شاعری

دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت

دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت اپنا زمانہ یاد آتا ہے سورج ڈھلتے وقت بہت وہ پرچم وہ سر کے طرے اور وہ سفینے اپنے تھے جن کو دیکھ کے شعلے بھی روئے تھے جلتے وقت بہت ان شیشوں کے ریزوں کا مرہم ہے اپنے زخموں پر لمحہ لمحہ جو ٹوٹے تلواریں چلتے وقت بہت پل بھر میں پانی ہوتے ...

مزید پڑھیے

دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا

دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا اخترؔ جس نے عہد کیا تھا تم سے ساتھ نبھانے کا آج ہمارے قدموں میں ہے کاہکشاں شہر مہتاب کل تک لوگ کہا کرتے تھے خواب اسے دیوانے کا تیرے لب و رخسار کے قصے تیرے قد و گیسو کی بات ساماں ہم بھی رکھتے ہیں تنہائی میں دل بہلانے کا تم بھی سنتے تو رو ...

مزید پڑھیے

سوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے

سوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے جس کو رکھنا ہو بھرم ساتھ چلے اسی حسرت میں کٹی راہ حیات کوئی دو چار قدم ساتھ چلے خار زاروں میں جہاں کوئی نہ تھا بن کے ہم دم ترے غم ساتھ چلے ہم سے رندوں کا ٹھکانا کیا ہے تم کہاں شیخ حرم ساتھ چلے وادئ شب کی کٹھن راہوں میں لوگ کترا گئے کم ساتھ چلے

مزید پڑھیے

دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا

دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا آپ کے نام پہ اک جشن منایا تو گیا مئے کہنہ نہ سہی خون تمنا ہی سہی ایک پیمانہ مرے سامنے لایا تو گیا خیر اپنا نہیں باغی ہی سمجھ کر ہم کو تیری محفل میں کسی طور بلایا تو گیا اب یہ بات اور کہ زنداں میں بھی زنجیریں ہیں ہم کو گلشن کی بلاؤں سے بچایا تو ...

مزید پڑھیے

بھول جائیں ہم اسے ایسا نظارہ تو نہیں

بھول جائیں ہم اسے ایسا نظارہ تو نہیں یاد پر آتا رہے یہ بھی گوارہ تو نہیں دل دھڑکتا ہے دھڑکتا ہے دھڑکتا ہے مرا وہ تمہارا وہ تمہارا وہ تمہارا تو نہیں آج کل پتھر اٹھا کر سوچتا ہے ہر کوئی سامنے انسان ہے لیکن ہمارا تو نہیں خواب کتنے شاد ہیں اور رات بھی آباد ہے جاگ کر میں نے ہی خود ان ...

مزید پڑھیے

ڈر کیوں جاتے ہیں یہ ڈرنے والے لوگ

ڈر کیوں جاتے ہیں یہ ڈرنے والے لوگ مرنے سے پہلے ہی مرنے والے لوگ عمر کے کتنے پیارے سال بچاتے ہیں پیار محبت عشق نہ کرنے والے لوگ لوگ وہ کتنی چین کی نیندیں سوتے ہیں وعدہ کر کے جلد مکرنے والے لوگ اک دن ساری دھرتی کو کھا جائیں گے گھاس کے پیچھے مٹی چرنے والے لوگ جیتے جی کیوں اتنا ...

مزید پڑھیے

شوخ پتے لہلہاتے ہیں شجر کے

شوخ پتے لہلہاتے ہیں شجر کے جیسے کوئی اشتہار اپنے ہنر کے کتنے کچے راستے ہیں اس شہر میں شعر جیسے بن پڑے ہوں بے بحر کے سو مکانیں پھر کہیں توڑی گئیں تو ایک پتلا پھر کہیں آیا ابھر کے جب کریں گے گفتگو تنہائیوں سے تب بنیں گے ہم سفر خود ہم سفر کے پاس بیٹھو بھی کبھی کاجل لگائے حوصلے ...

مزید پڑھیے

گھڑی بھر مسکراؤ مسکراؤ

گھڑی بھر مسکراؤ مسکراؤ حقیقت بھول جاؤ بھول جاؤ نظر پر کوندھتی جاتی ہے خوشیاں غموں کی لو جلاؤ لو جلاؤ بھٹک کر آ گیا تھا خواب کوئی اسے پھر ڈھونڈ لاؤ ڈھونڈ لاؤ ذرا سی چوٹ سے ہوتا ہوں گھائل جو چاہو آزماؤ آزماؤ ذہن کے ملک میں سوکھا پڑا ہے کبھی تو یاد آؤ یاد آؤ بڑی ہی ناتواں دھڑکن ...

مزید پڑھیے

زندگی میں غم ہی غم ہیں اور تو ہے

زندگی میں غم ہی غم ہیں اور تو ہے مرحلے کچھ دم بہ دم ہیں اور تو ہے باغ میں جب پھول ہیں کانٹیں بھی ہوں گے زندگی میں جیسے ہم ہیں اور تو ہے آسماں میں جتنے ہیں یہ چاند تارے عشق میں اتنے ستم ہیں اور تو ہے اے خدا اپنا ٹھکانہ چل بتا دے سامنے دیر و حرم ہیں اور تو ہے یہ کہانی کیوں الجھتی ...

مزید پڑھیے

کام بس نام کا نہیں ہوتا

کام بس نام کا نہیں ہوتا نام کچھ کام کا نہیں ہوتا آج کی شام کا جو عالم ہے ہر کسی شام کا نہیں ہوتا چین حد سے بڑھا تو یاروں پھر چین آرام کا نہیں ہوتا یوں تو اس بے خودی کے مسئلے میں سب گناہ جام کا نہیں ہوتا آگے آغاز کا طریقہ تھا اب تو انجام کا نہیں ہوتا انتظار آہٹوں کا جتنا ہے اتنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4264 سے 4657