شاعری

جاتے وقت تجھے تو ہم ہنستا دیکھیں گے

جاتے وقت تجھے تو ہم ہنستا دیکھیں گے پھر آئینے میں خود کا رونا دیکھیں گے ایک دفعہ ہم نے تم کو جی بھر دیکھا تھا ہم بعد تمہارے اب کیا دنیا دیکھیں گے آپ نے میری آنکھوں میں دریا دیکھا ہے تھوڑا رک جائیں تو پھر صحرا دیکھیں گے ان آنکھوں میں اور کسی کا چہرہ دیکھا ہم اس سے زیادہ کیا اور ...

مزید پڑھیے

روتے رہتا ہے دیوار سے لگ کر پاگل ہے

روتے رہتا ہے دیوار سے لگ کر پاگل ہے سنتا ہوں اپنے بارے میں اکثر پاگل ہے جس کو پانے کی خاطر کب سے پاگل تھا میں اس نے مجھ سے ہاتھ چھڑایا کہہ کر پاگل ہے جو ہم کو نہیں کرنے تھے وہ سارے کام کئے کون بھلا دنیا میں ہم سے بڑھ کر پاگل ہے تیری راہیں تکتے تکتے ہو گئے پتھر ہم اب تو اس کو ہاتھ ...

مزید پڑھیے

ان کو دکھ کہ ہم سے وہ کہتے یہ کیسے ہم غلط تھے

ان کو دکھ کہ ہم سے وہ کہتے یہ کیسے ہم غلط تھے اس لئے پہلے ہی ہم نے کہہ دیا کہ ہم غلط تھے وہ خفا ہیں جانے کب سے کیا پتہ کس بات پہ ہوں فرض بنتا ہے ہمارا کہہ دیں ان سے ہم غلط تھے تم اشارہ کر تو دیتے کہ نہیں جانا ہے تم کو روک لیتے ہم تمہیں کہہ دیتے سب سے ہم غلط تھے ہم کسی بھی طور اس کو ...

مزید پڑھیے

صدائیں دیتا رہتا ہے کہ اے مولیٰ دکھائی دے

صدائیں دیتا رہتا ہے کہ اے مولیٰ دکھائی دے تو یعنی چاہتا ہے کہ وہ ہے کیسا دکھائی دے نکل باہر تو ان دیر و حرم کے مسئلوں سے پھر محبت ہی محبت کی تجھے دنیا دکھائی دے میں مندر میں بھی جاتا ہوں میں مسجد میں بھی جاؤں گا خدا ہر سمت ہی مجھ کو بس اک جیسا دکھائی دے نہ جانے ربط یہ کیسا ہے اس ...

مزید پڑھیے

حدیں بڑھنے لگی تھی تیرگی کی

حدیں بڑھنے لگی تھی تیرگی کی کمی جب ہو گئی تھی روشنی کی خدا تو ہی بتا کس بات پہ یہ سزا ہم کو ملی ہے زندگی کی کوئی کرتا نہیں ہے انتظار اب ضرورت بھی نہیں پڑتی گھڑی کی کریں دنیا جہاں کی فکر کیوں ہم ہماری عمر ہے آوارگی کی ہم اک مدت سے روئے جا رہے ہیں چکانی پڑ رہی قیمت ہنسی کی خوشی ...

مزید پڑھیے

مر جائیں گے تم بن ہم آسانی سے

مر جائیں گے تم بن ہم آسانی سے مت تڑپاؤ یوں اپنی خاموشی سے دوری اپنے بیچ میں جاناں اتنی ہے ملتے ملتے مر جائیں بے چینی سے اتنے میں آ جاتی ہے لجا اس کو لگتے ہیں جب لب اس کی پیشانی سے دو کمروں میں دو پنکھوں پر دو لاشیں روکا ہوگا گھر والوں نے شادی سے

مزید پڑھیے

اک دفعہ اس کو تو یوں بھی آزمانا ہے مجھے

اک دفعہ اس کو تو یوں بھی آزمانا ہے مجھے آنسوؤں کو آنکھ کا پانی بتانا ہے مجھے جاں بہت اترا رہا ہے اب تو آئینہ مرا آؤ آئینے کو آئینہ دکھانا ہے مجھے خود مجھے تو بننا ہے مصرع اولیٰ شعر میں تم کو اس کا مصرع ثانی بنانا ہے مجھے رخ سے زلفوں کو ہٹاتے آؤ چھت پہ رات کو اصل چہرہ چاند کا سب ...

مزید پڑھیے

جی رہا ہوں ٹھیک بھی ہوں آپ کی ہی میں بلا سے

جی رہا ہوں ٹھیک بھی ہوں آپ کی ہی میں بلا سے درد مجھ کو مل رہے ہیں آپ کی ہی بس دعا سے حال میرا جو ہوا ہے ہے محبت کا نتیجہ ٹھیک تو ہونا نہیں ہے اب یہ کیسی بھی دوا سے تو کہانی اور کوئی لکھ دے نا حصہ میں میرے جی مرا اکتا گیا ہے یا خدا اب اس کتھا سے گر ملانا ہی نہیں تھا تو ملایا کیوں ...

مزید پڑھیے

محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو

محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو وہ آتش کیا کہ سینے میں نہاں ہو نہیں ہوا اور پھر کہنے کو یہاں ہو حریف بد گماں کے ہم گماں ہو تحیر فرط شوق دید سے ہوں وہیں مجھ کو بھی دیکھو تم جہاں ہو سنی جاتی ہو جب محشر میں روداد تو اپنی ختم کیوں کر داستاں ہو وہ مستغنی سہی پر دل گیا ہے جو پھر ہو تو انہیں ...

مزید پڑھیے

یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا

یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا بسمل ناز رہا کشتۂ رفتار رہا زندگی بھر مجھے مرنے سے سروکار رہا جرم نا کردہ عقوبت کا سزا وار رہا شیخ سرشار سیہ مستیٔ پندار رہا پردۂ چشم جو پاس ادب یار رہا میں رہا سامنے تو بھی پس دیوار رہا دل یہ شادئ جراحت سے ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4076 سے 4657