شاعری

وصل ہی وصل رہے ہجر کا امکان نہ ہو

وصل ہی وصل رہے ہجر کا امکان نہ ہو اے مرے دوست یہ رشتہ کبھی بے جان نہ ہو ایک قیدی کی تمنا ہے نیا شہر ملے شہر ایسا کہ جہاں پر کوئی زندان نہ ہو دل کو راس آئی ہیں یہ مشکلیں مشکل سے بہت اب میں یہ چاہتا ہوں زندگی آسان نہ ہو بات تجھ سے ترے انداز میں ہی کر رہا ہو میرے لہجے کی اکڑ سن کے تو ...

مزید پڑھیے

دیدۂ تر میں کون رہے گا

دیدۂ تر میں کون رہے گا ڈوبتے گھر میں کون رہے گا سب ہی آدھی موت مریں گے رات نگر میں کون رہے گا تجھ پہ جمی ہیں سب کی نظریں تیری نظر میں کون رہے گا جنگ کریں گے یہ تو بتا دو ساتھ سپر میں کون رہے گا زندگی جب ہو باعث وحشت موت کے ڈر میں کون رہے گا

مزید پڑھیے

پلکوں پہ جو آنکھوں کی نگینے سے جڑے ہیں

پلکوں پہ جو آنکھوں کی نگینے سے جڑے ہیں کچھ خواب ہے بے جان جو رستے میں پڑے ہیں ماتم ہے بپا ترک محبت کا مرے گھر کچھ لمحے سیاہ پوش مرے در پہ کھڑے ہیں کیا کیا نہ سہا پھر بھی میں زندہ ہوں عجب ہے کچھ حادثے خود موت کی قامت سے بڑے ہیں ڈرتا ہوں کہیں اس میں اتر جائے نہ کوئی اس دل میں محبت ...

مزید پڑھیے

لگا کے دل کوئی کچھ پل امیر رہتا ہے

لگا کے دل کوئی کچھ پل امیر رہتا ہے پھر اک عمر وہ غم میں اسیر رہتا ہے کیوں ہاتھ دل سے لگاتے ہو بار بار اپنا کیا دل میں اب بھی کوئی بے نظیر رہتا ہے تری زباں پہ قناعت کی بات ٹھیک نہیں ترے بدن پہ لباس حریر رہتا ہے یقین آ گیا ان مہرباں ہواؤں سے اسی گلی میں مرا دست گیر رہتا ہے ترے فراق ...

مزید پڑھیے

یوں فسانہ کہنے کا سلسلہ بدل جائے

یوں فسانہ کہنے کا سلسلہ بدل جائے اگلے موڑ پر شاید راستہ بدل جائے آئنہ بدلنے سے چہرہ کب بدلتا ہے ہاں یہ عین ممکن ہے زاویہ بدل جائے لوگ میرے بارے میں کچھ الگ ہی کہتے ہیں مجھ سے مل کے دیکھیں تو نظریہ بدل جائے گرچہ لفظ و معنی کا رشتہ خود ہی مبہم ہے وہ اگر بیاں کر دیں واقعہ بدل ...

مزید پڑھیے

راہ کا ہر خار اک دن گلستاں بن جائے گا

راہ کا ہر خار اک دن گلستاں بن جائے گا ذرہ ذرہ خاک کا پھر آسماں بن جائے گا نفرتیں مٹ جائیں گی حرف غلط کی طرح سے ہاں مگر حرف غلط اک داستاں بن جائے گا بن کہے وہ دل کی باتیں جان جائیں گے ضرور ہر بن مو ایک دن نوک زباں بن جائے گا صرف خاکستر نہیں ہیں جا بجا چنگاریاں ٹوٹتا تارا بھی اک دن ...

مزید پڑھیے

جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا

جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا تھا وہ سورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا آنے والے وقت نے سمجھا اسے اپنا نقیب وہ پر پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خود واقف نہ تھا بھیڑ میں تو ساتھ تھا تنہائیوں میں کھو گیا حال کے ماتم سرا ہیں ہم نہ ماضی کے ...

مزید پڑھیے

ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا

ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا میں اس کو دیکھنے کو ترستی ہی رہ گئی جس شخص کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا بستی کے سارے لوگ ہی آتش پرست تھے گھر جل رہا تھا اور سمندر قریب تھا مریم کہاں تلاش کرے اپنے خون کو ہر شخص کے گلے میں نشان صلیب تھا دفنا دیا گیا ...

مزید پڑھیے

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے چاند تارے مرے قدموں میں بچھے جاتے ہیں یہ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے ماں مجھے دیکھ کے ناراض نہ ہو جائے کہیں سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے

مزید پڑھیے

تم کو بھلا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

تم کو بھلا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے میں زہر کھا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے کل میری ایک پیاری سہیلی کتاب میں اک خط چھپا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے اس وقت رات رانی مرے سونے صحن میں خوشبو لٹا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے ایمان جانئے کہ اسے کفر جانئے میں سر جھکا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے کل شام چھت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4097 سے 4657