شاعری

اب دل کو انتظار ترے فیصلے کا ہے

اب دل کو انتظار ترے فیصلے کا ہے اور تجھ میں عیب دیر تلک سوچنے کا ہے کوئی نہیں سنے گا برائی شراب کی ہر شخص اس دیار میں عادی نشے کا ہے اب سنگ باریوں کا عمل سرد پڑ گیا اب اس طرف بھی رنج مرے ٹوٹنے کا ہے یہ سارے لوگ خود تو ہیں جیسے کوئی کمان جو تیر چل رہا ہے کسی دوسرے کا ہے چہرے کا خول ...

مزید پڑھیے

کہاں کی آہ و زاریاں ملال تک نہیں ہوا

کہاں کی آہ و زاریاں ملال تک نہیں ہوا دل خراب پائمال یک بہ یک نہیں ہوا بکھر گئے تھے ٹوٹ کر مگر ہم اس کے بعد ہی کچھ اس طرح سنبھل گئے کسی کو شک نہیں ہوا بڑی ہی کربناک تھی وہ پہلی رات ہجر کی دوبارہ دل میں ایسا درد آج تک نہیں ہوا ستم گروں سے دوستی چلی تمام زندگی ستم زدوں پہ مہرباں مگر ...

مزید پڑھیے

احساس میں شدت ہے وہی کم نہیں ہوتی

احساس میں شدت ہے وہی کم نہیں ہوتی اک عمر ہوئی دل کی لگی کم نہیں ہوتی لگتا ہے کہیں پیار میں تھوڑی سی کمی تھی اور پیار میں تھوڑا سی کمی نہیں ہوتی اکثر یہ مرا ذہن بھی تھک جاتا ہے لیکن رفتار خیالوں کی کبھی کم نہیں ہوتی تھا زہر کو ہونٹوں سے لگانا ہی مناسب ورنہ یہ مری تشنہ لبی کم نہیں ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات میں تاروں کی کہانی لکھی

چاندنی رات میں تاروں کی کہانی لکھی جلوۂ جاناں کی ہر ایک نشانی لکھی ہو کے حاصل نہ ہوئی ایسی سیانی لکھی تم کو اک حاجت ناکام زبانی لکھی میں نے ہر وقت نیا درد سہیجا دل میں اس نے افسوس مری بات پرانی لکھی سامنے آ گیا دنیا کے محبت کا بھرم بات جب نکلی تو اپنی ہی جوانی لکھی نرم و نازک ...

مزید پڑھیے

تمہارے درد کے جیسا نہیں ہے

تمہارے درد کے جیسا نہیں ہے ہمارے درد کا چہرہ نہیں ہے اگرچہ عشق سا مہنگا نہیں ہے مگر یہ ہجر بھی سستا نہیں ہے ہماری آنکھ سے دیکھو تو جانو مطابق عشق کے دنیا نہیں ہے چلو اب ڈھونڈھا جائے پھر نیا غم کہ کاغذ پہ کوئی مصرع نہیں ہے ذرا نشتر چبھاؤ زور سے پھر یہ زخم دل ابھی گہرا نہیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں تیری دید کے منظر لیے ہوئے

آنکھوں میں تیری دید کے منظر لیے ہوئے پھرتے ہیں سر پہ بوریا بستر لیے ہوئے پہلی نظر نے آپ کی بسمل کیا ہمیں ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے کیسے کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیں رگ رگ میں دوڑتی پھرے نشتر لیے ہوئے اے آرزوئے دشت کہیں تو قیام کر کیوں پھر رہی ہے خوابوں کا لشکر لیے ...

مزید پڑھیے

کل تک جو انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا

کل تک جو انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا اک ہی تو میرا یار تھا وہ بھی نہیں رہا تھوڑا بہت جو پیار تھا وہ بھی نہیں رہا اک شخص بے قرار تھا وہ بھی نہیں رہا جینے کی ایک امید تھی وہ بھی نہیں رہی جس درد سے قرار تھا وہ بھی نہیں رہا ایسی چلی ہوائیں کہ سب کچھ بکھر گیا اک پیڑ سایہ دار تھا وہ بھی ...

مزید پڑھیے

ریت سا دن ہے رات مٹھی بھر

ریت سا دن ہے رات مٹھی بھر آدمی کی بساط مٹھی بھر رب کی کوزہ گری کا افسوں ہے ہم سبھی کی حیات مٹھی بھر ایک مشت غبار ہے ہستی اور یہ کائنات مٹھی بھر حد سے بے حد خدا کی رحمت ہے اور اپنی زکوٰۃ مٹھی بھر سارے دن کی تھکن کے بدلے میں ہاتھ آئی ہے رات مٹھی بھر لوگ کہتے ہیں زندگی جس ...

مزید پڑھیے

قدرت کی عدالت میں کانٹوں کی شکایت ہے

قدرت کی عدالت میں کانٹوں کی شکایت ہے ہر باغ میں پھولوں کی فطرت میں رعونت ہے سمجھا دو فرشتوں کو کس کی مجھے حسرت ہے ہوں جس کا تمنائی نام اس کا محبت ہے اس درجہ محبت ہے اک دوجے سے دونوں کو میں اس کی ضرورت ہوں وہ میری ضرورت ہے یہ کس کی اطاعت میں دل میرا دکھا بیٹھے تصویر میں جا بیٹھے ...

مزید پڑھیے

عشق پہلے تو گلابوں کی طرح ہوتا ہے

عشق پہلے تو گلابوں کی طرح ہوتا ہے اور پھر بعد میں کانٹوں کی طرح ہوتا ہے ساتھ رہتے ہوئے بھی ساتھ نہیں رہتا ہے اپنا سایہ بھی تو غیروں کی طرح ہوتا ہے کوشاں رہتے ہیں کہ ٹوٹے نہ کبھی اس کا یقین اور یقیں کانچ کے کنچوں کی طرح ہوتا ہے دل کی آواز سنی اور محبت کر لی آدمی عشق میں بچوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4035 سے 4657