شاعری

بات ایسی سنا گیا کوئی

بات ایسی سنا گیا کوئی ہنستے ہنستے رلا گیا کوئی جیسے دنیا ہی لٹ گئی اپنی دل کے مسکن سے کیا گیا کوئی آنکھوں آنکھوں میں کچھ خموشی میں حال دل کا سنا گیا کوئی کیا ہی سستا کھلونا تھا یہ دل کھیلا توڑا چلا گیا کوئی سارے نظارے ہو گئے اوجھل یوں نظر میں سما گیا کوئی میرے شعروں کی ...

مزید پڑھیے

گرتے رہتے ہیں پھر سنبھلتے ہیں

گرتے رہتے ہیں پھر سنبھلتے ہیں پھر اسی راستے پہ چلتے ہیں جلتے ہیں آگ میں بدن لیکن دل فقط عشق ہی میں جلتے ہیں ایک مدت سے دل کے مندر میں کچھ امیدوں کے دیپ جلتے ہیں رزق دینا اسی کی قدرت ہے پتھروں میں بھی کیڑے پلتے ہیں موم کی طرح دل بھی پتھر کے وقت کی دھوپ میں پگھلتے ہیں صرف حالات ...

مزید پڑھیے

بے بسوں پہ یتیموں پہ ہنستی رہی

بے بسوں پہ یتیموں پہ ہنستی رہی فقرے بے کس پہ دنیا یہ کستی رہی کچھ بھی دنیا میں اس کا تو اپنا نہیں پھر بھی کیوں جان دنیا میں پھنستی رہی چاہی جو نعمتیں تم وہ کھاتے رہے بوڑھی ماں دیکھ کر ہی ترستی رہی میں بلندی کی پرواز کرتا رہا جو رہی میری منزل سو پستی رہی شکر ہر حال میں کیوں نہ ...

مزید پڑھیے

لکیروں میں کہیں اجداد کا پیسہ نہیں ہوتا

لکیروں میں کہیں اجداد کا پیسہ نہیں ہوتا غریبوں کا نصیبہ ہاتھ پہ لکھا نہیں ہوتا یہ اہل زر غریبوں کو کبھی جینے نہیں دیتے اگرچہ اس نے سب کو ایک سا دیکھا نہیں ہوتا یہ کشکول گدائی ہے فقط معذور کو زیبا کبھی محنت کشوں کے ہاتھ میں کاسہ نہیں ہوتا وہ چاہے جیسی بھی ہو ماں کی ممتا کم نہیں ...

مزید پڑھیے

تیرے گھر میں مجھے لے کر کہیں کچھ ہو گیا تھا کیا

تیرے گھر میں مجھے لے کر کہیں کچھ ہو گیا تھا کیا مجھے تو چھوڑ جا پر یہ بتا خط مل گیا تھا کیا نہیں کچھ یاد ہے تم کو خطا دونوں کی تھی لیکن چھوا تھا میں نے ہی تم کو نہیں تم نے چھوا تھا کیا اکیلی رات تھی ہم تم اکیلے کیسے رہ لیتے نہ میں تھا ہوش میں نا تم کہیں کچھ ہو گیا تھا کیا کیوں اب رو ...

مزید پڑھیے

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ ہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ آج تک قصر امل ہے ناتمام بندھ چکی ہے بارہا کھل کھل کے پاڑ ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال اے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار پر نہیں زاہد کوئی ٹٹی کی آڑ دل نہیں روشن تو ہیں کس کام کے سو شبستاں میں اگر ...

مزید پڑھیے

عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض

عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض چرخ گرداں کو سکوں سے کیا غرض دل میں ہے اے خضر گر صدق طلب راہرو کو رہنموں سے کیا غرض حاجیو ہے ہم کو گھر والے سے کام گھر کے محراب و ستوں سے کیا غرض گنگنا کر آپ رو پڑتے ہیں جو ان کو چنگ و ارغنوں سے کیا غرض نیک کہنا نیک جس کو دیکھنا ہم کو تفتیش دروں سے کیا ...

مزید پڑھیے

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں قفس میں جی نہیں لگتا کسی طرح لگا دو آگ کوئی آشیاں میں کوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیں دھرا کیا ہے اشارات نہاں میں کہیں انجام آ پہنچا وفا کا گھلا جاتا ہوں اب کے امتحاں میں نیا ہے لیجئے جب نام اس کا بہت وسعت ہے میری ...

مزید پڑھیے

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے گر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سے جو کچھ ہے سو ہے اس کے تغافل کی شکایت قاصد سے ہے تکرار نہ جھگڑا ہے صبا سے دلالہ نے امید دلائی تو ہے لیکن دیتے نہیں کچھ دل کو تسلی یہ دلاسے ہے وصل تو تقدیر کے ہاتھ اے شہ خوباں یاں ہیں تو فقط تیری محبت کے ہیں ...

مزید پڑھیے

خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم

خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم پر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہم خوف کا کوئی نشاں ظاہر نہیں افعال میں گو کہ دل میں متصل خوف خدا پاتے ہیں ہم کرتے ہیں طاعت تو کچھ خواہاں نمائش کے نہیں پر گنہ چھپ چھپ کے کرنے میں مزا پاتے ہیں ہم دیدہ و دل کو خیانت سے نہیں رکھ سکتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4183 سے 4657