شاعری

اب غم کا کوئی غم نہ خوشی کی خوشی مجھے

اب غم کا کوئی غم نہ خوشی کی خوشی مجھے آخر کو راس آ ہی گئی زندگی مجھے وہ قتل کر کے مجھ کو پشیماں ہوئے تو کیا لوٹا سکیں گے پھر نہ مری زندگی مجھے سارے جہاں میں ہوتی ہے امن و اماں کی بات لیکن نظر نہ آئی کہیں آشتی مجھے نیزہ اٹھائے پھرتی ہے ہر راہ میں قضا ہر موڑ پر ہراس ملی زندگی ...

مزید پڑھیے

فراق یار میں کچھ کہئے سمجھایا نہیں جاتا

فراق یار میں کچھ کہئے سمجھایا نہیں جاتا دل وحشی کسی صورت سے بہلایا نہیں جاتا ہمیں نے چن لئے پھولوں کے بدلے خار دامن میں فقط گلچیں کے سر الزام ٹھہرایا نہیں جاتا سر بازار رسوا ہو گئے کیا ہم نہ کہتے تھے کسی سودائی کے منہ اس قدر آیا نہیں جاتا گریباں تھام لیں گے خار تو مشکل بہت ...

مزید پڑھیے

تیرے جانے کے بعد کیسا ہے

تیرے جانے کے بعد کیسا ہے دل میں اتنا فساد کیسا ہے آئیے دیکھیے ہمارا دل ٹوٹ جانے کے بعد کیسا ہے عشق میں چوٹ ہم نے کھائی ہے ہم سے پوچھو کہ سواد کیسا ہے پوچھئے تو جواب بھی دوں گی دیکھنا اعتماد کیسا ہے دوست بنتے چلے گئے میرے پھر یہ جانا نہاد کیسا ہے

مزید پڑھیے

ابھی وہ رابطہ ٹوٹا نہیں ہے

ابھی وہ رابطہ ٹوٹا نہیں ہے مسلسل حال جو پوچھا نہیں ہے بتا دوں زیست اس کی فکر میں ہی مگر افسوس وہ رشتہ نہیں ہے کسی صحرا میں ڈوبی ہوں کہیں میں کسی سے اب مجھے خطرا نہیں ہے دیے دنیا نے کتنے زخم مجھ کو مگر آنکھوں میں اک قطرہ نہیں ہے ہمارے پاس بس تم ہی نہیں ہو وگرنہ پاس جاناں کیا ...

مزید پڑھیے

دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں

دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں بے کار کے سفر میں کوئی کام کر کے آؤں بے مول کر گئیں مجھے گھر کی ضرورتیں اب اپنے آپ کو کہاں نیلام کر کے آؤں میں اپنے شور و شر سے کسی روز بھاگ کر اک اور جسم میں کہیں آرام کر کے آؤں کچھ روز میرے نام کا حصہ رہا ہے وہ اچھا نہیں کہ اب اسے بد نام کر کے ...

مزید پڑھیے

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں رات بستر پہ میں سوتا نہیں مر جاتا ہوں اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میں اس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں مجھ سے پوچھے تو سہی آئینہ خانہ میرا خال و خد لے کے میں ہم راہ کدھر جاتا ہوں دل ٹھہر جاتا ہے بھولی ہوئی منزل میں کہیں میں کسی دوسرے ...

مزید پڑھیے

میں خود کو مسمار کر کے ملبہ بنا رہا ہوں

میں خود کو مسمار کر کے ملبہ بنا رہا ہوں یہی بنا سکتا ہوں لہٰذا بنا رہا ہوں کسی کے سینے میں بھر رہا ہوں میں اپنی سانسیں کسی کے کتبے کو اپنا کتبہ بنا رہا ہوں بہت بھلی لگتی ہے اسے بھی مری اداسی خوشی خوشی خود کو دل گرفتہ بنا رہا ہوں ہجوم کو میرے قہقہوں کی خبر نہیں ہے بنا ہوا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

ان دنوں خود سے فراغت ہی فراغت ہے مجھے

ان دنوں خود سے فراغت ہی فراغت ہے مجھے عشق بھی جیسے کوئی ذہنی سہولت ہے مجھے میں نے تجھ پر ترے ہجراں کو مقدم جانا تیری جانب سے کسی رنج کی حسرت ہے مجھے خود کو سمجھاؤں کہ دنیا کی خبر گیری کروں اس محبت میں کوئی ایک مصیبت ہے مجھے دل نہیں رکھتا کسی اور تمنا کی ہوس ایسا ہو پائے تو کیا ...

مزید پڑھیے

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا عشق میں بابا ایک جنم سے کام نہیں چل سکتا بہت دنوں سے مجھ میں ہے کیفیت رونے والی درد فراواں سینے میں کہرام نہیں چل سکتا تہمت عشق مناسب ہے اور ہم پر جچتی ہے ہم ایسوں پر اور کوئی الزام نہیں چل سکتا چم چم کرتے حسن کی تم جو اشرفیاں لائے ہو اس ...

مزید پڑھیے

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر ہوا سے دوستی رکھ اس کا اعتبار نہ کر یقین کر او محبت یہی مناسب ہے زیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر یہ کوئی رشتہ نہیں ہے فقط ندامت ہے تو مجھ سے عمر میں کم ہے سو مجھ سے پیار نہ کر مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں تو میرا سوگ منا مجھ کو سوگوار نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4115 سے 4657