شاعری

قصے سب کھل گئے چھپائے ہوئے

قصے سب کھل گئے چھپائے ہوئے رنگ اڑنے ہی تھے بنائے ہوئے اس زباں سے نئے لگے مجھ کو سارے جملے سنے سنائے ہوئے چل مرے ساتھ کچھ خبر تو لے لوگ ہیں یہ ترے ستائے ہوئے دیکھتے دیکھتے کھنڈر ہو گئے باپ دادا کے گھر بسائے ہوئے میرا کچھ دیر رونا لازم ہے خواب تھے عمر بھر سجائے ہوئے کوئی اپنا ...

مزید پڑھیے

میں ہوں اور میری شاعری تنہا

میں ہوں اور میری شاعری تنہا چاہیے مجھ کو دو گھڑی تنہا چند پل کو ملے ہیں لوگ یہاں آخرت میں ہے آدمی تنہا زور چلتا نہیں ہواؤں پر گھومتی ہے گلی گلی تنہا اب مجھے جانے کی اجازت دو چیختی ہوگی خاموشی تنہا تیری یاد آ کے گھیر لیتی ہے ہوتی ہوں گر میں جب کبھی تنہا مرنا آساں لگا سحرؔ اس ...

مزید پڑھیے

نظم غزلوں کے سوا کچھ بھی نہیں

نظم غزلوں کے سوا کچھ بھی نہیں اس سے بڑھ کر اور مزہ کچھ بھی نہیں غم چھپانے میں مہارت ہے مجھے تم سمجھتے ہو ہوا کچھ بھی نہیں میں اسے للکار آئی ہوں مگر میرے اندر حوصلہ کچھ بھی نہیں رات محفل میں سحرؔ کا ذکر تھا خواب اس سے خوش نما کچھ بھی نہیں

مزید پڑھیے

عمر بھر کا ہے یہ سفر اب تو

عمر بھر کا ہے یہ سفر اب تو حوصلہ کر اڑان بھر اب تو خواب ہونے کو ہیں سبھی پورے ساتھ چلنے لگے شجر اب تو لفظ ترتیب سے رکھے تھے کچھ ہو گئے سب تتربتر اب تو ہم نے اپنی سی کر کے دیکھ لی ہے صرف قسمت پہ ہے بسر اب تو جو میری دسترس سے باہر تھا ساتھ کرنے لگا سفر اب تو

مزید پڑھیے

محبتوں میں کبھی یہ اثر نظر آئے

محبتوں میں کبھی یہ اثر نظر آئے وہ ایک بار دکھے عمر بھر نظر آئے جو سر جھکاؤں تو پیروں میں بیڑیاں دیکھوں جو سر اٹھاؤں تو نیزے پہ سر نظر آئے سکون ڈھونڈتے تھک جاؤں اور آخر کار وہ تنگ گلیوں میں مٹی کا گھر نظر آئے نہ منزلوں کا پتا ہے نہ راستوں کی خبر بھٹکتی آنکھوں کو اب راہ بر نظر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک پل مجھے دکھ درد بے شمار ملے

ہر ایک پل مجھے دکھ درد بے شمار ملے خدا کبھی تو میرے دل کو بھی قرار ملے زمانہ دشمن جاں ہو گیا یہ غم ہے مگر مرا نصیب کہ خنجر بدست یار ملے کیا ہوگی اس سے بھی بڑھ کر کسی کی محرومی جسے نصیب میں تا مرگ انتظار ملے اے عالمین کے رازق بتا کہاں جاؤں مرے وطن میں مجھے جب نہ روزگار ملے رہے وہ ...

مزید پڑھیے

مسکان لبوں پر آنکھوں میں تاروں کا سجانا مشکل ہے

مسکان لبوں پر آنکھوں میں تاروں کا سجانا مشکل ہے دل توڑنا ہے آساں لیکن روتے کو ہنسانا مشکل ہے ہے کانچ صفت دل سینے میں جب ٹوٹتا ہے پھر جڑتا نہیں جس چیز سے دل اٹھ جاتا ہے پھر اس سے لگانا مشکل ہے اے بلبل دل یوں غم پی کر مت چہک کہ اب لب کو سی لے سب ساز بریدہ حال ہوئے اب راگ پرانا مشکل ...

مزید پڑھیے

لفظ یوں خامشی سے لڑتے ہیں

لفظ یوں خامشی سے لڑتے ہیں جس طرح غم ہنسی سے لڑتے ہیں جانور جانور سے لڑتا ہے آدمی آدمی سے لڑتے ہیں موت کی آرزو میں دیوانے عمر بھر زندگی سے لڑتے ہیں جس سے ہے دوستی کا حکم ہمیں ہم بھی پاگل اسی سے لڑتے ہیں دوسروں سے کبھی نہیں لڑتے لوگ جو بھی خودی سے لڑتے ہیں یہ اندھیروں کے حکمراں ...

مزید پڑھیے

مال دنیا تلاش کرنا ہے

مال دنیا تلاش کرنا ہے یعنی رتبہ تلاش کرنا ہے آج انساں کو تپتے صحرا میں بہتا دریا تلاش کرنا ہے تو کنواری ہے کب سے اے دنیا تیرا رشتہ تلاش کرنا ہے اب چراغوں کی لو نہیں منظور ید بیضا تلاش کرنا ہے دشمنی پیار سے بھی کچھ اچھا درمیانہ تلاش کرنا ہے کر چکے سیر ہم سمندر کی اب کنارہ تلاش ...

مزید پڑھیے

ساکن عالم برباد نہیں سمجھیں گے

ساکن عالم برباد نہیں سمجھیں گے عرش کی باتیں زمیں زاد نہیں سمجھیں گے ایک مدت سے قفس میں رہے پنچھی خود کو ہو کے آزاد بھی آزاد نہیں سمجھیں گے یہ زمیں ہے یہاں جنت نہیں بننے والی بات یہ عصر کے شداد نہیں سمجھیں گے مسکرانے کی اداکاری مجھے آتی ہے مجھ کو گھر والے بھی ناشاد نہیں سمجھیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4096 سے 4657