شاعری

میں تو سمجھا تھا جس وقت مجھ کو وہ ملیں گے تو جنت ملے گی

میں تو سمجھا تھا جس وقت مجھ کو وہ ملیں گے تو جنت ملے گی کیا خبر تھی رہ عاشقی میں ساتھ ان کے قیامت ملے گی میں نہیں جانتا تھا کہ مجھ کو یہ محبت کی قیمت ملے گی آنسوؤں کا خزانہ ملے گا چاک دامن کی دولت ملے گی پھول سمجھے نہ تھے زندگانی اس قدر خوبصورت ملے گی اشک بن کر تبسم ملے گا درد بن ...

مزید پڑھیے

اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے

اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے دیوانہ سمجھ کر ہی ان کے ہونٹوں پہ مرا نام آ جائے میں خوش ہوں اگر گلشن کے لیے کچھ میرا لہو کام آ جائے لیکن مجھ کو ڈر ہے اس کا گلچیں پہ نہ الزام آ جائے اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے اک چاند فلک پر نکلا ہو اک چاند سر بام آ ...

مزید پڑھیے

کسی صورت بھی نیند آتی نہیں میں کیسے سو جاؤں

کسی صورت بھی نیند آتی نہیں میں کیسے سو جاؤں کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں میں کیسے سو جاؤں اکیلا پا کے مجھ کو یاد ان کی آ تو جاتی ہے مگر پھر لوٹ کر جاتی نہیں میں کیسے سو جاؤں جو خوابوں میں مرے آ کر تسلی مجھ کو دیتی تھی وہ صورت اب نظر آتی نہیں میں کیسے سو جاؤں تمہیں تو ہو شب غم میں ...

مزید پڑھیے

زندگی اپنی خواب جیسی ہے

زندگی اپنی خواب جیسی ہے خوب رو بے نقاب جیسی ہے صحن گلشن میں آپ کی ہستی شاخ پر ایک گلاب جیسی ہے کبھی ڈوبی ہے اور کبھی ابھری عاشقی بھی حباب جیسی ہے ہوش میں رہ کے بھی ہے بے ہوشی زیست اپنی شراب جیسی ہے ان کی شوخی تو ہے بہار چمن سادگی محو خواب جیسی ہے ہے کرشمہ یہ ان کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

اسی عمل کی ذرا سی شراب دیتا چل

اسی عمل کی ذرا سی شراب دیتا چل شرر کے ہاتھ میں کوئی گلاب دیتا چل وہ انتشار غم زیست میں جلا دے گا مگر اسی کو خوشی کی کتاب دیتا چل ہر اک سوال کا ملتا رہا جواب تجھے کسی سوال کا تو بھی جواب دیتا چل یہاں تو تیری حکومت کا کارخانہ تھا کبھی ہمارے غموں کا حساب دیتا چل زمیں سکون کی حالت ...

مزید پڑھیے

پیار کو پا کر جو محرومی ہوئی

پیار کو پا کر جو محرومی ہوئی کچھ ہمارے دل کی مجبوری ہوئی دور سے سہما ہوا بحر خموش دیکھتا ہے زندگی جلتی ہوئی ہے ابھی تعبیر کی رنگت وہی صورتیں ہیں خواب کی بدلی ہوئی میرے کمرے میں سبھی چیزیں ہیں آج زندگانی کی طرح بکھری ہوئی آج بھی یادوں کے ویرانے میں دوست تیری صورت ہے ذرا ابھری ...

مزید پڑھیے

میں ہر بے جان حرف و لفظ کو گویا بناتا ہوں

میں ہر بے جان حرف و لفظ کو گویا بناتا ہوں کہ اپنے فن سے پتھر کو بھی آئینہ بناتا ہوں میں انساں ہوں مرا رشتہ براہیمؔ اور آزرؔ سے کبھی مندر کلیسا اور کبھی کعبہ بناتا ہوں مری فطرت کسی کا بھی تعاون لے نہیں سکتی عمارت اپنے غم خانے کی میں تنہا بناتا ہوں نہ جانے کیوں ادھوری ہی مجھے ...

مزید پڑھیے

قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میرا

قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میرا ازل سے تا بہ ابد صرف اک سفر میرا خراج مجھ کو دیا آنے والی صدیوں نے بلند نیزے پہ جب ہی ہوا ہے سر میرا عطا ہوئی ہے مجھے دن کے ساتھ شب بھی مگر چراغ شب میں جلا دیتا ہے ہنر میرا سبھی کے اپنے مسائل سبھی کی اپنی انا پکاروں کس کو جو دے ساتھ عمر بھر ...

مزید پڑھیے

شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گا

شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گا دل خشک رہا تو کہیں ساون نہ ملے گا تم پیار کی سوغات لیے گھر سے تو نکلو رستے میں تمہیں کوئی بھی دشمن نہ ملے گا اب گزری ہوئی عمر کو آواز نہ دینا اب دھول میں لپٹا ہوا بچپن نہ ملے گا سوتے ہیں بہت چین سے وہ جن کے گھروں میں مٹی کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے ...

مزید پڑھیے

زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے

زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے آج تک کوئی قصیدہ نہیں لکھا میں نے جب مخاطب کیا قاتل کو تو قاتل لکھا لکھنوی بن کے مسیحا نہیں لکھا میں نے میں نے لکھا ہے اسے مریم و سیتا کی طرح جسم کو اس کے اجنتا نہیں لکھا میں نے کبھی نقاش بتایا کبھی معمار کہا دست فنکار کو کاسہ نہیں لکھا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4067 سے 4657