شاعری

ہر چند انہیں عہد فراموش نہ ہوگا

ہر چند انہیں عہد فراموش نہ ہوگا لیکن ہمیں اس وقت کوئی ہوش نہ ہوگا دیکھوگے تو آئے گی تمہیں اپنی جفا یاد خاموش جسے پاؤگے خاموش نہ ہوگا گزرے ہیں وہ لمحے کہ سدا یاد رہیں گے دیکھا ہے وہ عالم کہ فراموش نہ ہوگا ہم اپنی شکستوں سے ہیں جس طرح بغل گیر یوں قبر سے بھی کوئی ہم آغوش نہ ...

مزید پڑھیے

موسم کا آہ و نالہ سے اندازہ کیجئے

موسم کا آہ و نالہ سے اندازہ کیجئے تازہ ہوا پہ بند نہ دروازہ کیجئے یا چھیڑئیے نہ منظر نادیدنی کا ذکر یا مثل آفتاب بہم غازہ کیجئے یا لب پہ لائیے نہ پریشانیوں کی بات یا جمع بیٹھ کر کبھی شیرازہ کیجئے بہلائیں دل کو خواب خوش آیند سے نہ کیوں کیا فائدہ کہ زخم کہن تازہ کیجئے اس دور ...

مزید پڑھیے

ہم سے بات میں پیچ نہ ڈال

ہم سے بات میں پیچ نہ ڈال یوں مت دل کے چور نکال مرنا ہے تو ڈرنا کیا چلتا ہے کیوں چور کی چال جوگی کو لوگوں سے کام بین بجا اور سانپ نکال آج کا جھگڑا آج چکا کل کی باتیں کل پر ٹال اپنا جھنجھٹ آپ نبیڑ اپنی گٹھری آپ سنبھال بڑھی ہے اتنی آبادی پڑا انسانوں کا کال انجمؔ عشق کا دعویٰ تھا کیسا ...

مزید پڑھیے

کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم

کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم دنیا میں ہو نہ پائے شناسا کسی سے ہم دیتے نہیں سجھائی جو دنیا کے خط و خال آئے ہیں تیرگی میں مگر روشنی سے ہم یاں تو ہر اک قدم پہ خلل ہے حواس کا اے خضر باز آئے تری ہم رہی سے ہم دیتے ہیں لوگ آج اسے شاعری کا نام پڑھتے تھے لوح دل پہ کچھ آشفتگی سے ...

مزید پڑھیے

ہم سے بھی گاہے گاہے ملاقات چاہیئے

ہم سے بھی گاہے گاہے ملاقات چاہیئے انسان ہیں سبھی تو مساوات چاہیئے اچھا چلو خدا نہ سہی ان کو کیا ہوا آخر کوئی تو قاضی حاجات چاہیئے ہے عاقبت خراب تو دنیا ہی ٹھیک ہو کوئی تو صورت گزر اوقات چاہیئے جانے پلک جھپکنے میں کیا گل کھلائے وقت ہر دم نظر بہ صورت حالات چاہیئے آئے گی ہم کو ...

مزید پڑھیے

بیاں میں تیرے ہر طرز بیاں گم

بیاں میں تیرے ہر طرز بیاں گم فسانے میں مرے ہر داستاں گم نہ ہم گم ہیں نہ تیرا آستاں گم مگر کچھ سلسلہ ہے درمیاں گم عجب انداز ازخود رفتگی ہے بھری محفل میں سب کے درمیاں گم رہی صحرا بہ صحرا تیری منزل ہوئے منزل بمنزل کارواں گم روانہ کارواں سالار ناپید سفینہ باد پیما بادباں ...

مزید پڑھیے

دکھی دلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے

دکھی دلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے ہر ایک شخص یہاں اک فسانہ رکھتا ہے کسی بھی حال میں راضی نہیں ہے دل ہم سے ہر اک طرح کا یہ کافر بہانہ رکھتا ہے ازل سے ڈھنگ ہیں دل کے عجیب سے شاید کسی سے رسم و رہ غائبانہ رکھتا ہے کوئی تو فیض ہے کوئی تو بات ہے اس میں کسی کو دوست یونہی کب زمانہ رکھتا ...

مزید پڑھیے

جائے خرد نہیں ہے کہ فرزانہ چاہئے

جائے خرد نہیں ہے کہ فرزانہ چاہئے ہو کا مقام ہے کوئی دیوانہ چاہئے ہے اس میں قید شہر نہ ویرانہ چاہئے بہر فراغ طبع فقیرانہ چاہئے گنجائش تصور یک لفظ بھی نہیں یاں ہر کسی کے واسطے افسانہ چاہئے یاں ہر قدم ہے محشر امکان نو بہ نو یاں ہر قدم پہ سجدۂ شکرانہ چاہئے جب تک کہ ہیں زمانے میں ...

مزید پڑھیے

دن ہو کہ رات، کنج قفس ہو کہ صحن باغ

دن ہو کہ رات، کنج قفس ہو کہ صحن باغ آلام روزگار سے حاصل نہیں فراغ رغبت کسے کہ لیجئے عیش و طرب کا نام فرصت کہاں کہ کیجیے صہبا سے پر ایاغ ویرانۂ حیات میں آسودہ خاطری کس کو ملا اس آہوئے رم خوردہ کا سراغ آثار کوئے دوست ہیں اور پا شکستگی خوشبوئے زلف یار ہے اور ہم سے بے دماغ کس کی ...

مزید پڑھیے

جاگتی آنکھوں میں آنا چھوڑ دو

جاگتی آنکھوں میں آنا چھوڑ دو جاگنا خود اور جگانا چھوڑ دو اس کی یادیں اس کی باتیں اس کا پیار آپ یہ قصہ پرانا چھوڑ دو پورے من سے میں سمرپت ہوں تمہیں تم مری قیمت لگانا چھوڑ دو جب تمہارے دل میں نفرت ہے تو پھر اس طرح ملنا ملانا چھوڑ دو لوگ کمزوری بنا لیں گے اسے اس طرح آنسو بہانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4091 سے 4657