نہ پوچھ مجھ سے تو کیسے کہاں سے لڑنا ہے
نہ پوچھ مجھ سے تو کیسے کہاں سے لڑنا ہے زمیں پہ رہ کے مجھے آسماں سے لڑنا ہے ہماری ضد ہے کہ ہم کو فلاں سے لڑنا ہے سمجھ میں آتا نہیں ہے کہاں سے لڑنا ہے یہ شہریار ہی میرے چمن کا دشمن ہے اسی لئے تو غم بوستاں سے لڑنا ہے ہر ایک رات اسی فکر میں گزرتی ہے کہ صبح ہوتے ہی پھر جسم و جاں سے لڑنا ...