کبھی انگڑائی لے کر جب سمندر جاگ اٹھتا ہے
کبھی انگڑائی لے کر جب سمندر جاگ اٹھتا ہے مرے اندر پرانا اک شناور جاگ اٹھتا ہے نشیمن گیر ہیں طائر بھلا سمجھیں تو کیا سمجھیں وہ کیفیت کہ جب شاہیں کا شہپر جاگ اٹھتا ہے میں جب بھی کھینچتا ہوں ایک نقشہ روز روشن کا نہ جانے کیسے اس میں شب کا منظر جاگ اٹھتا ہے زمانہ گامزن ہے پھر انہی ...