شاعری

یہ میکش کون باصد لغزش مستانہ آتا ہے

یہ میکش کون باصد لغزش مستانہ آتا ہے اشارے ہوتے ہیں وہ رونق مے خانہ آتا ہے تمہاری بزم بھی کیا بزم ہے آداب ہیں کیسے وہی مقبول ہوتا ہے جو گستاخانہ آتا ہے کہانی اپنی اپنی اہل محفل جب سناتے ہیں مجھے بھی یاد اک بھولا ہوا افسانہ آتا ہے دعا تیری ترے منتر بھلا مقبول کیا ہوں گے بدی دل ...

مزید پڑھیے

کہا جھنجھلا کے اہل قافلہ سے ایک رہبر نے

کہا جھنجھلا کے اہل قافلہ سے ایک رہبر نے ابھی تو پہلی منزل ہے ابھی سے کیوں لگے ڈرنے مکمل داستاں کا اختصار اتنا ہی کافی ہے سلایا شور دنیا نے جگایا شور محشر نے سر دیوار زنداں چاندنی چھنتی تھی پتوں سے دیا تھا قید میں کیا لطف ایسی شب کے منظر نے زمانہ کی کشاکش کا دیا پیہم پتہ مجھ ...

مزید پڑھیے

کوئی حد بھی ہے آخر امتحاں کی

کوئی حد بھی ہے آخر امتحاں کی الٰہی خیر قلب ناتواں کی یہ ہے اک مہر بے بال و پری پر رہائی بھی رہائی ہے کہاں کی خزاں کا وسوسہ ہے فصل گل میں ضرورت ہے بہار بے خزاں کی زمیں پر ہیں وہ کچھ مٹی کے پتلے کہ جن میں رفعتیں ہیں آسماں کی

مزید پڑھیے

سن کے ہر سمت سسکیاں میں نے

سن کے ہر سمت سسکیاں میں نے بند کر لیں تھیں کھڑکیاں میں نے یہ بھی دستور ہے محبت کا ہار کر جیتی بازیاں میں نے ہاتھ اٹھتے نہیں دعا کے لیے اب جلا دیں ہیں عرضیاں میں نے ہم سفر وہ جو ہم سفر ہی نہ تھا اور پھر کر لیں دوریاں میں نے پر کتر پائی جب نہ خوابوں کے بند ہی کر دیں کھڑکیاں میں ...

مزید پڑھیے

وقت سے لمحہ لمحہ کھیلی ہے

وقت سے لمحہ لمحہ کھیلی ہے زندگی اک عجب پہیلی ہے آج موسم بھی کچھ اداس ملا آج تنہائی بھی اکیلی ہے اس کی یادیں بھی بے وفا نکلیں صرف تنہائی اب سہیلی ہے اس کی یادوں میں پھر سے دستک دی خوب موسم نے چال کھیلی ہے جینے مرنے کے درمیاں میتاؔ روح نے جیسے قید جھیلی ہے

مزید پڑھیے

نہ تو خوف روز جزا کا ہو وہی عشق ہے

نہ تو خوف روز جزا کا ہو وہی عشق ہے نہ ملال رد دعا کا ہو وہی عشق ہے میں ہوں آئینہ ترا عکس ہے میری روح میں کوئی دائرہ نہ انا کا ہو وہی عشق ہے نہیں آرزو مری آرزو کو سنے خدا اثر آرزو میں بلا کا ہو وہی عشق ہے نہ ہوں خواہشیں نہ گلا کوئی نہ جفا کوئی نہ سوال عہد وفا کا ہو وہی عشق ہے

مزید پڑھیے

اگر ہے زندگی اک جشن تو نا مہرباں کیوں ہے

اگر ہے زندگی اک جشن تو نا مہرباں کیوں ہے فسردہ رنگ میں ڈوبی ہوئی ہر داستاں کیوں ہے تمہیں ہم سے محبت ہے ہمیں تم سے محبت ہے انا کا دائرہ پھر بھی ہمارے درمیاں کیوں ہے وہی سب کچھ رضا اس کی تو پھر دل میں گماں کیوں ہے سوالوں اور جوابوں سے پریشاں میری جاں کیوں ہے ہر اک منظر کے پس منظر ...

مزید پڑھیے

تجدید زندگی کے اشارے ہوئے تو ہیں

تجدید زندگی کے اشارے ہوئے تو ہیں کچھ پل سہی وہ آج ہمارے ہوئے تو ہیں مانا نصیب ہو نہ سکا کوئی آفتاب راتوں میں میری چاند ستارے ہوئے تو ہیں بے شک حقیقتوں سے بہت دور ہے مگر بے شک یہی سراب سہارے ہوئے تو ہیں چھوٹا نہیں ہے دامن امید اب تلک ہم بھی اے دوست وقت کے مارے ہوئے تو ہیں یہ اور ...

مزید پڑھیے

محبت مہرباں تیری نہ میری

محبت مہرباں تیری نہ میری مکمل داستاں تیری نہ میری گنوا دی عمر جس کو جیتنے میں وہ دنیا میری جاں تیری نہ میری خدا جانے ہے کس کا درد کتنا یہ سانجھی سسکیاں تیری نہ میری ہیں نا انصافیاں ہر سمت لیکن کھلی اب تک زباں تیری نہ میری بچا ہے اور نہ کوئی بچ سکے گا غموں کی آندھیاں تیری نہ ...

مزید پڑھیے

صبح روشن کو اندھیروں سے بھری شام نہ دے

صبح روشن کو اندھیروں سے بھری شام نہ دے دل کے رشتے کو مری جان کوئی نام نہ دے موڑ آتے ہی مجھے چھوڑ کے جانے والے پھر سے تنہائیاں بے چینیاں کہرام نہ دے مجھ کو مت باندھ وفاداری کی زنجیروں میں میں کہ بادل ہوں بھٹک جانے کا الزام نہ دے مطمئن دونوں ہیں میں اور میری طرز حیات تشنگی میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4139 سے 4657