شاعری

جو خوں روتی ہے آنکھیں سارا منظر چیخ اٹھتا ہے

جو خوں روتی ہے آنکھیں سارا منظر چیخ اٹھتا ہے بچھڑ کر مجھ سے کوئی میرے اندر چیخ اٹھتا ہے کیا اس کا درد ہے کیا غم ہے کوئی اس سے پوچھے تو ایک ایسا شخص ہے راتوں کو اٹھ کر چیخ اٹھتا ہے اسے ہے خوب درد دل کی گہرائی کا اندازہ یہ آنسو دیکھ کر میرا سمندر چیخ اٹھتا ہے بھری دنیا میں تنہا بے ...

مزید پڑھیے

ہے جیسے روز دیوالی سی دنیا دنیا والوں کی

ہے جیسے روز دیوالی سی دنیا دنیا والوں کی ہمیں بھی چار دن کی زندگی ملتی اجالوں کی جدا غم ہے جدا خوشیاں جدا دن ہے جدا راتیں یہ دنیا ہی نرالی ہے محبت کرنے والوں کی زمانہ خوب صورت ہے زمانے میں حسیں لاکھوں مگر تصویر تو تم ہو مرے خوابوں خیالوں کی کبھی ترک محبت تم کرو سوچا نہ تھا میں ...

مزید پڑھیے

پہلے خود اپنے سامنے تم آئنہ کرو

پہلے خود اپنے سامنے تم آئنہ کرو عیبوں پہ دوسروں کے اگر تبصرہ کرو طے کرنا یہ محال ہے اپنے شعور سے جو بے وفا ہے ان سے کہاں تک وفا کرو ڈر ہے لپک نہ لے مجھے میری اداسیاں تم مسکرا کے مجھ میں اجالا کیا کرو اچھا نہیں کہا ہے خاموشی کو عشق میں ہم سے کہا کرو کبھی ہم سے سنا کرو

مزید پڑھیے

بارے غم فراق اٹھاتا رہا ہوں میں

بارے غم فراق اٹھاتا رہا ہوں میں شمع جلا جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں سارے جہاں کو دل سے بھلاتا رہا ہوں میں بس یاد تیری دل میں بساتا رہا ہوں میں دیوار و در کے دل کے نظر کے خیال کے ہر آئنے سے خود کو چھپاتا رہا ہوں میں نظریں اٹھا کے دیکھ بھی لے اک نظر مجھے اے دوست تیری بزم میں آتا رہا ...

مزید پڑھیے

کہنے لگی ہے مجھ سے ہوا کچھ ہوا تو ہے

کہنے لگی ہے مجھ سے ہوا کچھ ہوا تو ہے سننے میں آ رہی ہے سدا کچھ ہوا تو ہے محسوس کر رہا ہوں زمیں کی نمی کو میں دن رات رو رہی ہے ہوا کچھ ہوا تو ہے لڑکی اٹھا کے ہاتھ فلک دیکھنے لگی روٹھا ہوا ہے کیا یہ خدا کچھ ہوا تو ہے مدہوش ہو رہا ہوں بدن کو سنبھال تو کیا آ رہی ہے کوئی قضا کچھ ہوا تو ...

مزید پڑھیے

سب رنگ وہی ڈھنگ وہی ناز وہی تھے

سب رنگ وہی ڈھنگ وہی ناز وہی تھے اس بار تو موسم کے سب انداز وہی تھے بس عجز کی خوشبو کی جگہ کبر کی بو تھی لہجے میں ذرا فرق تھا الفاظ وہی تھے کیا جانیے کیوں اب کے مرے دل میں نہ اترے سر لے وہی آواز وہی ساز وہی تھے جو ننگ خلائق تھے جو دشمن تھے وطن کے سینوں پہ سجائے ہوئے اعزاز وہی ...

مزید پڑھیے

ویراں ویراں بام و در میں اور مری تنہائی

ویراں ویراں بام و در میں اور مری تنہائی تاریکی میں ڈوبا گھر میں اور مری تنہائی اس کے قد کی خال و خد کی صورت کی سیرت کی باتیں کرتے ہیں شب بھر میں اور مری تنہائی جانے کس دن وہ آ جائے بانٹے پیار اثاثے دروازہ کشکول نظر میں اور مری تنہائی ہجر رتوں کے خاموشی کے دل کی بیتابی کے ہیں اک ...

مزید پڑھیے

مخالفوں کے جلو میں وہ آج شامل تھا

مخالفوں کے جلو میں وہ آج شامل تھا وفا پرست رتوں کا جو شخص حاصل تھا وہ میری ذات کی پہچان بھی تعارف بھی مرے لہو میں بہ رنگ حیات شامل تھا حسین رات تھی ہاتھوں میں ہاتھ تھے ہم تھے کنار آب خموشی تھی ماہ کامل تھا تغیرات زمانہ بھی کیا عجب شے ہیں جو جاں نثار تھا پہلے وہ آج قاتل تھا مجھے ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کتنا فزوں ہے تیرے دیوانے کا دکھ

کیا کہوں کتنا فزوں ہے تیرے دیوانے کا دکھ اک طرف جانے کا غم ہے اک طرف آنے کا دکھ ہے عجب بے رنگیٔ احوال مجھ میں موجزن نے ہی جینے کی طلب ہے نے ہی مر جانے کا دکھ توڑ ڈالا تھا سبھی کو درد کے آزار نے سہہ نہ پایا تھا کوئی کردار افسانے کا دکھ خون رو اٹھتی ہیں سب آنکھیں نگار صبح کی بانٹتی ...

مزید پڑھیے

کشت احساس میں تھوڑا سا ملا لیں گے تجھے

کشت احساس میں تھوڑا سا ملا لیں گے تجھے پھر نئی پود کی صورت میں اگا لیں گے تجھے کیا خبر کام کا لمحہ کوئی ہاتھ آ جائے کاسۂ وقت کسی روز کھنگالیں گے تجھے اک فقط تیری توجہ سے ترے پیار تلک رفتہ رفتہ ہی سہی اپنا بنا لیں گے تجھے سرحد وقت کے اس پار تو جانے دے مجھے اے غم یار! وہاں پر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4018 سے 4657