یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے
یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے جیسے آواز صبا دشت میں حیراں ہو جائے منتظر ہیں مری آہٹ کی بلائیں کتنی ایک مشکل تو نہیں ہے کہ جو آساں ہو جائے چاک دامن ہی زمانے سے نہیں ہوتا رفو اور اگر سینہ کبھی چاک گریباں ہو جائے پیچ در پیچ ہے یوں سلسلۂ زلف حیات ہاتھ لگتے ہی جو کچھ اور ...