شاعری

یہ ممکن ہے کہ یوں ہم نے تمہیں اکثر رلایا ہو

یہ ممکن ہے کہ یوں ہم نے تمہیں اکثر رلایا ہو مگر یہ بھی تو ہے تم نے ہمیں اکثر ستایا ہو بگڑتی بات ہے جب جب مجھے یوں کوستی ہو تم کہ جیسے زندگی کا ہر ستم مجھ سے ہی پایا ہو ہر اک گولی طمنچے سے نکل کر سوچتی ہوگی اگر لینی ہی ہیں جانیں تو کیوں اپنا پرایا ہو ہمارے قبر پر اکثر سلگتی دھوپ ...

مزید پڑھیے

محبت کو ہمیشہ سے شریک کار دیکھا ہے

محبت کو ہمیشہ سے شریک کار دیکھا ہے عداوت سے ہر اک رشتہ یہاں دشوار دیکھا ہے یہاں آپس میں ہم آہنگ ہونا ہے بہت مشکل کبھی مفلس بھی دیکھا ہے کبھی زردار دیکھا ہے اچھالی جا رہی ہیں پگڑیاں الزام ہے سر پر نہیں گردن پہ سر جس کے وہی سردار دیکھا ہے مسائل دوسروں کے حل جو کرتے ہیں حقیقت ...

مزید پڑھیے

جہاں دیکھو گے اپنا چھوڑتا ہے

جہاں دیکھو گے اپنا چھوڑتا ہے لڑانے کو وہ شوشہ چھوڑتا ہے چلا جاتا ہے قتل و خون کر کے مگر بہتا وہ دریا چھوڑتا ہے وہ اپنے کھیل میں رہتا ہے زندہ کچھ ایسا ہی پیادہ چھوڑتا ہے کہ اس کی پارسائی بھی تو دیکھو مجھے کرکے جو رسوا چھوڑتا ہے سمندر کو نہیں ہے معاف کرنا گناہوں کا پلندہ چھوڑتا ...

مزید پڑھیے

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی اے محبت مرے پہلو سے مگر تو نہ گئی مٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگر آج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی کب بہاروں پہ ترے رنگ کا سایہ نہ پڑا کب ترے گیسوؤں کو باد سحر چھو نہ گئی ترے گیسوئے معنبر کو کبھی چھیڑا تھا میرے ہاتھوں سے ابھی تک تری ...

مزید پڑھیے

وعدہ اس ماہرو کے آنے کا

وعدہ اس ماہرو کے آنے کا یہ نصیبہ سیاہ خانے کا کہہ رہی ہے نگاہ دز دیدہ رخ بدلنے کو ہے زمانے کا ذرے ذرے میں بے حجاب ہیں وہ جن کو دعوی ہے منہ چھپانے کا حاصل عمر ہے شباب مگر اک یہی وقت ہے گنوانے کا چاندنی خامشی اور آخر شب آ کہ ہے وقت دل لگانے کا ہے قیامت ترے شباب کا رنگ رنگ بدلے گا ...

مزید پڑھیے

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے وہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئے ویراں ہیں صحن و باغ بہاروں کو کیا ہوا وہ بلبلیں کہاں وہ ترانے کدھر گئے ہے نجد میں سکوت ہواؤں کو کیا ہوا لیلائیں ہیں خموش دوانے کدھر گئے اجڑے پڑے ہیں دشت غزالوں پہ کیا بنی سونے ہیں کوہسار دوانے کدھر گئے وہ ہجر ...

مزید پڑھیے

غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی

غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی شراب لا مری حالت خراب ہے ساقی شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی شراب لا مجھے پاس شباب ہے ساقی اٹھا پیالہ کہ گلشن پہ پھر برسنے لگی وہ مے کہ جس کا قدح ماہتاب ہے ساقی نکال پردۂ مینا سے دختر رز کو گھٹا میں کس لئے یہ ماہتاب ہے ساقی تو واعظوں کی نہ سن میکشوں ...

مزید پڑھیے

آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے

آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے باوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئے اور بھی رہتے ابھی کچھ دن نظر کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے خفا کیوں ہو گئے ان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہوا وہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے کس طرح دل سے بھلا بیٹھے ہماری یاد کو اس طرح پردیس جا ...

مزید پڑھیے

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا تم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا ترک دنیا کا یہ دعویٰ ہے فضول اے زاہد بار ہستی تو ذرا سر سے اتارا ہوتا وہ اگر آ نہ سکے موت ہی آئی ہوتی ہجر میں کوئی تو غمخوار ہمارا ہوتا زندگی کتنی مسرت سے گزرتی یا رب عیش کی طرح اگر غم بھی گوارا ہوتا عظمت ...

مزید پڑھیے

گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم

گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم کہتی ہے یہ ہنس کر صبح خزاں سب ناز عبث اک خواب ہیں ہم کس ماہ لقا کے عشق میں یوں بے چین ہیں ہم بیتاب ہیں ہم کرنوں کی طرح آوارہ ہیں ہم تاروں کی طرح بے خواب ہیں ہم مٹ جانے پہ بھی مسرور ہیں ہم مرجھانے پہ بھی شاداب ہیں ہم شہبائے شباب و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4265 سے 4657