مجھے وہ کھیل تماشا دکھائی دیتا ہے
مجھے وہ کھیل تماشا دکھائی دیتا ہے کہیں بھی کوئی جو ہنستا دکھائی دیتا ہے کبھی چہکتی تھیں صدیاں یہاں مگر اب تو اک ایک لمحہ سسکتا دکھائی دیتا ہے ہر ایک قطرۂ شبنم کو اگتے سورج کی کرن کرن میں اندھیرا دکھائی دیتا ہے بجز ہمارے مداوا کوئی نہیں اس کا وہ ایک دشت جو تنہا دکھائی دیتا ...