شاعری

ہر وقت سیاست ٹھیک نہیں

ہر وقت سیاست ٹھیک نہیں بے بات کی حجت ٹھیک نہیں دیکھو نہ نفع نقصان ابھی لاشوں کی تجارت ٹھیک نہیں جب چیخ رہی ہو پانچالی پانڈو کی صداقت ٹھیک نہیں ہاتھ ان کے دامن چھونے لگیں اتنی بھی شرافت ٹھیک نہیں تم بھی کچھ ٹوٹے پھوٹے ہو رشتوں کی بھی حالت ٹھیک نہیں سچ کو سچ انجناؔ لکھ ...

مزید پڑھیے

ان کی مخالفت سے مرا نام ہو گیا

ان کی مخالفت سے مرا نام ہو گیا آغاز سے ہی خوب یہ انجام ہو گیا میری برائی کرنے میں وہ بھی لگے رہے میں یہ سمجھ رہی تھی مرا کام ہو گیا جس کو بچایا دھوپ ہواؤں سے عمر بھر قصر یقین وہ مرا نیلام ہو گیا بے چینیوں میں کاٹ دی میں نے تمام شب تجھ کو سکون مل گیا آرام ہو گیا جس کو بنا کے رکھا ...

مزید پڑھیے

پہلے جیسا وہ ڈھونڈھتا ہے مجھے

پہلے جیسا وہ ڈھونڈھتا ہے مجھے آئنہ روز ٹوکتا ہے مجھے ذہن جتنا بھی اختلاف کرے مشورہ دل کا ماننا ہے مجھے سو بھی جاؤں تو اے مری بیٹی تیری آنکھوں میں جاگنا ہے مجھے اس سے بیدار مجھ کو رہنا ہے جو ابھی ٹوٹ کر ملا ہے مجھے ہر گھڑی میں بکھرتی رہتی ہوں ہر گھڑی وہ سنبھالتا ہے مجھے اس کی ...

مزید پڑھیے

کوشش کرتی رہتی ہے سمجھاتی ہے

کوشش کرتی رہتی ہے سمجھاتی ہے خوشبو کی بھاشا ہم کو کب آتی ہے گھول کے سانسوں میں مدہوشی کی ہالہ دھیرے سے دل پر دستک دے جاتی ہے اس عورت کی خودداری بھی دیکھیں تو اپنا حق بھی مانگنے میں شرماتی ہے دنیا سے جب آگے چلنا سیکھ لیا دنیا میرے پیچھے پیچھے آتی ہے پتا تو کیول آدیشوں میں جیتا ...

مزید پڑھیے

حاصل محبت میں غم بہت ضروری ہے

حاصل محبت میں غم بہت ضروری ہے یہ اگر نہیں تو پھر شاعری ادھوری ہے پیار بن مکمل کب آدمی ہوا جاناں پیار جو نہیں تو پھر زندگی ادھوری ہے چاہتوں کی رت ہو تو دھوپ دھوپ موسم میں ہر قدم پہ ہے شملہ ہر قدم مسوری ہے سوابھمان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے جیون میں پھر یہ کیوں خوشامد ہے کیوں یہ جی ...

مزید پڑھیے

سب سنور جائے گا تھوڑی ہمت کرو

سب سنور جائے گا تھوڑی ہمت کرو بس محبت محبت محبت کرو سرحدوں کے تو حاکم بہت ہیں مگر مشورہ ہے کہ دل پہ حکومت کرو چاہتوں کے لیے تم ہو پیدا ہوئے تم سے کس نے کہا ہے کہ نفرت کرو پریتی کے سرخ ہونٹوں کے ہی واسطے کرشن کی بانسری کی تجارت کرو میرا دکھ مجھ کو کم کم سا لگنے لگا اپنا غم اور ...

مزید پڑھیے

شب فراق اچانک خیال آیا مجھے

شب فراق اچانک خیال آیا مجھے کہ میں چراغ نہ تھا اس نے کیوں جلایا مجھے کہاں ملا میں تجھے یہ سوال بعد کا ہے تو پہلے یاد تو کر کس جگہ گنوایا مجھے مجھے شبہ سا ہوا اس کی بے نیازی سے میں خود بنا ہوں خدا نے نہیں بنایا مجھے ملا بھی مجھ کو بچھڑ کر کہیں چلا بھی گیا اور اپنا نام بھی اس نے ...

مزید پڑھیے

آزار مرے دل کا دل آزار نہ ہو جائے

آزار مرے دل کا دل آزار نہ ہو جائے جو کرب نہاں ہے وہ نمودار نہ ہو جائے آواز بھی دیتی ہے کہ اٹھ جاگ میرے لعل ڈرتی بھی ہے بچہ کہیں بیدار نہ ہو جائے جب تک میں پہنچتا ہوں کڑی دھوپ میں چل کر دیوار کا سایہ پس دیوار نہ ہو جائے پردہ نہ سرک جائے کہیں اے دل بے تاب وہ پردہ نشیں اور پر اسرار ...

مزید پڑھیے

جان سے کیسے جایا جاتا ہے

جان سے کیسے جایا جاتا ہے یہ ہنر کیا سکھایا جاتا ہے بول کر بولیاں پرندوں کی ان کو گھیرے میں لایا جاتا ہے بعض وعدے کیے نہیں جاتے پھر بھی ان کو نبھایا جاتا ہے میں نہ جاؤں کہیں تو پھر دیکھوں کس طرح میرا سایا جاتا ہے صبح کے بعد بھی جو روشن ہوں ان دیوں کو بجھایا جاتا ہے

مزید پڑھیے

مدت سے کوئی ان کی تحریر نہیں ملتی

مدت سے کوئی ان کی تحریر نہیں ملتی کچھ دل کے بہلنے کی تدبیر نہیں ملتی ہر اک کو نہیں ہوتا عرفان محبت کا ہر اک کو محبت کی جاگیر نہیں ملتی بچوں کو تو اس طرح جلتے نہیں دیکھا تھا تاریخ میں کچھ ایسی تحریر نہیں ملتی پنجاب کو دیکھو تو اک آگ کا دریا ہے کشمیر میں جنت کی تصویر نہیں ملتی اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4092 سے 4657