شاعری

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے کبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہے انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے یوں ہی تکمیل ہوگی حشر تک تصویر ہستی کی ہر اک تکمیل آخر میں پیام نیستی بھی ہے یہ وہ ساغر ہے صہبائے خودی سے ...

مزید پڑھیے

حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل

حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل محبت پر مگر مجبور ہے دل تمہارے نور سے معمور ہے دل عجب کیا ہے کہ رشک طور ہے دل تمہارے عشق سے مسرور ہے دل ابھی تک مست ہے مخمور ہے دل کیا ہے یاد اس یاد جہاں نے الٰہی کس قدر مسرور ہے دل بہت چاہا نہ جائیں تیرے در پر مگر کیا کیجیے مجبور ہے دل فقیری میں اسے ...

مزید پڑھیے

اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی

اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی بے درد آسمان یہ کیا بات ہو گئی آوارگان عشق کا مسکن نہ پوچھئے پڑ رہتے ہیں وہیں پہ جہاں رات ہو گئی ذکر شب وصال ہو کیا قصہ مختصر جس بات سے وہ ڈرتے تھے وہ بات ہو گئی مسجد کو ہم چلے گئے مستی میں بھول کر ہم سے خطا یہ پیر خرابات ہو گئی پچھلے غموں کا ذکر ہی ...

مزید پڑھیے

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا یہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکا کچھ ایسے رحم کے قابل تھے ابتدا ہی سے ہم کہ ان سے بھی ستم بے حساب ہو نہ سکا نظر نہ آیا کبھی شب کو ان کا جلوۂ رخ یہ آفتاب کبھی ماہتاب ہو نہ سکا نگاہ فیض سے محروم برتری معلوم ستارہ چمکا مگر آفتاب ہو نہ سکا ہے جام خالی تو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے

ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے غم فراق کی دنیا دل تباہ میں ہے کسی کی یاد کرم اف ارے معاذ اللہ تباہ ہو کے بھی ظالم دل تباہ میں ہے ہزار پردوں میں او چھپنے والے یہ سن لے ترا جمال مرے دامن نگاہ میں ہے جہاں میں مجھ سے بھی ناکام آرزو کم ہیں نہ رنگ آہ میں ہے اور نہ سوز آہ میں ہے

مزید پڑھیے

یارو کوئے یار کی باتیں کریں

یارو کوئے یار کی باتیں کریں پھر گل و گلزار کی باتیں کریں چاندنی میں اے دل اک اک پھول سے اپنے گل رخسار کی باتیں کریں آنکھوں آنکھوں میں لٹائے مے کدے دیدۂ سرشار کی باتیں کریں اب تو ملیے بس لڑائی ہو چکی اب تو چلئے پیار کی باتیں کریں پھر مہک اٹھے فضائے زندگی پھر گل و رخسار کی باتیں ...

مزید پڑھیے

غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور

غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور کر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اور مر جائیں گے جب ہم تو بہت یاد کرے گی جی بھر کے ستا لے شب ہجراں کوئی دن اور تربت وہ جگہ ہے کہ جہاں غم ہے نہ حیرت حیرت کدۂ غم میں ہیں حیراں کوئی دن اور یاروں سے گلہ ہے نہ عزیزوں سے شکایت تقدیر میں ہے حسرت و ...

مزید پڑھیے

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے مگر اپنے دل کو میں کیا کروں اسے پھر بھی شوق وصال ہے اس ادا سے کون یہ جلوہ گر سر بزم حسن خیال ہے جو نفس ہے مست بہار ہے جو نظر ہے غرق جمال ہے انہیں ضد ہے عرض وصال سے مجھے شوق عرض وصال ہے وہی اب بھی ان کا جواب ہے وہی اب بھی میرا سوال ...

مزید پڑھیے

اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے

اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے اب دل کوئی پہلو ہو سنبھلتا ہی نہیں ہے بے چین کئے رہتی ہے جس کی طلب دید اب بام پہ وہ چاند نکلتا ہی نہیں ہے اک عمر سے دنیا کا ہے بس ایک ہی عالم یہ کیا کہ فلک رنگ بدلتا ہی نہیں ہے ناکام رہا ان کی نگاہوں کا فسوں بھی اس وقت تو جادو کوئی چلتا ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

کسی کا چہرہ کسی پر سجا نہیں دیتا

کسی کا چہرہ کسی پر سجا نہیں دیتا کبھی فریب کوئی آئنہ نہیں دیتا حسد کا رنگ پسندیدہ رنگ ہے سب کا یہاں کسی کو کوئی اب دعا نہیں دیتا اک اعتماد تھا باقی سو اٹھ گیا وہ بھی کہ بھائی بھائی کے گھر کا پتا نہیں دیتا بجھائے جب سے ہمارے چراغ لوگوں نے کوئی درخت ہمیں اب ہوا نہیں دیتا ہمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4263 سے 4657