شاعری

آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ

آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ حد سے نہ گزر ضبط میں اے ضبط نظر دیکھ مت پوچھ کہ کیا گزری دل شعلہ صفت پر اس دست حنائی میں مرا دامن تر دیکھ تو اس کا تمنائی ہے مت ڈر دل ناداں امید نہیں پھر بھی وہ کہتا ہے تو مر دیکھ یہ شہر ہے یا خیمہ ہے دشمن کا سپہ کا آواز کے زخموں سے لہو ہے مرا سر ...

مزید پڑھیے

حالات مری راہ میں حائل تو نہیں تھے

حالات مری راہ میں حائل تو نہیں تھے اس زندگی میں اتنے مسائل تو نہیں تھے یہ آج اچانک ہوئی کیوں ہم پہ توجہ وہ لطف و کرم پہ کبھی مائل تو نہیں تھے اک دوسرے سے دور نکل آئے ہیں ہم لوگ ہم بھی کبھی یہ فاصلے حائل تو نہیں تھے تو نے ہمیں شاید غلط انداز سے سوچا ہم تیرے تمنائی تھے سائل تو نہیں ...

مزید پڑھیے

نور افشاں ہے وہ ظلمت میں اجالوں کی طرح

نور افشاں ہے وہ ظلمت میں اجالوں کی طرح ہم نے پوجا ہے جسے دل سے شوالوں کی طرح خون امید ہوا خون تمنا گاہے دل چھلکتا ہی رہا مے کے پیالوں کی طرح زندگی تیرے تغافل کی بھی حد ہے کوئی اس قدر ناز نہ کر زہرہ جمالوں کی طرح جب فراموش کریں گے ہمیں دنیا والے اور ابھر آئیں گے ہم دل میں خیالوں ...

مزید پڑھیے

زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے

زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے دور تک بکھری ہوئی آواز ہے خامشی اس کی ہے مثل گفتگو ہر نظر جذبات کی غماز ہے کس طرح زندہ ہوں تجھ کو دیکھ کر زندگی مجھ پر تبسم ساز ہے جاں فزا نغمات کا خالق ہے یہ دل اگرچہ اک شکستہ ساز ہے اس طرح قائم ہے رقص زندگی ساز اس کا ہے مری آواز ہے کیا بتاؤں آج کے ...

مزید پڑھیے

یہ آئنہ تھا مگر غم کی رہ گزار میں تھا

یہ آئنہ تھا مگر غم کی رہ گزار میں تھا اٹا ہوا مرا دل درد کے غبار میں تھا قدم قدم پہ کئی رنگ کے تھے ہنگامے عجیب لطف ستم ہائے روزگار میں تھا نہ کر سکا میں فراموش اس کی کوئی بات مرا خیال کہ یہ میرے اختیار میں تھا جنوں کے دشت میں پیہم بھٹک رہا تھا دل مگر یہ ذہن حقائق کے کارزار میں ...

مزید پڑھیے

میں ہوں ایسے بکھرا سا

میں ہوں ایسے بکھرا سا جیسے خواب ادھورا سا دور دور تک پھیلا ہے یادوں کا اک صحرا سا بے شک آپ نہیں آتے کر دیتے کوئی وعدہ سا غم سے آنکھیں بوجھل ہیں دل بھی ہے کچھ بکھرا سا میں اس کی نظروں میں ہوں کاغذ کا اک ٹکڑا سا عقل و جنوں میں رہتا ہے کوئی نہ کوئی جھگڑا سا ان سے دل کی بات کہی بوجھ ہوا ...

مزید پڑھیے

یہ دیکھیں راز دل اب کون کرتا ہے عیاں پہلے

یہ دیکھیں راز دل اب کون کرتا ہے عیاں پہلے نظر کرتی ہے اظہار محبت یا زباں پہلے اگر ہو دیکھنا مقصود بربادی کا نظارہ جلا کر دیکھیے اک بار اپنا آشیاں پہلے پہنچ کر منزل ہستی پہ یہ احساس ہوتا ہے کہ گزرے ہیں یہاں سے اور بھی کچھ کارواں پہلے کئی معصوم کلیاں جو ابھی کھلنے نہ پائی ...

مزید پڑھیے

دل بے تاب کو بہلانے چلے آئے ہیں

دل بے تاب کو بہلانے چلے آئے ہیں ہم سر شام ہی مے خانے چلے آئے ہیں دل نے مشکل سے فراموش کیا تھا جن کو لب پہ پھر آج وہ افسانے چلے آئے ہیں بے بلائے تو یہاں رند نہ آتے ساقی یاد فرمایا ہے صہبا نے چلے آئے ہیں راہ مے خانہ سے غفلت میں گزر ہی جاتے دیکھ کر رقص میں پیمانے چلے آئے ہیں آج پینے ...

مزید پڑھیے

کشتئ دل نذر طوفاں ہو گئی

کشتئ دل نذر طوفاں ہو گئی ایک مشکل اور آساں ہو گئی صبح دم شبنم کو جانے کیا ہوا صحبت گل سے گریزاں ہو گئی اس نظر کی سادگی تو دیکھیے جو ترے جلووں پہ قرباں ہو گئی پھول کو حیرت زدہ سا دیکھ کر ہر کلی گلشن میں حیراں ہو گئی میرے پہلو سے وہ اٹھ کر کیا گئے دل کی دنیا سخت ویراں ہو گئی دل کی ...

مزید پڑھیے

ہنگامہ ہائے بادہ و پیمانہ دیکھ کر

ہنگامہ ہائے بادہ و پیمانہ دیکھ کر ہم رک گئے ہیں راہ میں مے خانہ دیکھ کر با احترام ساغر و مینا بڑھا دیئے ساقی نے میری جرأت رندانہ دیکھ کر پھر یاد آ گئی ہے تری چشم مے فروش محفل میں رقص بادہ و پیمانہ دیکھ کر حیراں ہوں ان کے دیدۂ حیراں کو کیا کہوں دیوانے ہو گئے مجھے دیوانہ دیکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4013 سے 4657