لیٹا ہوا ہوں سایۂ غربت میں گھر سے دور
لیٹا ہوا ہوں سایۂ غربت میں گھر سے دور دل سے قریں ہیں اہل وطن اور نظر سے دور جب تک ہے دل رہین مآل و اسیر عقل رہنا ہے تجھ سے اور تری رہ گزر سے دور اے کیف ان کی مست نگاہوں میں چھپ کے آ اے درد دم زدن میں ہو میرے جگر سے دور اک دن الٹنے والی ہے زاہد بساط زہد کب تک رہے گا دل نگہہ فتنہ گر ...