شاعری

کبھی انگڑائی لے کر جب سمندر جاگ اٹھتا ہے

کبھی انگڑائی لے کر جب سمندر جاگ اٹھتا ہے مرے اندر پرانا اک شناور جاگ اٹھتا ہے نشیمن گیر ہیں طائر بھلا سمجھیں تو کیا سمجھیں وہ کیفیت کہ جب شاہیں کا شہپر جاگ اٹھتا ہے میں جب بھی کھینچتا ہوں ایک نقشہ روز روشن کا نہ جانے کیسے اس میں شب کا منظر جاگ اٹھتا ہے زمانہ گامزن ہے پھر انہی ...

مزید پڑھیے

کیا ہے میں نے ایسا کیا کہ ایسا ہو گیا ہے

کیا ہے میں نے ایسا کیا کہ ایسا ہو گیا ہے مرا دل میرے پہلو میں پرایا ہو گیا ہے وہ آئے تو لگا غم کا مداوا ہو گیا ہے مگر یہ کیا کہ غم کچھ اور گہرا ہو گیا ہے سواد شب ترے صدقے کچھ ایسا ہو گیا ہے بھنور بھی دیکھنے میں اب کنارا ہو گیا ہے میں ان کی گفتگو سے عالم سکتہ میں گم تھا وہ سمجھے ان ...

مزید پڑھیے

ایک سمندر آنسوؤں کا بھر چکا کمرے میں وہ

ایک سمندر آنسوؤں کا بھر چکا کمرے میں وہ اپنی بربادی کا ماتم کر چکا کمرے میں وہ اف یہ سناٹا یہ تاریکی یہ تنہائی کا خوف تیرے بن جیتے ہی جی ہے مر چکا کمرے میں وہ مجھ کو کچھ ایسا لگا کہ مر کے زندہ ہو گیا اپنے ہی سائے سے جیسے ڈر چکا کمرے میں وہ اب نہ بولو آپ کچھ اور نا ہی اب بولے ...

مزید پڑھیے

جسم کے اس کھنڈر کی تنہائی

جسم کے اس کھنڈر کی تنہائی اور یہ رات بھر کی تنہائی ایک تصویر بھی نہیں گھر میں اف یہ دیوار و در کی تنہائی کوئی آہٹ نہ کوئی سایہ ہے ہر قدم ہے سفر کی تنہائی ایک عالم کو ہے سمیٹے ہوئے میری فکر نظر کی تنہائی میری سانسوں میں بس گئی جیسے جان و دل کی جگر کی تنہائی کتنی بیزار ہے یہ ...

مزید پڑھیے

مرے دکھ کا تو اندازہ لگا دے

مرے دکھ کا تو اندازہ لگا دے خوشی کو اپنی خود ہی تو مٹا دے ہوا اترائے پھرتی ہیں جو خود پر اگر ہمت ہو سورج کو بجھا دے ستارے سسکیاں بھرتے ہے شب بھر کبھی تو آنکھ بھی غم کا پتہ دے دل بیمار کو رشک مسیحا جو ہو محبوب اب ایسی دعا دے مقابل سے چلا یہ کون اٹھ کر کے جیسے شمع دل کوئی بجھا دے

مزید پڑھیے

آئنہ روٹھ گیا ہے ترے جانے کے بعد

آئنہ روٹھ گیا ہے ترے جانے کے بعد اک اندھیرا سا بچھا ہے ترے جانے کے بعد کس قدر ٹوٹ کے برسے ہیں یہ بادل غم کے آسماں چیخ اٹھا ہے ترے جانے کے بعد دل کے ٹکڑے ہوئے برسات ہوئی اشکوں کی کیا کہوں کیا کیا ہوا ہے ترے جانے کے بعد ذہن بھی چپ ہے زباں چپ ہے نظر بھی چپ ہے ہم نے بھی کچھ نہ کہا ہے ...

مزید پڑھیے

تیرے رخسار سے جب جب ہے گزرتے آنسو

تیرے رخسار سے جب جب ہے گزرتے آنسو جسم و جاں میں میرے جیسے ہے اترتے آنسو زندگانی کے کئی رنگ دکھاتے ہیں یہ کیا کہوں کیا ہیں یہ پلکوں پہ ٹھہرتے آنسو جب بھی راتوں کو تری یاد کبھی آتی ہے سرد آہوں سے ہیں آنکھوں کو یہ بھرتے آنسو شبنمی صبح میں ماحول کو مہکاتے ہیں غنچہ و گل کی طرح ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

پورا نہ شب غم کا کبھی سلسلہ ہوا

پورا نہ شب غم کا کبھی سلسلہ ہوا وقت سحر اٹھا میں دعا مانگتا ہوا ہر ہر نفس میں لفظ محبت زباں پہ ہے مجھ میں نہ جانے کون ہے یہ بولتا ہوا پایا نہیں کسی نے بھی یہ راز کائنات وہ شخص کھو گیا ہے خدا ڈھونڈھتا ہوا اس سے چھپا نہ پائے گا تو اپنا حال دل آنکھوں کا آئنہ ہے ابھی بولتا ہوا بیمار ...

مزید پڑھیے

تو کرے جو فیصلہ آج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا

تو کرے جو فیصلہ آج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا مرے درد دل کا علاج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا ابھی جانے جانے کی ضد نہ کر یہاں روٹھا روٹھا ہے سارا گھر کبھی خوش تو میرا مزاج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا میں مریض ہوں ترے ہجر کا ذرا ہاتھ میں مرا ہاتھ لے تو غموں کا میرے علاج کر مری بات سن ...

مزید پڑھیے

اس عشق میں درکار کہانی ہے ضروری

اس عشق میں درکار کہانی ہے ضروری تم زخم عطا کر دو نشانی ہے ضروری اک بات ہے جو تجھ کو بتانی ہے ضروری پر ذہن میں میرے بھی تو آنی ہے ضروری کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو اب راہ کا جنگل لیکن مری منزل مجھے پانی ہے ضروری خشکی پہ ہوا رہنے نہ دے گی کوئی منظر آنکھیں ہیں مرے پاس تو پانی ہے ضروری

مزید پڑھیے
صفحہ 4017 سے 4657