میں سمجھتا تھا در و بام کہاں بولتے ہیں
میں سمجھتا تھا در و بام کہاں بولتے ہیں پھر ترے بعد کھلا مجھ پہ کہ ہاں بولتے ہیں یہ جو دبتی ہے مرے شور میں آواز مری میری ہستی میں کہیں کار زیاں بولتے ہیں اس جہاں کے متوازی بھی جہاں ہے کوئی جو یہاں بول نہیں پاتے وہاں بولتے ہیں متصل اس کے لبوں سے ہے یہ کار آواز وہ اگر ہل نہ سکیں ہم ...