شاعری

لیٹا ہوا ہوں سایۂ غربت میں گھر سے دور

لیٹا ہوا ہوں سایۂ غربت میں گھر سے دور دل سے قریں ہیں اہل وطن اور نظر سے دور جب تک ہے دل رہین مآل و اسیر عقل رہنا ہے تجھ سے اور تری رہ گزر سے دور اے کیف ان کی مست نگاہوں میں چھپ کے آ اے درد دم زدن میں ہو میرے جگر سے دور اک دن الٹنے والی ہے زاہد بساط زہد کب تک رہے گا دل نگہہ فتنہ گر ...

مزید پڑھیے

کون اترا نظر کے زینے سے

کون اترا نظر کے زینے سے محفل دل سجی قرینے سے شیخ صاحب مجھے عقیدت ہے گنگناتے ہوئے مہینے سے مے کو گل رنگ کر دیا کس نے خون لے کر کلی کے سینے سے کوئی ساحل نہ ناخدا اپنا ہم تو مانوس ہیں سفینے سے کس کا اعجاز ہے کہ رندوں کو چین ملتا ہے آگ پینے سے پی کے جیتے ہیں جی کے پیتے ہیں ہم کو ...

مزید پڑھیے

ہو گئی عشق میں بدنام جوانی اپنی

ہو گئی عشق میں بدنام جوانی اپنی بن گئی مرکز آلام جوانی اپنی ماضی و حال ہیں محروم شراب و نغمہ ہائے افسردہ و ناکام جوانی اپنی آہ وہ صبح جو تھی صبح بہار ہستی ہے اسی صبح کی اب شام جوانی اپنی ایک تاریک فضا ایک گھٹا سا ماحول کسی مفلس کا ہے انجام جوانی اپنی انہیں راہوں میں انہیں مست ...

مزید پڑھیے

محبت محبت جوانی جوانی

محبت محبت جوانی جوانی دلوں کا فسانہ نظر کی کہانی نگاہوں کو دو اذن افسانہ گوئی مرتب کرو کوئی رنگیں کہانی یہ آنسو ہیں تم کھیل سکتے ہو ان سے ستارے نہ سمجھو انہیں آسمانی غموں کے سہارے جئے جا رہا ہوں ترا درد ہے حاصل زندگانی حسیں فرصتیں ہوں میسر تو سن لو نظر میں لیے پھر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

بحر ہستی کوئی سراب نہیں

بحر ہستی کوئی سراب نہیں زندگی زندگی ہے خواب نہیں آہ انسان جس کی آنکھوں پر اپنا انجام بے نقاب نہیں ایک خورشید رخ کی زلفوں کا رات کے پاس کچھ جواب نہیں زندگی درد سے ہوئی محروم میکدہ ہے مگر شراب نہیں مطرب وقت تیرے ہاتھوں میں کیوں ہے تلوار اور رباب نہیں آدمی آدمی کا رازق ہے نظم ...

مزید پڑھیے

نگاہ مست میں کیا رنگ والہانہ تھا

نگاہ مست میں کیا رنگ والہانہ تھا سرور و کیف میں ڈوبا ہوا زمانہ تھا کسی کی اٹھتی جوانی کا جب زمانہ تھا مری نگاہ کا ہر فعل شاعرانہ تھا ستم نصیب کی اللہ رے سوختہ بختی ہے بجلیوں کا نشیمن جو آشیانہ تھا ازل سے قید عناصر عطا ہوئی مجھ کو مرے نصیب میں زنداں کا آب و دانہ تھا وفور درد سے ...

مزید پڑھیے

ساغر سرشار کی باتیں کریں

ساغر سرشار کی باتیں کریں آؤ چشم یار کی باتیں کریں کیا خبر کب آسماں کر دے جدا ہو سکے تو پیار کی باتیں کریں دے اجازت آبلہ پائی اگر وادیٔ پر خار کی باتیں کریں جی رہا ہے کوئی جس اقرار پر اس حسیں انکار کی باتیں کریں زخم دل الطافؔ مرجھانے لگے ابروئے خم دار کی باتیں کریں

مزید پڑھیے

نزاکت محبت کا غم کھا رہی ہے

نزاکت محبت کا غم کھا رہی ہے محبت محبت ہوئی جا رہی ہے تمہاری نظر کے حسیں مے کدوں میں عروس خرابات اٹھلا رہی ہے نظر کیا لڑی ایک خنداں نظر سے جوانی تبسم بنی جا رہی ہے تصور کے ہاتھوں میں دے کر کھلونے جوانی محبت کو بہلا رہی ہے یہ کیا بات ہے اجنبی انکھڑیوں سے کوئی جانی بوجھی صدا آ ...

مزید پڑھیے

یہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کیا ہو گئے ہم

یہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کیا ہو گئے ہم ابھی جاگتے تھے ابھی سو گئے ہم مقام تجسس اک ایسا بھی آیا کہ پایا تجھے اور خود کھو گئے ہم ترے غم کو خود سے بھی ہم نے چھپایا مگر پھر بھی رسوائے غم ہو گئے ہم جو اب تک تھے زیب قبائے محبت کچھ ایسے بھی موتی کبھی رو گئے ہم عناصر نے لیں ہچکیاں سانس ...

مزید پڑھیے

پھر کائنات یاد پہ لہرا گئی ہیں وہ

پھر کائنات یاد پہ لہرا گئی ہیں وہ سینے میں ایک آگ سی سلگا گئی ہیں وہ اللہ رے چشم شوخ کا نظارۂ حسیں دل میں نظر کے ساتھ ہی خود آ گئی ہیں وہ اے آرزوئے دید نگاہوں کا کیا قصور اٹھتے ہی ان کے بام پہ شرما گئی ہیں وہ آئے گا پھر سے آنکھ میں ساون شباب پر لاہور سے سنا ہے کہ اکتا گئی ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4182 سے 4657