شاعری

کمبخت دل نے عشق کو وحشت بنا دیا

کمبخت دل نے عشق کو وحشت بنا دیا وحشت کو ہم نے باعث رحمت بنا دیا کیا کیا مغالطے دیے دور جدید نے نفرت کو پیار پیار کو نفرت بنا دیا ہم نے ہزار فاصلے جی کر تمام شب اک مختصر سی رات کو مدت بنا دیا اے جان اپنے دل پے مجھے ناز کیوں نہ ہو اک خواب تھا کہ جس کو حقیقت بنا دیا مخصوص حد پہ آ گئی ...

مزید پڑھیے

یہ آرزو ہے کہ اب کوئی آرزو نہ رہے

یہ آرزو ہے کہ اب کوئی آرزو نہ رہے کسی سفر کسی منزل کی جستجو نہ رہے عجیب دل ہے اسی دل کا اب تقاضا ہے کسی بھی بزم میں اب اس کی گفتگو نہ رہے مزہ تبھی ہے محبت میں غرق ہونے کا میں ڈوب جاؤں تو یہ ہو کہ تو بھی تو نہ رہے بتاؤ ان کی عبادت قبول کیا ہوگی نماز عشق میں جو لوگ با وضو نہ رہے خدا ...

مزید پڑھیے

آشنا دل کو جلانے آئے

آشنا دل کو جلانے آئے تیرے قصے ہی سنانے آئے دل ہی دل میں ہے پشیماں دونو کون اب کس کو منانے آئے کچھ تو ملنے کی ہو صورت پیدا ترک الفت کے بہانے آئے اک تمنا ہے کہ اب میں روٹھوں اور وہ مجھ کو منانے آئے میری نیندوں میں وہ شامل ہو کر مجھ کو مجھ سے ہی چرانے آئے پھر فضا اس کے بدن سی ...

مزید پڑھیے

دعا ہے اور نہ کوئی بد دعا ہے

دعا ہے اور نہ کوئی بد دعا ہے یہ دنیا تو محض اک حادثہ ہے تمہارے سامنے جو آئنہ ہے یقیں جانو وہی تو آشنا ہے جو کہنا تھا وہ ہم نے کہہ دیا ہے بتائیں آپ کا کیا فیصلہ ہے عجب دنیا ہے انسانوں کی دنیا جہاں انسانیت ہی گمشدہ ہے تصور بارہا پہنچا وہیں پر ضمیر اکثر جہاں پر روکتا ہے یہی سچائی ...

مزید پڑھیے

ہزاروں منزلیں پھر بھی مری منزل ہے تو ہی تو

ہزاروں منزلیں پھر بھی مری منزل ہے تو ہی تو محبت کے سفر کا آخری حاصل ہے تو ہی تو بلا سے کتنے ہی طوفاں اٹھے بحر محبت میں ہر اک دھڑکن یہ کہتی ہے مرا ساحل ہے تو ہی تو مجھے معلوم ہے انجام کیا ہوگا محبت کا مسیحا تو ہی تو ہے اور مرا قاتل ہے تو ہی تو کیا افشا محبت کو مری بے باک نظروں ...

مزید پڑھیے

بن گئے دل کے فسانے کیا کیا

بن گئے دل کے فسانے کیا کیا کھل گئے راز نہ جانے کیا کیا کون تھا میرے علاوہ اس کا اس نے ڈھونڈے تھے ٹھکانے کیا کیا رحمت عشق نے بخشے مجھ کو اس کی یادوں کے خزانے کیا کیا آج رہ رہ کے مجھے یاد آئے اس کے انداز پرانے کیا کیا رقص کرتی ہوئی یادیں ان کی اور دل گائے ترانے کیا کیا تیرا انداز ...

مزید پڑھیے

روز ازل سے جاری سزاؤں کا سلسلہ

روز ازل سے جاری سزاؤں کا سلسلہ پھر بھی تھما نہیں ہے خطاؤں کا سلسلہ قائم ہے اب بھی میری وفاؤں کا سلسلہ اک سلسلہ ہے ان کی جفاؤں کا سلسلہ اب اشک بار ہوتے نہیں ہیں دعاؤں میں ناکام یوں ہوا ہے دعاؤں کا سلسلہ پاؤں تلے زمیں نہ ملا آسماں کوئی میرا سفر ہے جیسے خلاؤں کا سلسلہ آزاد ہو چکی ...

مزید پڑھیے

کھینچ لایا تجھے احساس تحفظ مجھ تک (ردیف .. ا)

کھینچ لایا تجھے احساس تحفظ مجھ تک ہم سفر ہونے کا تیرا بھی ارادہ کب تھا درگزر کرتی رہی تیری خطائیں برسوں میرے جذبات و خیالات تو سمجھا کب تھا موج در موج بھنور کھینچ رہا تھا مجھ کو میری کشتی کے لیے کوئی کنارہ کب تھا ظاہراً ساتھ وہ میرے تھا مگر آنکھوں سے بد گمانی کے نقابوں کو ...

مزید پڑھیے

شدت شوق سے افسانے تو ہو جاتے ہیں

شدت شوق سے افسانے تو ہو جاتے ہیں پھر نہ جانے وہی عاشق کہاں کھو جاتے ہیں مجھ سے ارشاد یہ ہوتا ہے کہ سمجھوں ان کو اور پھر بھیڑ میں دنیا کی وہ کھو جاتے ہیں درد جب ضبط کی ہر حد سے گزر جاتا ہے خواب تنہائی کے آغوش میں سو جاتے ہیں بس یوں ہی کہتے ہیں وہ میرے ہیں میرے ہوں گے اور اک پل میں ...

مزید پڑھیے

کہہ بھی دوں حال دل اگر شاید

کہہ بھی دوں حال دل اگر شاید ان پہ ہو جائے کچھ اثر شاید اب زمانہ ہے بے وفائی کا سیکھ لیں ہم بھی یہ ہنر شاید بعد مدت کے یہ خیال آیا راس آیا نہیں سفر شاید ہم ہی اب تک سمجھ نہیں پائے کچھ تو کہتی ہے وہ نظر شاید ویسے تو فاصلہ نہیں کوئی کشمکش ہے اگر مگر شاید ہر نظارے میں اس کا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4140 سے 4657