شاعری

نہ پوچھ مجھ سے تو کیسے کہاں سے لڑنا ہے

نہ پوچھ مجھ سے تو کیسے کہاں سے لڑنا ہے زمیں پہ رہ کے مجھے آسماں سے لڑنا ہے ہماری ضد ہے کہ ہم کو فلاں سے لڑنا ہے سمجھ میں آتا نہیں ہے کہاں سے لڑنا ہے یہ شہریار ہی میرے چمن کا دشمن ہے اسی لئے تو غم بوستاں سے لڑنا ہے ہر ایک رات اسی فکر میں گزرتی ہے کہ صبح ہوتے ہی پھر جسم و جاں سے لڑنا ...

مزید پڑھیے

حال بدلا ہی نہیں اب تک دل دلگیر کا

حال بدلا ہی نہیں اب تک دل دلگیر کا کچھ سبب بتلائیے گا آپ اس تاخیر کا ہم فنا کی حد سے آگے بڑھ گئے تھے عشق میں اس سے آگے کیا لکھیں ہم قصہ اب تدبیر کا میں بہا آیا ہوں خط گنگا میں اپنے پیار کے جو کلیجہ سے لگی ہے کیا کروں تصویر کا کل تلک دعویٰ تھا بدلیں گے مزاج وقت آپ آج رونا رو رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

حسن ہر رنگ میں مخصوص کشش رکھتا ہے (ردیف .. و)

حسن ہر رنگ میں مخصوص کشش رکھتا ہے وہ تبسم کی ادا ہو کہ ستم کوشی ہو زندگی کیف مسلسل میں گزر جاتی ہے چشم مخمور کی مستی ہو کہ مے نوشی ہو تیرے آنے کی مسرت سے سحر ہو روشن اور راتوں کی ترے غم میں سیہ پوشی ہو جاذبیت تو بہ ہر حال ہوا کرتی ہے حسن کی بو قلمونی ہو کہ خوش پوشی ہو کوئی عالم ...

مزید پڑھیے

داستاں بھی مختلف لہجہ بھی یاروں سے جدا

داستاں بھی مختلف لہجہ بھی یاروں سے جدا پانچواں درویش تو ہے پہلے چاروں سے جدا زہر نا پختہ مزاجوں میں بھرا کرتے ہیں یہ آپ رہیے گا ذرا ان ہوشیاروں سے جدا شور برپا ہو گیا ہر گوشۂ گلزار میں جب ابھر آیا نیا منظر بہاروں سے جدا چاٹ جاتی حرص کی دیمک فقیروں کے بھی تن سیرتیں ان کی تھیں ...

مزید پڑھیے

مجھے محرومیوں کا غم نہیں ہے

مجھے محرومیوں کا غم نہیں ہے یہ توفیق طلب بھی کم نہیں ہے محبت نام ہے غم پیشگی کا ہوس اس راز کی محرم نہیں ہے خموشی بھی ہے اک طرز تکلم نظر کی گفتگو مبہم نہیں ہے میں روتا ہوں جنوں کی بیکسی پر وداع ہوش کا ماتم نہیں ہے بجز اک عالم حسن تحیر نظر میں اب کوئی عالم نہیں ہے

مزید پڑھیے

طے نہ کر پائی منزلیں تتلی

طے نہ کر پائی منزلیں تتلی پھنس گئی میرے جال میں تتلی رات کے وقت جیب میں جگنو صبح تا شام ہاتھ میں تتلی اک نیا رنگ دیکھتی ہے آنکھ جب بھی لیتی ہے کروٹیں تتلی چوک میں ڈھونڈنے سے کیا حاصل ڈھونڈئیے جا کے باغ میں تتلی سو طرح کے فریب دیتی ہے سو بناتی ہے صورتیں تتلی ہاتھ جامدؔ جو آ ...

مزید پڑھیے

شامل کارواں نہ تھا راہ گزار تھا عجب

شامل کارواں نہ تھا راہ گزار تھا عجب راہ میں بھی غبار تھا سر پہ بار تھا عجب پیش نظر کھڑی رہی منزل جستجو مگر ہاتھ میں بھی سکت نہ تھی پاؤں میں خار تھا عجب ہار جو دوسروں کے تھے سانپ کی مثل تو نہ تھے تم نے مرے گلے میں جو ڈالا وہ ہار تھا عجب میرے لبوں پہ دہر کا شکوہ جو تھا فضول ...

مزید پڑھیے

پھیلی ہے دھوپ جذبۂ اسفار دیکھ کر

پھیلی ہے دھوپ جذبۂ اسفار دیکھ کر ہرگز ٹھہر نہ سایۂ اشجار دیکھ کر چل آ وہیں چلیں کہ جہاں شور و شر نہ ہو تنگ آ گیا ہوں گرمئ بازار دیکھ کر افواہ وہ اڑی تھی کہ میں کل بہت ہنسا روتا ہوں آج صبح کا اخبار دیکھ کر ایسا نہ ہو کہ قوم کا بیڑا ہی غرق ہو تقریر جھاڑ قوم کے معمار دیکھ کر جامدؔ ...

مزید پڑھیے

قہقہوں کی زد سے یہ گوہر چھپا

قہقہوں کی زد سے یہ گوہر چھپا اپنی دولت سب سے چشم تر چھپا آگ برسے گی ابھی کچھ دیر میں چھوڑ میری فکر اپنا سر چھپا وسعت عالم میں گنجائش نہیں مجھ کو اپنی ذات کے اندر چھپا کام آئے گا برے اوقات میں خانۂ دل میں ذرا سا شر چھپا اس خموشی کو سمجھ لوں احترام یا ترے دل میں ہے میرا ڈر ...

مزید پڑھیے

جن دنوں ہم اداس لگتے ہیں

جن دنوں ہم اداس لگتے ہیں جانے کیا کیا قیاس لگتے ہیں وہ اداکار ہیں خیال رہے جو بہت غم شناس لگتے ہیں بعض اوقات بد حواسی میں سب کے سب بد حواس لگتے ہیں مسکرانے کی کیا ضرورت ہے آپ یوں بھی اداس لگتے ہیں چند خوش فہم خوش لباسوں کو دوسرے بے لباس لگتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 4036 سے 4657