شاعری

میں سمجھتا تھا در و بام کہاں بولتے ہیں

میں سمجھتا تھا در و بام کہاں بولتے ہیں پھر ترے بعد کھلا مجھ پہ کہ ہاں بولتے ہیں یہ جو دبتی ہے مرے شور میں آواز مری میری ہستی میں کہیں کار زیاں بولتے ہیں اس جہاں کے متوازی بھی جہاں ہے کوئی جو یہاں بول نہیں پاتے وہاں بولتے ہیں متصل اس کے لبوں سے ہے یہ کار آواز وہ اگر ہل نہ سکیں ہم ...

مزید پڑھیے

اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے پہلے

اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے پہلے رونما ہوتے ہیں اثرات سبب سے پہلے سب سے اونچا تھا زمانے میں تخیل میرا حادثے مجھ پہ گرا کرتے تھے سب سے پہلے ایک دوجے سے نمو پاتی ہیں چیزیں اکثر پیاس کا نام کہاں ہوتا تھا لب سے پہلے شعر نے حسن کی ترویج کا سامان کیا رائیگاں جاتی تھی ہر آنکھ ادب سے ...

مزید پڑھیے

اپنے پیروں پہ کسی طور کھڑے ہوتے نہیں

اپنے پیروں پہ کسی طور کھڑے ہوتے نہیں بوڑھے ہو جاتے ہیں ہم لوگ بڑے ہوتے نہیں صبر و خاموشی کی زنجیر جکڑ لیتی ہے اب کلائی میں بغاوت کے کڑے ہوتے نہیں حلقۂ عشق میں سب چاک دلاں ملتے ہیں اس قبیلے میں کوئی خاص دھڑے ہوتے نہیں ایسے اس شخص کے لہجے سے پگھل جاتے ہیں جیسے ہم لوگ کبھی ضد پہ ...

مزید پڑھیے

کری نگاہ و سماعت نے برتری تسلیم

کری نگاہ و سماعت نے برتری تسلیم لبوں کے ساتھ تری بات بھی ہوئی تسلیم ہم ایسے لوگ پس جسم سانس لیتے ہیں ہماری موت بھی ہوتی ہے زندگی تسلیم چراغ ڈھونڈ کے لائے کوئی تو کہہ دینا ہماری آنکھ اندھیرے کو کر چکی تسلیم تم ایک بحر میں جوڑو دعا کے سارے حروف کہ آسمان پہ ہوتی ہے شاعری ...

مزید پڑھیے

سوگواروں میں عزادار نہیں کوئی بھی

سوگواروں میں عزادار نہیں کوئی بھی یعنی سچ ہے کہ مرا یار نہیں کوئی بھی خود کو اک عمر بنا دیکھے پریشان رکھا اب جو دیکھا پس دیوار نہیں کوئی بھی قہقہہ وار رلانے کی ریاضت ہے تری زندگی تجھ سا جفاکار نہیں کوئی بھی میں تو یوں مست ہوا لوگ تجھے یہ نہ کہیں کہ ترے عشق میں سرشار نہیں کوئی ...

مزید پڑھیے

ایک دوجے کے قریں بیٹھ کے رو لیتے ہیں

ایک دوجے کے قریں بیٹھ کے رو لیتے ہیں جہاں کہتا ہے وہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں میں بہت جلد زمانے سے بچھڑ جاؤں گا آئیے مجھ کو کہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں آج کا رونا کبھی کل پہ نہیں ٹالا ہے جہاں کا غم ہو وہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں مجھ کو معلوم ہے وہ اتنا نہ رو پائے گا اس لیے یار ہمیں بیٹھ کے ...

مزید پڑھیے

خود اپنی ذات کا انکار کرنے والا ہے

خود اپنی ذات کا انکار کرنے والا ہے کوئی تمام حدیں پار کرنے والا ہے ابھی نہ ہاتھ بڑھا پگڑیوں کی جانب تو کہ یہ تماشہ سوئے دار کرنے والا ہے کبھی کسی نے کیا ہے نہ کر سکے گا کوئی جو میرے ساتھ مرا یار کرنے والا ہے مجھے وہ ماتمی آنکھیں لگائے جا رہا ہے وہ میرے خواب عزادار کرنے والا ...

مزید پڑھیے

احساس زیاں ہم میں سے اکثر میں نہیں تھا

احساس زیاں ہم میں سے اکثر میں نہیں تھا اس دکھ کا مداوا کسی پتھر میں نہیں تھا وہ شخص تو شب خون میں مارا گیا ورنہ اس جیسا بہادر کوئی لشکر میں نہیں تھا اب خاک ہوا ہوں تو یہ احوال کھلا ہے شعلے کے سوا کچھ مرے پیکر میں نہیں تھا یہ واقعہ میرا تھا کہ تھا سانحہ میرا میں اپنے ہی گھر میں ...

مزید پڑھیے

رہیے احباب سے کٹ کر کہ وبا کے دن ہیں

رہیے احباب سے کٹ کر کہ وبا کے دن ہیں سانس بھی لیجیے ہٹ کر کہ وبا کے دن ہیں وہ جنہیں خود سے بھی ملنے کی نہیں تھی فرصت رہ گئے خود میں سمٹ کر کہ وبا کے دن ہیں رونق بزم جہاں خود کو سمجھنے والے آ گئے گھر کو پلٹ کر کہ وبا کے دن ہیں کیا کسی اور سے اب حرف تسلی کہیے روئیے خود سے لپٹ کر کہ ...

مزید پڑھیے

جہاں میں آئے نہ کوئی کمی محبت کی

جہاں میں آئے نہ کوئی کمی محبت کی صدا لگاتا رہوں گا یوں ہی محبت کی یہ دل جو باغ کی صورت مہک رہا ہے میاں کبھی کھلی تھی یہاں اک کلی محبت کی نہ جانے کتنے ہی لمحے پلک پہ ٹھہر گئے کسی نے بات جو چھیڑی کبھی محبت کی رکھا ہے ایک ہی معیار ہر محبت میں سو جس کسی سے بھی کی ایک سی محبت کی تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4045 سے 4657