شاعری

یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے

یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے جیسے آواز صبا دشت میں حیراں ہو جائے منتظر ہیں مری آہٹ کی بلائیں کتنی ایک مشکل تو نہیں ہے کہ جو آساں ہو جائے چاک دامن ہی زمانے سے نہیں ہوتا رفو اور اگر سینہ کبھی چاک گریباں ہو جائے پیچ در پیچ ہے یوں سلسلۂ زلف حیات ہاتھ لگتے ہی جو کچھ اور ...

مزید پڑھیے

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے زور دریا کا فقط بہنے میں ہے رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگ عافیت اب گھومتے رہنے میں ہے کہہ رہے ہیں لوگ اس سے بات کر جیسے وہ ظالم مرے کہنے میں ہے چھو لیا تھا درد کی زنجیر کو وہ بھی اب شامل مرے کہنے میں ہے عرشؔ وہ اپنی خدائی میں کہاں بات جو اس کو خدا ...

مزید پڑھیے

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا زہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا خود ان کے پاس جاؤں نہ ان کو بلاؤں پاس پایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا اپنی زباں کو آج وہ تاثیر ہے نصیب جس کو خدائے حسن کہا وہ خدا ہوا اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنی قاتل ہے میرے حجلۂ جاں میں چھپا ہوا جاں ہے تو ...

مزید پڑھیے

تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا

تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا وہ مجھے ہر شب نئے گھر کا پتہ دیتا رہا میں اسے ڈھونڈا کیا جسموں کی جنت میں مگر وہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا کب اسے رکنے کی فرصت تھی غرور حسن میں میں تعاقب میں رواں تھا میں صدا دیتا رہا جل رہا تھا خود ہی بے مائیگی کی آگ میں میں اسی دامن ...

مزید پڑھیے

ہم کبھی چشم زمانہ میں نہ پنہاں ہوں گے

ہم کبھی چشم زمانہ میں نہ پنہاں ہوں گے ہم ہر اک دور میں ہر دل میں نمایاں ہوں گے درد بن کر نفس جاں میں سما جائیں گے سوز بن کر حرم دل میں فروزاں ہوں گے ہم خزاں ہو کے بھی ہیں رونق بزم عالم ہم نہ ہوں گے تو کہاں جشن بہاراں ہوں گے ہم جلیں گے کہ ترے نام کی لو روشن ہو ہم بہ ہر رنگ تری زیست ...

مزید پڑھیے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے تو مثل رگ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے تو اہل نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر کیوں پہلو میں ترے کوئی زمانے سے کھڑا ہے لکھا ہے مرا نام سمندر پہ ہوا نے اور دونو کی فطرت میں سکوں ہے نہ وفا ہے میں شہر و بیاباں میں تجھے ڈھونڈ چکا ہوں بے درد تو کس حجلۂ ...

مزید پڑھیے

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں تم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کر کس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں ہاں میں سایہ ہوں کسی شے کا مگر یہ بھی تو دیکھ گر تعاقب میں نہ ہو سورج تو مر جاتا ہوں میں ہاتھ آنکھوں سے اٹھا کر ...

مزید پڑھیے

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا جو سر پہ بار تھا اندیشۂ سزا نہ گیا خموش ہم بھی نہیں تھے حضور یار مگر جو کہنا چاہتے تھے بس وہی کہا نہ گیا پلٹ کے دیکھنے کی اب تو آرزو بھی نہیں تھی عاشقی ہمیں جب خوب، وہ زمانہ گیا رہے مصر کہ اٹھا دیں وہ انجمن سے ہمیں ہم اٹھنا چاہتے بھی تھے مگر اٹھا نہ ...

مزید پڑھیے

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا محمل دل سے نکل سر کو ہوا تازہ لگا دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا ہر طرف سے آئے گا تیری صداؤں کا جواب چپ کے چنگل سے ...

مزید پڑھیے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے تو مثل رگ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے تو اہل نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر کیوں پہلو میں ترے کوئی زمانے سے کھڑا ہے لکھا ہے مرا نام سمندر پہ ہوا نے اور دونوں کی فطرت میں سکوں ہے نہ وفا ہے شکوہ نہیں مجھ کو کہ ہوں محروم تمنا غم ہے تو فقط اتنا کہ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4012 سے 4657