آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ
آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ حد سے نہ گزر ضبط میں اے ضبط نظر دیکھ مت پوچھ کہ کیا گزری دل شعلہ صفت پر اس دست حنائی میں مرا دامن تر دیکھ تو اس کا تمنائی ہے مت ڈر دل ناداں امید نہیں پھر بھی وہ کہتا ہے تو مر دیکھ یہ شہر ہے یا خیمہ ہے دشمن کا سپہ کا آواز کے زخموں سے لہو ہے مرا سر ...