دیکھوں یہ راستے تو مری ہتھیلی کے ترجماں ہیں میں ان لکیروں میں زندگی کی کتاب دیکھوں مراجعت کا سفر تو ممکن نہیں رہا ہے میں چلتا جاؤں ...

مزید پڑھیے

بہہ رہا تھا ایک دریا خواب میں

بہہ رہا تھا ایک دریا خواب میں رہ گیا میں پھر بھی تشنہ خواب میں جی رہا ہوں اور دنیا میں مگر دیکھتا ہوں اور دنیا خواب میں اس زمیں پر تو نظر آتا نہیں بس گیا ہے جو سراپا خواب میں روز آتا ہے مرا غم بانٹنے آسماں سے اک ستارہ خواب میں مدتوں سے دل ہے اس کا منتظر کوئی وعدہ کر گیا تھا خواب ...

مزید پڑھیے

زوال میں بھی رہا دل نشیں نظارہ مرا

زوال میں بھی رہا دل نشیں نظارہ مرا مرے ہی ساتھ گرا ٹوٹ کے ستارہ مرا کسی پہ رمز مری بات کی کھلی ہی نہیں نہ کام آیا مرے کوئی استعارہ مرا یقیں کسی کو نہ آیا میں ڈوب سکتا ہوں سمجھ رہے تھے اگرچہ سبھی اشارہ مرا ندی کی طرح کنارہ بھی کاٹتا ہوں میں کسی حصار میں ہوتا نہیں گزارہ مرا یہ ...

مزید پڑھیے

ایک عجب سی دنیا دیکھا کرتا تھا

ایک عجب سی دنیا دیکھا کرتا تھا دن میں بھی میں سپنا دیکھا کرتا تھا ایک خیال آباد تھا میرے دل میں بھی خود کو میں شہزادہ دیکھا کرتا تھا سبز پری کا اڑن کھٹولا ہر لمحے اپنی جانب آتا دیکھا کرتا تھا اڑ جاتا تھا روپ بدل کر چڑیوں کے جنگل صحرا دریا دیکھا کرتا تھا ہیرے جیسا لگتا تھا اک ...

مزید پڑھیے

بس ایک ترے خواب سے انکار نہیں ہے

بس ایک ترے خواب سے انکار نہیں ہے دل ورنہ کسی شے کا طلب گار نہیں ہے آنکھوں میں حسیں خواب تو ہیں آج بھی لیکن تعبیر سے اب کوئی سروکار نہیں ہے لہروں سے ابھی تک ہے وہی ربط ہمارا کشتی میں ہماری کوئی پتوار نہیں ہے کیا سحر ہوا کوئی مرے شہر پہ اب کے دیوار تو ہے سایۂ دیوار نہیں ہے

مزید پڑھیے

ہمیشہ دل میں رہتا ہے کبھی گویا نہیں جاتا

ہمیشہ دل میں رہتا ہے کبھی گویا نہیں جاتا جسے پایا نہیں جاتا اسے کھویا نہیں جاتا کچھ ایسے زخم ہیں جن کو سبھی شاداب لگتے ہیں کچھ ایسے داغ ہیں جن کو کبھی دھویا نہیں جاتا عجب سی گونج اٹھتی در و دیوار سے ہر دم یہ خوابوں کا خرابہ ہے یہاں سویا نہیں جاتا بہت ہنسنے کی عادت کا یہی انجام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4281 سے 4657