شاعری

آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم

آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم سب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہم اب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہم کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم ہنستے ہیں اس کے گریۂ بے اختیار پر بھولے ہیں بات کہہ کے کوئی راز داں سے ہم اب شوق سے بگڑ کے ہی باتیں کیا کرو کچھ پا گئے ہیں آپ کے طرز بیاں سے ...

مزید پڑھیے

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں اب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے ...

مزید پڑھیے

حقیقت محرم اسرار سے پوچھ

حقیقت محرم اسرار سے پوچھ مزا انگور کا مے خوار سے پوچھ وفا اغیار کی اغیار سے سن مری الفت در و دیوار سے پوچھ ہماری آہ بے تاثیر کا حال کچھ اپنے دل سے کچھ اغیار سے پوچھ دلوں میں ڈالنا ذوق اسیری کمند گیسوئے خم دار سے پوچھ دل مہجور سے سن لذت وصل نشاط عافیت بیمار سے پوچھ نہیں جز ...

مزید پڑھیے

جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے

جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے قدم دشت پیما ہوا چاہتا ہے دم گریہ کس کا تصور ہے دل میں کہ اشک اشک دریا ہوا چاہتا ہے خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کے ملاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے بہت کام لینے تھے جس دل سے ہم کو وہ صرف تمنا ہوا چاہتا ہے ابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میں اجل کا تقاضا ہوا چاہتا ...

مزید پڑھیے

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا جمع ہیں ہر سو تماشائی بہت ہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دل راس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیں دل پہ ہے نقش اس کی رعنائی بہت چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دل راحت اس تکلیف ...

مزید پڑھیے

حق وفا کے جو ہم جتانے لگے

حق وفا کے جو ہم جتانے لگے آپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے تھا یہاں دل میں طعن وصل عدو عذر ان کی زباں پہ آنے لگے ہم کو جینا پڑے گا فرقت میں وہ اگر ہمت آزمانے لگے ڈر ہے میری زباں نہ کھل جائے اب وہ باتیں بہت بنانے لگے جان بچتی نظر نہیں آتی غیر الفت بہت جتانے لگے تم کو کرنا پڑے گا عذر ...

مزید پڑھیے

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز دوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگز عشق بھی تاک میں بیٹھا ہے نظر بازوں کی دیکھنا شیر سے آنکھیں نہ لڑانا ہرگز ہاتھ ملنے نہ ہوں پیری میں اگر حسرت سے تو جوانی میں نہ یہ روگ بسانا ہرگز جتنے رستے تھے ترے ہو گئے ویراں اے عشق آ کے ویرانوں میں اب گھر ...

مزید پڑھیے

اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت

اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت ہے غم روز جدائی نہ نشاط شب وصل ہو گئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی ...

مزید پڑھیے

کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے

کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے کل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہے فیصلہ گردش دوراں نے کیا ہے سو بار مرو کس کا ہے بدخشان و ختن کس کا ہے دم سے یوسف کے جب آباد تھا یعقوب کا گھر چرخ کہتا تھا کہ یہ بیت حزن کس کا ہے مطمئن اس سے مسلماں نہ مسیحی نہ یہود دوست کیا جانئے یہ چرخ کہن ...

مزید پڑھیے

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں اک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں کچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نے جب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں چشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھ غیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں ہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمام للہ الحمد کہ باہم کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4184 سے 4657