دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت
دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت اپنا زمانہ یاد آتا ہے سورج ڈھلتے وقت بہت وہ پرچم وہ سر کے طرے اور وہ سفینے اپنے تھے جن کو دیکھ کے شعلے بھی روئے تھے جلتے وقت بہت ان شیشوں کے ریزوں کا مرہم ہے اپنے زخموں پر لمحہ لمحہ جو ٹوٹے تلواریں چلتے وقت بہت پل بھر میں پانی ہوتے ...