شاعری

لمحہ لمحہ اپنی زہریلی باتوں سے ڈستا تھا

لمحہ لمحہ اپنی زہریلی باتوں سے ڈستا تھا وہ میرا دشمن ہو کر بھی میرے گھر میں بستا تھا باپ مرا تو بچے روٹی کے ٹکڑے کو ترس گئے ایک تنے سے کتنی شاخوں کا جیون وابستہ تھا افواہوں کے دھوئیں نے کوشش کی ہے کالک ملنے کی وہ بکنے کی شے ہوتا تو ہر قیمت پر سستا تھا اک منظر میں پیڑ تھے جن پر ...

مزید پڑھیے

ہر گھر کے مکینوں نے ہی در کھولے ہوئے تھے

ہر گھر کے مکینوں نے ہی در کھولے ہوئے تھے سامان بندھا رکھا تھا پر کھولے ہوئے تھے کیا کرتے جو دو چار قدم تھا لب دریا جب حوصلے ہی رخت سفر کھولے ہوئے تھے اک اس کے بچھڑنے کا قلق سب کو ہوا تھا سر سبز درختوں نے بھی سر کھولے ہوئے تھے سچائی کی خوشبو کی رمق تک نہ تھی ان میں وہ لوگ جو بازار ...

مزید پڑھیے

یہ ہاتھ اپنا مرے ہاتھ میں تھما دیجے

یہ ہاتھ اپنا مرے ہاتھ میں تھما دیجے تھکا ہوا ہوں ذرا دل کو حوصلہ دیجے بس اب ملے ہیں تو کیجے نہ آس پاس کا خوف جو سنگ راہ ملے پاؤں سے ہٹا دیجے یہ اور دور ہے اور سب یہاں مجھی سے ہیں وہ کوہ کن کی حکایات سب بھلا دیجے نہیں ہے آپ کو فرصت اگر توجہ کی تو میں بھی لوٹتا ہوں گھر کو آ گیا ...

مزید پڑھیے

جہان بھر سے نہ یوں میرا تذکرہ کیجے

جہان بھر سے نہ یوں میرا تذکرہ کیجے میں دل کا راز ہوں دل سے مرا گلہ کیجے یہ کیا یقیں کہ سمجھ لے گا ہر اشارہ وہ لبوں کا فرض نگاہوں سے کیوں ادا کیجے نصیب میں جو کبھی صبح کا اجالا ہو تو مل ہی جائے گا ہر رات کیا دعا کیجے خلوص کو بھی یہاں مصلحت کہیں گے لوگ بھلا یہی ہے کسی سے نہ جو بھلا ...

مزید پڑھیے

ہوا کرے اگر اس کو کوئی گلہ ہوگا

ہوا کرے اگر اس کو کوئی گلہ ہوگا زباں کھلی ہے تو پھر کچھ تو فیصلہ ہوگا کبھی کبھی تو یہ دل میں سوال اٹھتا ہے کہ اس جدائی میں کیا اس نے پا لیا ہوگا وہ گرم گرم نفس کیسے ٹھہرتے ہوں گے اب ان شبوں کو وہ کیسے گزارتا ہوگا کبھی جو گزروں ترے شہر سے تو سوچتا ہوں کہ اس زمین پہ کیا کیا قدم پڑا ...

مزید پڑھیے

وہ بت بنا نگاہ جمائے کھڑا رہا

وہ بت بنا نگاہ جمائے کھڑا رہا میں آنکھ بند کر کے اسے پوجتا رہا خوش فہمیوں کا آج بھرم کھل گیا تو کیا اک موڑ پر تو اس کا مرا سامنا رہا تم کو تو ایک عمر ہوئی ہے جدا ہوئے حیراں ہوں رات بھر میں کسے ڈھونڈھتا رہا اک اک دریچہ بند تھا پھر بھی یہ ڈر رہا چھپ چھپ کے جیسے کوئی ہمیں جھانکتا ...

مزید پڑھیے

جب سے پڑی ہے ان سے ملاقات کی طرح

جب سے پڑی ہے ان سے ملاقات کی طرح آتی نہیں گرفت میں حالات کی طرح آیا جو لکھتے لکھتے ترے قرب کا خیال خط بھی الجھ گیا ہے مری بات کی طرح تنہائی میں ملو تو تمہیں دل کے آس پاس دکھلائیں ایک شہر طلسمات کی طرح یوں ہی جو باندھتے رہے تمہید آج بھی یہ شب بھی بیت جائے گی کل رات کی طرح انوارؔ ...

مزید پڑھیے

یہ سرکاری شفا خانے میں جو بیمار لیٹے ہیں

یہ سرکاری شفا خانے میں جو بیمار لیٹے ہیں بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار لیٹے ہیں کسی کو کیا پتہ ہم جھانکتے رہتے ہیں موری سے بظاہر اک ہونق ہیں پس دیوار لیٹے ہیں ہمارے عشق اور ان کے تغافل کا یہ عالم ہے کہ ہم دل ہار بیٹھے ہیں وہ لینے ہار لیٹے ہیں یونہی شام و سحر رہتا ہے نقشہ ان کی ...

مزید پڑھیے

ہو کبھی گر تجھ کو دریا کی روانی دیکھنا

ہو کبھی گر تجھ کو دریا کی روانی دیکھنا تو تو ہم جیسے دیوانوں کی کہانی دیکھنا چڑھتے دیکھی ایک چیونٹی میں نے اس دیوار پر اس سے سیکھا خواب میں نے آسمانی دیکھنا دیکھنے بھر سے تمہیں ہے ملتا اس دل کو سکون چاہتا ہوں تم کو ساری زندگانی دیکھنا شعر کے پہلے ہی مصرع میں لکھا ہے اس کا ...

مزید پڑھیے

دل کے خاطر یہ بدن ہے قید خانے کی طرح

دل کے خاطر یہ بدن ہے قید خانے کی طرح سو لگا ہے پھڑپھڑانے یہ پرندے کی طرح ہو پری کوئی یا کوئی پھول ہی ہو کیا ہوا کوئی بھی پیارا نہیں ہے اس کے چہرے کی طرح چاند ہے جو آسماں میں وہ تو ہے اس کی جبیں اور تارے ہیں یہ سارے اس کے جھمکے کی طرح دیکھتا ہی کیوں نہ جاؤں بیٹھ کے میں بس اسے اس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4075 سے 4657